MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

حب اور لسبیلہ میں بھوتانی برادران کا بیانیہ الگ الگ ہے، جام کمال

0 224

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

حب(مسائل نیوز) سابق وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا ہے کہ حب میں اپنے ووٹرز اور حامیوں کو مخالفین کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑیں گے بلکہ ہم حب میں بیٹھ کر ڈنکے کی چوٹ پر سیاست کریں گے حب کے 11ہزار ووٹرز نے ہمارے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیکر ہم پر اعتماد لا اظہار کیا ہے جوکہ حوصلہ افزا بات ہے جس پر ہم انکے شکر گزار ہیں یہ بات انھوں نے گزشتہ روز حب آمد پر پارٹی ورکرز اور کامیاب امیدواروں اور بلدیاتی الیکشن میں اپنے اتحادی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں رجب علی رند و دیگرسے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جا م کمال خان نے کہا کہ ہم انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے لیکن مخالفین نے اس پر ریکارْڈ قائم کیا بھوتانی برادران کے حب او ر لسبیلہ کے حوالے سے بیانیہ میں فرق واضح ہے لسبیلہ میں لسبیلہ اتحاد اور حب میں صرف حب کارڈ کھیلتے ہیں انھوں نے کہاکہ بلدیاتی الیکشن ہمارے ایک محاذ اورجنگ تھا جہاں پر دو پارٹیاں ایک طرف اوردوسری جانب چھ سے سات پارٹیوں کا اتحا د تھا اور وہ پارٹیاں جو صاحب اقتدار ہوں بلدیہ کے وزیر بھی ہوں وفاق اور صوبے میں بھی وزارتیں ہوں اور پھر پوری ایڈمنسٹریشن وغیرہ کو دیکھتے ہوئے ایک ہجوم تھا جو ہماری مخالفت میں کام کررہا ہو ہم سمجھتے ہیں حب کے لوگوں نے ہیں بلدیاتی الیکشن میں ہمیں کامیابی دی ہے مخالفین نے بلدیاتی جتنی سیٹیں جیتی ہیں انہیں مجموعی طور پر 10ہزار700 ووٹ ملے ہیں ہماری مشترکہ 14سیٹوں میں اور ہمارا ووٹ بینک 11ہزار سے زائد ہے اس کا یہی مطلب ہے حب کے عوام کی اکثریت نے ہمیں ووٹ دیا ہے کیونکہ گیار ہ ہزار ووٹ دس ہرازسات سو ووٹوں سے زیادہ ہیں فرق صرف یہ ہے کہ سیٹ وائز مخالفین کی اکثریت زیادہ ہے جام کمال خان نے کہا کہ حب کے لوگوں کا بڑا مشکور ہوں جنہوں نے ہمارے الائنس کے امیدواروں کو کامیاب کرایا انھوں نے کہاکہ اگر بلدیاتی الیکشن میں سنگل سنگل پارٹیاں حصہ لیتی تو میرے خیال میں حب کے لوگوں نے فیصلہ دے دیا ہے بھوتانی صاحب اور اختر مینگل،جے یو آئی،پیپلزپارٹی پھر انکی ایڈجسٹ کسی نہ کسی پارٹی سے ہوئی پھر انکا مشترکہ امیدوار کھڑا ہوا اور سیاست میں غلطیاں ہوتی ہیں بعض وارڈ ز میں ہمارے دو سے تین امیدوار آمنے سامنے کھڑے رہے ہیں اور الحمد اللہ حب کے عوام نے جام گروپ اور نیشنل پارٹی الائنس کو ووٹ دیا ہے جس پر ہم انکے شکر گزار ہیں ایک سوال کے جواب میں جام کمال خان نے کہاکہ بلدیاتی الیکشن کے دوران پورے حب میں صرف ایک مرتبہ آئے اور ایک جلسہ کیا اور لوگوں کا مشکور ہوں جو بڑی تعداد میں جلسہ میں شریک ہوئے اور ہوم ورک نہ ہونے کے باوجود لسبیلہ کے لوگوں کی چاہت ہے کہ انہوں نے ہم پر اعتماد کا اظہار کیاجب لسبیلہ میں سیلاب ہوا تو حب،وندر،لاکھڑا،اوتھل بیلہ سمیت مختلف متاثرہ علاقوں میں وہ نظر آئے اور دو مہینے دن اپنے لوگوں کے درمیان تھا الیکشن کے دنوں کے میں وہ یہاں نہیں آئے بلکہ مشکل و مصبیت کی گھڑی میں اپنے لوگوں کے درمیان گئے جبکہ الیکشن کے وقت ہر کوئی لوگوں کے درمیان کھڑا ہوتا نظر آئے گا لیکن ہم نے ایک ماہ تک ا ن لوگوں کو کہیں نہیں دیکھا جو الیکشن کے دنوں نظر آرہے تھے اور لسبیلہ کے ہر گلی محلوں میں دکھائی دیتے تھے اب لسبیلہ کے لوگوں کو سوچنا چاہئے کون حقیقی معنوں میں ان کے غم میں درد رکھتے ہیں اور وہ کون لوگ ہیں او ر الیکشن کیلئے بنایا گیا لسبیلہ عوامی اتحاد اس وقت کہا ں تھاجب سیلاب کے سبب مشکلات آئیں حب کا پل مہندم ہو گیا حالانکہ جو مشترکہ جماعتوں کا الیکشن میں اتحاد بنا ہے جن وفاقی میں وزراتیں ہیں اور حکومت کی اتحادی بھی ہیں اور روڈ بلڈنگ اور NHAاور انرجی کی وزارت ہے اور صوبائی سطح پر پوری حکومت ان کے پاس ہے بلخصوص بلدیہ کی وزارت انکے پاس ہے افسوس کا مقام ہے کہ سیلاب کو ہوئے پانچ ماہ گزر گئے لسبیلہ ہائی وے کے مختلف مقامات پر پلیں ٹوٹی ہوئی ہیں اب تک ویسے کے ویسے ہیں ایک سوال جواب میں جام کمال خان نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن میں حب کے عوام نے 11ہزار سے زائد ہمارے امیدواروں کو وو ٹ دیکر ثابت کردیا ہے عوام کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے وندر شہر کے لوگوں نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے وہاں بھی ہمیں اکثریت ملی ہے جبکہ گڈانی میں کمزروریاں ہوئی ہیں مجوعی طور پر حب میں عوام کا ریفرنڈم ہمارے حق میں آیا ہے بلدیاتی الیکشن میں قبائلی کارڈ کھیلنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جام کمال خان نے کہاکہ سردار شبہاز محمد حسنی میر رامین محمد حسنی کے بڑے بھائی ہیں اور شہزاد بھوتانی کے ساتھ الیکشن دفتر کے فتتاح کرتے دکھائی دیئے انھوں نے کہاکہ مخالفین کی سیاست پر افسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس ایک نہ ایک سلوگن ہو تا ہے لیکن انہیں پتہ نہیں ہوتا وہ کیا کہنا چاہتے ہیں کبھی لسبیلہ کو تو ڑنے کی بات کرتے ہیں تو حب میں آتے ہی حب کارڈ کھینے لگتے کرتے ہیں جب بیلہ میں تقریر کرتے ہیں تو لسبیلہ اتحاد کا نام لیتے ہیں جبکہ ادھر آتے ہیں تو شہر کی ترقی کے نعرے لگاتے ہیں اب جو بھی ان کے ہاتھ آئے وہ سلوگن کھیلیں گے الحمد اللہ ہماری فیملی نے زندگی بھر سیاسی کارڈ استعمال کیا اور نہ ہی قبائلی و بدمعاشی کا کارڈ استعمال کیا ہے ہمیں معلوم ہے مخالفین کی جانب سے ٹیچرز سے لیکر ڈسپنسر اور SHOsسے لیکر سپاہوں کو کہاں کہاں ٹرانسفر کرتے رہے ہیں پہلی مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ ایک لیویز سپاہی کو لسبیلہ سے ڈیرہ بگٹی ٹرانسفر کردیا گیا ایک اور آفیسر کو بلوچستان کے کسی اور ضلع میں ٹرانسفر کرایا گیا کسی کو آواران بھیجا گیا لیکن الحمد اللہ اس طرح کا کلچر ہم نے کبھی نہیں اپنا یا جو مخالفین کر رہے ہیں انھوں نے کہاکہ بلدیاتی الیکشن میں حب کے عوام نے ہمارے کونسلرز کو 11ہزار سے زائد ووٹ دیکر انھوں نے سردار صالح بھوتانی اور انکی ٹیم کومسترد کردیا ہے انھوں نے کہاکہ حب وندر میں بہت سے جگہ پر غلط وارڈز بنائے گئے ہیں وندر کے اندر ایک وارڈ ز چار ہزار کے ووٹر ز پر مشتمل ہے اور ادھر ایک ایساوارڈ ہے جو 250اور 80وو ٹ پر مشتمل ہے حب میں ایسے وارڈ ز موجود ہیں اور ماسٹر پلاننگ کے تحت وارڈز بنائے گئے ہیں انھوں نے کہاکہ مخالفین کی جانب سے کہا جاتا ہے قبائلی کارڈ کھیلا گیا ہے لیکن اب حب میں تاش کارڈ کھلیں گے ہم ہر لحاظ سے تیاری پکڑی ہیں آپ یہ نہ سمجھیں وزرات اور دیگر طریقوں سے لوگو ں کو بلیک میل کرینگے ہم کسی بھی مخالف کے ساتھ وہ طریقہ نہیں کرینگے جو آپ کرتے ہوئے ہم ڈنکے چوٹ پر اس شہر میں بیٹھ کر سیاست کرینگے جو گیار ہ ہزار لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا ہے ان کو انکے حوالے سے طرح نہیں کر سکتے کہ وہ بے یارو مدد گار ہوں انشاء اللہ ادھر بیٹھ کر حب کی مالکی کرینگے یہاں کے بزر گ نوجوان ہمارے ساتھ ہیں انھوں نے کہاکہ مخالفین کے صفوں میں کہیں ایسے لوگ ہیں جو ہمارے پاس آنا چاہتے ہیں انھوں نے کھلا کہا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ آنا چاہتے ہیں لیکن مجبور ہیں انکے پانی تو کہیں کریش کے ٹھیکے ہیں اور آنے والے دو تین ماہ میں حب میں بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔

- Advertisement -

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.