واشنگٹن کے بیجنگ سے تناؤ کی وجہ سے پاکستان کے امریکا سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں
اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان کی امریکا اور برطانیہ میں سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ واشنگٹن کے بیجنگ سے تناؤ کی وجہ سے پاکستان کے امریکا سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں تاہم پاکستان بڑی طاقتوں کی کشمکش سے دور رہنا چاہتا ہے جو کہ ایک مشکل کام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک چین کے امریکا سے تعلقات بہتر نہیں ہوتے پاکستان کو ایک مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملیحہ لودھی نے واشنگٹن کے ادارہ یونائیٹڈ اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان کے لیے ایک نئی صورتحال سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بھارت سے تعلقات بھی ایک نئی صورتحال سے دوچار ہیں تاہم پاکستان بڑی طاقتوں کی کشمکش سے متاثر ہو رہا ہے اور اس وقت پاکستان کے لیے پڑوسی ملکوں سے تعلقات بھی ایک چیلنج ہیں۔
امریکا اور چین کے تناؤ کی وجہ سے پاکستان پر مسلط کردہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان کے لیے نیا امتحان ہوگا۔مگر ان تمام حقائق کے باوجود پاکستان کے چین سے تعلقات پھر بھی مثالی رہیں گے۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا اس تمام صورتحال میں سی پیک پر پیش رفت ایک مثالی منصوبہ لگتا ہے۔قبل ازیں ایک بیان میں ملیحہ لودھی نے کہا تھا کہ سازش کا کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں، بار بار دہرانے سے الزام سچ نہیں ہو جائے گا۔
انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عسکری قیادت نے سازش کی تردید کی ہے تو وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحقیق کی بنیاد پر ہے۔یہ جھوٹ ہے کہ امریکا نے جو کہا ہم نے مانا۔ ایسا ہوتا تو پاکستان جوہر طاقت نہ بنتا۔جب کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز کا کہنا ہے کہ فوج کو متنازع بنانا ملک کے ساتھ زیادتی ہے، پی ٹی آئی سازش کا موضوع چھوڑ کر آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری طریقے سے انہیں نکالا گیا تو انہیں بھی سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا چاہئیے۔