لاہور (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی 15 دسمبر کے بعد تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبے کی حکمران جماعت کے فیصلے پر اپوزیشن نے بھی نئی سیاسی حکمت عملی تیار کرلی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی 15 دسمبر کو تحلیل کرنے کے فیصلے پر اپوزیشن نے نئی سیاسی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اپوزیشن جماعتوں فی الحال انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر چلتے ہوئے اس وقت سیاسی کارڈ شو نہیں کرے گی۔
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل مؤخر ہونے کے فیصلے کے پیش نظر اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد لانے اور گورنر کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔
ادھر وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی سے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے ملاقات کی، ملاقات میں سابق وفاقی وزیر مونس الہٰی بھی شریک تھے، ملاقات میں سیاسی صورتحال پرتفصیلی مشاورت کی گئی، پنجاب اسمبلی کے قواعد وضوابط اور دیگر قانونی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں آئینی صورتحال کے ٹیکنیکل پہلوؤں پر غور کیا گیا، اپوزیشن کے غیرآئینی ہتھکنڈوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
- Advertisement -
اس موقع پر وزیراعلیٰ چودھری پرویزالہٰی نے کہا کہ عمران خان کیساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، جس کا ساتھ دیتے ہیں اس کا ساتھ نبھاتے ہیں، پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے عمران خان کے اشارے کے منتظر ہیں، اپوزیشن والوں کے نمبر کم ہیں اور باتیں زیادہ کرتے ہیں، 27 کلومیٹر کے وزیراعظم کے پاؤں تلے سے زمین سرک رہی ہے۔ اس دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں متحد اور متفق ہیں، عمران خان لیڈر ہیں اور رہیں گے۔ جب کہ چودھری مونس الٰہی نے کہا کہ عمران خان قوم کے حقیقی لیڈر ہیں، ان جیسا رہنما مدتوں میں ملتا ہے، غلط فہمیاں پیدا کرنے والے ہمیشہ کی طرح ناکام ہوں گے، پنجاب اسمبلی اوروزارت اعلیٰ عمران خان کی امانت ہے۔