بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گٸ اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
تحریر: ایم اسلم گدور ڈان بیلہ،لسبیلہ
- Advertisement -
آج سے 7 برس قبل 15 دسمبر 2015 کی رات کو میرے موباٸل کے میسج کی گھنٹی بجتے ہی جب میں نے میسج دیکھ لی تو میرا ہوش تارتار ہوگیا اس دن آواران کے بے سہاروں کے سہارہ ”ڈاکٹر شفیع بزنجو“ پورے آواران کو الوداع کہہ کر اگلے جہان فانی کی جانب رخصت کر گٸے۔ میں نے بذات خود نہ انہیں قریب سے دیکھا تھا اور نہ ہی قریب پایا مگر اُس ہیرو کی جھاٶ آواران میں بطور معالج خدمات و کارکردگی کو سن کر آج اُس کی 7ویں برسی پر کچھ الفاظ اُس کے نام کرنے کی جسارت کرکے بیان کرنے لگا ہوں کیوں کہ وہ خود تو ہمارے درمیان نہیں رہے مگر جو قرض ہم پر اُن کی خدمات کو آپ حضرات کے سامنے بیان کرنے کا ہے وہ اللہ پاک سے دعا ہے کہ میں تاحیات ادا کرتا رہوں۔
آواران کے ایک دل وش،وش زبان و عظیم شخصیت (ڈاکٹر شفیع بلوچ مرحوم) 15 دسمبر 2015 کو اس عارضی دنیا سے رخصت کرکے اگلے جہاں کی جانب کُوچ کر گۓ۔ یہ واحد شخص تھا جو بطور معالج،بطور انسانی خدمتگار،جسے بہت کچھ کرنا تھا۔ ایک ایسا انسان جس کو انسانیت کی خدمت میں اس حد تک جنون میں رہا کہ اُس نے اپنے سارے گھریلو کاموں کو بالاۓ طاق رکھ کر اشرف المخلوقات کی خدمت کو اپنے زندگی کا لازماً جُز یعنی نصب العین بنا کر اُس کا حق ادا کیا۔
ڈاکٹر شفیع بلوچ 1980 کو تحصیل جھاٶ ضلع آواران میں عبدالستار کے گھر پیدا ہوۓ ابتداٸی تعلیم اپنے گاٶں جبکہ ایف ایس سی کی ڈگری آواران کالج سے حاصل کی۔ عموماً یہ تھا کہ والدین کا خواہش تھا کہ بیٹا ایک اچھا ماہر تعلیم بن کر قوم کے نونہالوں کی مستقبل کا ذمہ لےلے مگر انہوں نے اپنے معاشرے کو دیکھ کر معالج کی فیلڈ کو انتخاب کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ ایک ایسا معاشرہ جہاں ڈاکٹر بڑے شہروں، بڑے ہسپتالوں اور دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں اور اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مرد مجاہد نے ان حالات و سسٹم کو مدنظر رکھ کر بولان میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرکے اپنے عوام کی خدمت کرنا چاہتے تھے مگر جلد ہی اللہ پاک کو پیارے ہو گۓ۔
ڈاکٹر شفیع جان بلوچ ایک مثبت سوچ اور ہر وقت خدمت خلق کے موڈ میں ہوتے تھے جس کے کردار سے لوگ متاثر ہوکر ہر وقت تعریفیں کر رہے ہوتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب خود ذیابیطس کے مریض تھے مگر انہوں نے کبھی اس بیماری کو خود پر حاوی ہونے نہیں دیا۔ ایک ایسا علاقہ جہاں کوٸی ڈاکٹر جانے کو تیار نہیں تھا اپنی بے شمار صلاحیتوں و محنت کے ذریعے اُس علاقے کا انتخاب کرکے جھاٶ آواران میں برسوں سے خالی اس خلا۶ کو پر کرنے میں کامیاب ہوکر اپنا نام تاریخ میں رقم کر لیا۔ کٸی ایسے مریض بھی ہوتے تھے جن کے پاس ڈاکٹروں کی فیسیں اپنی جگہ دواٸیاں لینے کیلیے پیسے تک نہیں ہوتے تھے۔ مگر وہ ڈاکٹر شفیع کے پاس آ کر اپنا مفت علاج کراتے تھے نہ صرف مفت علاج بلکہ ڈاکٹر صاحب اپنی ہی جیب سے اُن کیلیے دواٸیاں لینے کیلیے پیسے فراہم کرتے تھے۔ یہی ہوتی ہے دراصل خدمت خلق جسے اِس مردمجاہد نےمعالج کی شکل میں ادا کیا۔
وہ اپنے گھر سے نکل کر ہسپتال (جہاں ڈیوٹی تھا) جاتے ہوۓ انہیں تین سے چار گھنٹے گزارنے پڑتے تھے ایسا نہیں کہ ہسپتال دور تھا جس کی لگاتار سفر میں چار گھنٹے لگتے تھے بلکہ راستے میں اشرف المخلوقات کی خدمت میں ٹاٸم گزر جاتا تھا راستے میں جو بھی اس کو کسی بھی صحت کے مسٸلے کے صورت میں روک لیتا تھا تو کسی کے ساتھ ”نہ“ کا لفظ استعمال نہیں کرتے تھے جو کہ اسی وجہ سے پورے آواران میں لاتعداد ستاروں میں ایک چاند کی طرح مشہور و روشنی فراہم کر رہے تھے۔ اور جس کے بھی گھر جاتے پورے گوٹھ کے مرد خواتین مریض وہاں جمع ہو جاتے تھے اور سب کا ہی علاج کرتے مگر کبھی تھکاوٹ کا لفظ زبان پر استعمال نہیں کرتے کہ کوٸی ناراض ہو اور ہمیشہ مریضوں کے ساتھ ہنسی مذاق و مُسکراہٹ کے ساتھ ملتے۔ وش زبانی و ہنسی مذاق کی وجہ سے مریضوں کے آدھے مرض خودبخود ختم ہو جاتے تھے۔ اور جب شہید ہوگیا تو اُس وقت آخری دیدار میں بھی مردمجاہد کا چہرہ ایسے لگ رہا تھا جیسا ایک پھول سا چہرا مسکرا کر کہ رہا ہو کہ میں امر ہو گیا
ڈاکٹر شفیع بلوچ کی وفات کی خبر جھاٶ آواران میں آناً فاناً پھیل گٸی تھی۔ راتوں رات ہزاروں لوگ اُس کےگھر پہنچ گٸے تھے آواران کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مزدور اُس دن کے مزدوری پر نہیں گٸے پورے ضلع آواران میں سوگ کا سماں تھا ٹڑانچ و ہنگول سے لیکر مشکے، کریم داد کحور شیرین فرہاد تا کولواہ مادگیں قلات سمیت اہل آواران تمام دکانیں،ہوٹلیں،کبین وغیرہ بند تھے ٹرانسپورٹرز اور وہاں کے گھروں میں، اور خصوصاً ٹریکٹر ڈراٸیورز نے ڈاکٹر شفیع بلوچ مرحوم کے احترام میں پورا ایک ہفتہ ٹیپ ریکارڈز،میوزک،گانے بند رکھے ڈاکٹر شفیع مرحوم کے جنازے میں لوگوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی آواران کی تاریخ میں ایک سیاہ رقم دن تھا۔ آواران کی تاریخ میں اس ڈاکٹر(مرحوم) کو جو مقامی لوگوں کی جانب سے جو محبت و احترام ملا تھا وہ کسی اور ڈاکٹر کو شاید اتنا نہیں ملا ہو آج بھی لوگ اُس کے نام کو صرف سن کر اتنا پریشان ہو جاتے ہیں جیسے آج ہی وفات پا گیا ہو کیونکہ اُن کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اُس کو پُر کرنا ناممکن تو نہیں مشکل ضرور ہے کیونکہ ڈاکٹر بننے میں تو تین، چار سال لگتے ہیں مگر اُس کی طرح لوگوں کے دلوں میں راج کرنا سدوں میں یک پیدا ہوتے ہیں ڈاکٹر صاحب جیسی شخصیات شاذ و نادر پیدا ہوتے ہیں جب اللہ رب العزت اُن کو بھلا لیتا ہے تو اُن کا نعم البدل نا ممکن نہیں مشکل ضرور ہوتا ہے۔