عمران خان برائے نام وزیر اعظم تھے؟ اصل حاکم بشریٰ بی بی تھیں! دی اکنامسٹ کے حیران کن انکشاف
نیویارک (مسائل نیوز)معروف عالمی جریدے دی اکناموسٹ (The Economist) نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی نے ان کی سیاسی حکمت عملی پر گہرا اثر ڈالا ہے جس سے غیر معمولی اثرات مرتب ہوئے۔
دی اکناموسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی نے ان کی ذاتی زندگی اور سیاسی حکمت عملی پر گہرا اثر ڈالا۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے پی ٹی آئی کو کرپشن کے خلاف ایک تحریک کے طور پر پیش کیا تھا لیکن بشریٰ بی بی کی موجودگی نے پارٹی اور حکومت کے فیصلوں میں غیر معمولی اثرات پیدا کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی جو پنجاب کی ایک صوفیانہ اور روحانی شخصیت ہیں عمران خان کے روزمرہ کے فیصلوں سے لے کر حکومت میں تقرریوں تک ہر معاملے میں اثر انداز ہوتی رہیں۔ ان کے مطابق خواب، چہرے کی تعبیر اور روحانی رسومات کو حکومت کے اہم فیصلوں میں بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔
سابق اسٹاف کے دعوے کے مطابق بنی گالا میں بری روحوں کو دفع کرنے کے لیے جانوروں کے گوشت، سر اور جگر کی رسومات بھی کی جاتی تھیں، جو قیادت کے ارد گرد ایک خرافاتی ماحول کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک سابق کابینہ رکن نے کہا کہ بشریٰ بی بی کا حکومت کے معاملات میں مکمل دخل اندازی تھا۔
- Advertisement -
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ عمران خان کے ملاقاتوں کے شیڈول، سرکاری امور اور حتیٰ کہ پرواز کے اوقات بھی بشریٰ بی بی کی منظوری سے طے ہوتے جس سے پارٹی کے اندر خوف اور بے یقینی پھیل گئی تھی۔
کچھ اہم پارٹی حامیوں جیسے جہانگیر ترین نے مبینہ طور پر جادو ٹونے کے استعمال پر تشویش ظاہر کی جس کے بعد وفادار افراد کو پارٹی سے الگ کر دیا گیا۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پارٹی کے فیصلے ادارہ جاتی نظام کے تحت نہیں بلکہ ذاتی پسند یا ناپسند کے تحت ہوتے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی 2018 میں فتح میں فوج اور آئی ایس آئی کی مدد شامل تھی جو پی ٹی آئی کے انقلابی احتسابی تحریک کے نعرے کے برعکس ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایس آئی کے کچھ عناصر نے بشریٰ بی بی سے وابستہ روحانی شخصیات کے ذریعے عمران خان کو معلومات فراہم کیں جس سے ان کے روحانی اعتقادات کو مزید تقویت ملی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ہٹایا گیا جب انہوں نے بشریٰ بی بی کے گرد مبینہ کرپشن کی نشاندہی کی۔ یہ اقدام عمران خان کے اصولی سیاست کے دعوے کے برعکس قرار دیا گیا۔
آخر میں رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ عمران خان بڑے انتخابی وعدے جیسے لاکھوں گھر اور روزگار فراہم کرنا پورے نہیں کر سکے اور بعد میں خود بھی تسلیم کیا کہ یہ ایک مدت میں ممکن نہیں تھا۔