آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے نجات حاصل کر سکتے ہیں
۔۔۔۔محمد امانت اللہ
موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے پر مجبور ھے صرف ایک ارب ڈالر کے حصول کے لیے جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں اوورسیز پاکستانیوں نے ایک سال کی مدت میں 6۔4 ارب ڈالرز کی ترسیل کی ھے
آئی ٹی سیکٹر میں پاکستان نے 6۔24 فیصد ترقی کرتے ہوئے 4۔2 ارب ڈالرز کا بزنس کیا ھے ایک سال کی مدت میں۔
حکومت اگر اوورسیز پاکستانیوں اور آئی ٹی سیکٹر کو مزید مراعات دے تو ملکی معیشت مستحکم ہو سکتی ھے
بھارت نے ایک سال میں آئی ٹی سیکٹر میں ایک ٹرلین ڈالر کا بزنس کیا ھے جو کہ ملکی معیشت کا 10 فیصد بنتا ھے
- Advertisement -
بھارت ، بنگلہ دیش اور نیپال اپنے اوورسیز کے لیے بہت سی سہولیات فراہم کر رہی ہیں
موجودہ حکومت نے آتے ہی اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق سلب کر دیا ھے جنکا نعرہ تھا ووٹ کو عزت دو
اگر حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا تو زرمبادلہ کی ترسیل میں یقینی طور پر کمی واقع ہو گی اور پاکستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے
حکومت منظم طریقے سے کمپین چلائے جس میں اوورسیز پاکستانیوں کو بزنس کرنے، انکے بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں تو ترسیل زر میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ھے۔
اسطرح ہم آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے قوم کو محفوظ رکھ سکیں گے۔