MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سردار محمد صالح بھوتانی اور بلوچستان عوامی پارٹی

1 223

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر =فرید بگٹی

اللہ پاک نے حضرتِ انسان کو اشرفالمخلوقات بنایا اور ساتھ ساتھ ساتھ وہ شرف جو انسانوں کو بخشی گئی وہ کسی اور مخلوق کو میسر نہ ہوئ میرے رب نے لاتعداد جہانوں میں لاتعداد مخلوق بسائی ہوئی ہے یہ وہ تخلیق ہے جو رب کے بنائے ہوئے قائنات کے ذینت ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کیلے انگنت فرشتے بھی بنائے ہیں جو خدا کی عبادت سے ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہتے اس مخلوق (فرشتوں) کو صرف مثبت  کام کیلے ہی بنایا گیا ہے نہ ان میں شہوت کا عنصر پایا جاتا ہے اور نہ لالچ الغرض یہ صرف اور صرف رب کی رضا پر راضی ہوکر فقط عبادت کیلے خود کو وقف کئیے ہوئے ہیں  دوسرے جانب انسان میں ذاتِ پاک نے بہت سی خصلتیں رکھی ہیں جیسے  کہ انہیں اس دنیا میں اپنی خود مختاری سوچ سے نوازا گیا بدی کا بد اور اچھے کا اچھا سارا رہن سہن آن کے اپنی مرضی پر رکھ دی اور پھر یہ بھی کہا کہ تم نے واپس میرے ہی  طرف لوٹ کے آنا ہے یعنی یہ اطلاع بھی دے دی کہ زندگی ان اصولوں پر گزاریں جن کی تلقین میں یا میرے کسی

برگزیدہ نے کئیے ہوں مثلاً میری عبادت اور خلقِ خدا پر شفقت
تم میری واحدانیت کی پرچار کرتے رہو میں کافر پیدا کرتا رہونگا تم بھوکوں کو کھانا کھلاتے رہو میں یتیم پیدا کرتا رہوں گا یہ سب اللہ پاک کی رازوں میں سے راز ہیں جن کی حکمت یا تو وہ شخص جان سکتا ہے جو ان کے نزدیک چنیدہ ہو یا پھر آخرت میں دورِ میزان خود پوچھنا ہوگا کہ اے ذاتِ پاک آپ کے اس عمل میں کیا حکمت تھی لیکن لیکن یہاں قابل غور بات یہ کہ رب تعالیٰ نے خود کو ان تمام عناصر سے پاک رکھا جو اپنے بندے میں رکھے مثلاً بھوک۔شہوت۔کوشش۔نتیجہ ۔لالچ وغیرہ وغیرہ باوجود ان تمام عناصر سے پاک ہونے کے پھر فرماتا ہے کہ اے میرے بندے میں بیمار ہوا آپ میرے تیمارداری کرنے نہیں آئے ؟ مجھے بھوک لگی اور تم صاحبِ حثیت ہونے کے باوجود تم نے کھانا نہیں کھلایا ؟
بندہ شرمندہ ہوکر حیرانگی کی عالم میں پوچھے گا مولا آپ بیمار کب ہوئے ؟ آپ کو بھوک کب لگی ؟ آپ تو ان سے پاک ہیں
یہاں جواب قابلِ غور ہے کہ اللہ فرمائے گا کہ میں تو بیمار نہیں تھا پر فلاں بندہ جو کہ آپ کا ہمسایہ تھا وہ بیمار تھا گر آپ وہاں حالپرسی کیلے جاتے تو مجھے پاتے  اور جب کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے تو گویا مجھے کھانا کھلایا
میرے رب کی تمام عبادتوں کے رخوں کو اگر دیکھآ جائے تو ایک بھی ایسی عبادت نہیں کہ جس کیلے حکم ہو کہ فلاں عبادت کرتے تومجھے پاتے ہاں سجدے میں اپنا جلوہ ضرور رکھا پر شاید وہ جلوہ کسی کیفیت کا نام ہو ورنہ کون طور پر وہ سجدہ ادا

- Advertisement -

کرے جس سے تجلی اتر آئے
اسلام کا مغز مخلوق سے محبت اور ان کی خدمت ہے جو رب تعالیٰ کے مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک اپنائے گا رب ان سے راضی ہوتا ہے اور جن سے رب راضی ہو وہ ہی اصل خطیب وہ ہی محدث وہ ہی محقق وہ ہی معتمدعالما، وہ ہی معلم فقیہاں،وہ ہی تاج العلماء،وہ ہی تاج الحكماء،وہ ہی سراج الصلحاء،وہ ہی سراج الفقہاء، وہ ہی صاحب فہم و زکاء، وہ ہی امام المشائخ والفقهاء، وہ ہی بقیۃ السلف، وہ ہی حجۃ الخلف، تاج الفھول،وہ ہی کشتہ عشق رسول، جامع ماکول والمنقول، محب اولاد بتول، فاضل جلیل، عالم نبیل، محدث عدیل، شمشیر بے نیام، رہنما ہر خاص و عام، سید العلماء العلام، قدوۃ السالکین، زبدۃ العارفين، حجۃ السالکین، سند المحدثین، سلطان العاشقين، الغرض دنیا کے تمام القابات اس ایک انسان کیلے ہیں جن سے راب تعالیٰ راضی ہو رب ان سے راضی ہوتا ہے جو مخلوق خدا کو سینے سے لگآتا ہوں پھر صرف ان سے راضی نہیں بلکہ کسی صورت اپنا جلوہ بھی دکھا دیتا ہے خدا ایسے لوگوں سے اپنے حجابات کا کام لیتا ہے خدا ایسے لوگوں پر شفقت کی انتہا کرکے انہیں اس دنیا و آخرت میں بڑے مقام سے نواز دیتا ہے مندرجہ بالا القابات گر سردار محمد صالح بھوتانی کے نام کے ساتھ ہوں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میرا اللہ سردار صالح صاحب سے ضرور راضی ہوگا جب سردار صاحب اپنے دفتر میں ہوتے ہیں  تو اس وقت ان کے آفس میں ہر عام و خاص کے دروازے کھلے رہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ آج تک ان کے آفس سے کوئی مایوس گیا ہو ان۔کے دفتر سے اکثر میں نے مرجھائے چہروں کو کھلتے ہوے دیکھا ہے
وہ زات پات رنگ و نسل علاقے و نام و ناموز سے بالا ہوکر عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں آپ بزرگ شخصیت کے مالک ہیں صوفیانہ مزاج کے مالک ہیں آپ انتہاء کی پیار اور ہر آنے والے کو بےپناہ عزت بخشتے ہیں آپ ہمیشہ کہتے ہیں کہ عزت اور محبت میرے ہاتھ میں ہے اسے دینے کیلے کوئی خرچ اٹھانا نہیں پڑتا میں تو انسانیت کے خدمت کیلے ہوں مجھے رسولِ معظّم ﷺ کی زات سے عقیدت و مودت ہے یہ اس کی امتی ہے ان ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ رسولِ امیںﷺ کے امتی سے محبت کریں ان کے مجبوری میں جس قدر ممکن ہو کام آجائیں سماجی و معاشرتی اصولوں کے عین مطابق زندگی گزارنے والے بلوچستان کے سینیئر بزرگ سیاستدان سردار محمد صالح بھوتانی کی یوں تو گراں خدمات ہیں لیکن سیاسی سماج

میں تنظیمی امور کے ساتھ منسلک بلوچستان عوامی پارٹی کے اندر بھی گراں قدر خدمات ہیں
پارٹیوں میں موجود نظم و ضبط ہی کسی پارٹی کے اندر جمہوریت کے ہیت کو ترتیب دینے کیلے اہم کردار ادا کرتی ہے آپ یوں سمجھئیے کہ پارٹی کے اندر نظم و ضبط ہی پارٹی کے اندر موجود جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے انہیں اغراض کے بنا پر نوجوانوں کا رجھان اور ان کے روزمرہ کے عوامل اور اپنی زندگی میں مثبت اسباب کو آپنی ایما پر جنم دیکر سیاسی پارٹیوں سے خود کو منسلک رکھنا اور جمہوریت کیلے اپنی جوانی و توانائی وقف کرکے تاریخی اوراق میں اپنے حصے کا نام تاریکیوں میں جلتے ہوئے روش دییوں کی طرح دیکھنے خواہش مند جوانوں کو جب آمریت کے بےرحم ہاتھوں میں سونپ دیا جائے تو غیر متوقع حالات جنم لینے لگتے ہیں بلوچستان عوامی پارٹی کی صوبے میں حکومت کیبنٹ میں  موجود اکثریت بلوچستان عوامی پارٹی  کی ہے پورے بلوچستان کی باگدوڑ بلوچستان عوامی پارٹی کے ہاتھ ہےلیکن پارٹی کی پوری حکومت کی پارٹی کیلے و پارٹی ورکرز کیلے خدمات ایک طرف اور سردار صالح بھوتانی کے خدمات ایک طرف انہیں کسی میزان پر تولنے کی ضرورت نہیں
کے بعد میں اپنے دوستوں کو پارٹی سے مایوس نہیں کرنا چاہتا البتہ  یہ ضرور بتانا چاہونگا کہ ڈیرہ بگٹی کوئٹہ لورالائی سے گوادر تربت اور ژوب سے لسبیلہ تک اگر کسی پارٹی ورکر کو کانٹا بھی چبھے تو سردار محمد صالح صاحب کا نام لیا جاتا ہے  آپ میرے اس تخمینے کو اقلیت کی راگ سے رد نہیں کرسکتے کے دو چار چند واقعات سے رد نہیں کرسکتے یہ نہیں ہوسکتا کہ چند واقعات کے بنیاد پر آپ سورج کی روشنی کا انکار کر بیٹھیں مجھے یاد نہیں کہ سردار صاحب کے گھر میں کبھی دریجی سے آئے کسی بڑے وفد کی کوئی بڑی میٹنگ ہوئی ہو یا ملاقات ہوا ہو اکثریت بلوچستان بھر کے لوگوں کی آمد و رفت ہی دیکھنے کو ملا ہے میں اکثر کہتا ہوں کہ مجھے نہیں لگتا کہ سردار صاحب صرف دریجی میں الیکشن لڑتے ہیں بلکہ ظاہراً تو دریجی میں ہی الیکشن لڑتے ہیں پر بلوچستان عوام کے دلوں کی ووٹنگ صرف اور صرف سردار صالح محمد بھوتانی صاحب کیلے ہی ہوتی ہے
اندازہ کیجئے ان کے دفتر میں پارٹی ورکرز کی آمد پر سردار صاحب کی خوشی دیدنی ہوتی ہے گویا کہ کوئی دریجی کا ووٹر یا کوئی میر سردار آیا ہو بلکل ایسے سردار صاحب کے گھر میں بھی پارٹی ورکرز کی بڑی تعداد میں آمد و رفت جاری رہتی ہے سردار کے وزارت کی تنخواہ سے جس قدر پارٹی ورکرز مستفید ہوئے اسے بیان کرنے کیلے میرے پاس الفاظ نہیں
میں نے جام صاحب سے گزارش کی تھی میسج آج بھی موجود ہیں کہ جام صاحب پارٹی ورکرز کو ایک خاکروبی کی نوکری دیں آپ کے سی ایم ہاؤس کی صفائی کیا کریں گے پر افسوس جام صاحب کو ہر وہ بات بری لگتی تھی جو پارٹی ورکرز کے حق میں کی جاتی تھی
ورکرز کے ٹرانسفر پوسٹنگ ہو یا پولیس تھانوں میں کوئی کام کسی سیکٹری سے ملاقات کیلے وقت مانگنا ہو یا کسی ضلعی انتظامیہ سے بات کروانی ہو یہ سب کام سردار صالح محمد بھوتانی صاحب ہی کرتے ہیں سول سیکٹری ایٹ میں داخل ہونے کے بعدجب کسی پارٹی ورکرز سے ملاقات ہوتی ہے تو پہلا جملہ یہ ہوتا ہے کیا سردار صالح محمد بھوتانی صاحب اپنے دفتر میں موجود ہیں ؟ یہ سوال یہ الفاظ بظاہر تو شاہد عام روش یا پھر معمول کا حصہ سمجھا جائے پر ان لفظوں میں جو درد اور احساس چھپی ہوئی ہے اس کا اندازہ شکم سیر حضرات کیا لگائیں جنہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں جو صرف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ اپنی انا و پہچان میں اضافے کے غرض سے دوڑ لگا رہے ہوتے ہیں کبھی ان۔سے بھی پوچھا جائے جن کے ہفتے میں کئی دن چولہے نہیں جلتے وہ کس تمنا سے سردار صاحب کے آفس جاکر مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ لوٹتے ہیں اس منظر کو دیکھنے و سمجھنے کیلے انسان کے اندر موجود انسانیت کا جاگنا ضروری ہے سردار صاحب کی نیک نیتی اور ان کے مخلصی پر زرا برابر بھی شک نہیں کیا جاسکتا وہ کسی مستحق کا مدد کرتے ہیں تو ان کے دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوتی ان کا مدد کرنے کا انداز انتہائی مختلف ہے کبھی دکھاوا نہیں کرتے کبھی مدد کرکے مداوا بھی نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کی مدد کرنے کے بعد کسی قسم کی۔سیاسی عمل کی توقع رکھتے ہیں وہ ایسے بھول جاتے ہیں جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہ ہو یہ شخصیت سرداروں والی نہیں یہ شخصیت وزارتوں والی نہیں یہ اللہ والوں کی اور صوفیانہ طرز  کی شخصیت ہے ہر ملنے والا شخص انگشتِ بدنداں ضرور ہوتا ہے کہ ساری زندگی ملاقاتوں میں گزری ہے پر سردار صالح صاحب سے ملاقات ایک ایسی ملاقات ثابت ہوجاتی ہے کہ جیسے کسی نے کچھ پڑھ کر روح پر پھونک دیا ہو جیسے کوئی کاندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دے رہا ہو ان صفات کے متعلق میرا لکھنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہم بلوچستان عوامی پارٹی سے یا پھر بھوتانی پینل سے  منسلک ہیں ۔۔۔؟؟ یہ اہم سوال شاہد اس کا جواب دبے لفظوں میں تو دے دی جائے پر حقیقت یہ کہ اگر ہم آنکھیں کھولیں تو ہمیں ناچاہتے ہوئے بھی یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ ایک شخص کی خدمت نے ایک صوبے کے حکومت کو شکست دے دی۔۔۔۔
اور جب ہم نے بلوچستان عوامی پارٹیjoin کی تو مرکزی آفس میں کئی بڑے شخصیات کے مختلف وعدے دیواروں پر چسپاں تھے جس میں اکثریت جام صاحب کے سبز باغ وعدے شامل تھے ورکرز انہی وعدوں کو دہرایا کرتے تھے ورکرز کے صبر کے پیمانے لبریز ہوئے تو چیخ و پکار کرنے لگے جس سے جام صاحب کی بچی کچی قابلیت کے تابوت پر آخری کیل ٹھونک دی گئی کہ یہ شخص کسی بھی طور مرکزی صدارت کا اہل نہیں اس دوران جب ورکرز کی مایوسی بڑھتی جارہی تھی تو سردار صالح بھوتانی صاحب نے اپنے تنخواہ کی رقم پارٹی آفس بھیجنے کا اعلان کردیا یہ وہ پہلا اور آخری مرحلہ تھا جب کسی قیادت نے اپنی وزارت کے زاتی مراعات کا رخ پارٹی آفس و غریب ورکرز کے طرف موڑ دیا ساٹھ سے ستر ورکرز مستفید ہونے لگے جب یہ خدمت اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی تو کسی انجان کی فرعونیت جاگ اٹھی اور یہ امداد کا سلسلہ بند کرکے ورکرز کے دعاؤں کے بجائے بددعائیں سمیٹنا شروع کردیا اور پھر انہی بدعاؤں نے بلآخر غرور کے سر پر زوال مقرر کردیا بھرے شہر میں تن تنہا وہ اکیلے آئیرپورٹ پر کھڑے اپنے فلائٹ کے انتظار کے بعد خدا حافظ کرگئے ۔۔۔
یہاں سردار صالح محمد بھوتانی صاحب کا کمالِ  صبر کام کرگیا ہم نے بچپن میں سن۔رکھآ تھا کہ صبر کا وار کبھی خطا نہیں جاتا بعینہ ایسے ہی سردار صاحب سے کی گئی ناجائز زیادتی اور لسبیلہ عوام پر بےپناہ ظلم کے نتائج نے کسی غرور کو ہمیشہ کیلے غروب کردیا آج بھی پارٹی کے تمام وزراء سے بڑھ کر ایک ہی شخص سے توقعات رکھے جاتے ہیں ایک ہی شخص کی گن گائ جاتی ہے کیوں کہ اس امر پر کوئی شق نہیں کہ سردار صاحب کسی کو بےجا آسرے پر نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی کے عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچاتے ہیں ان جیسا ملنسار شخصیت کا مآلک شاہد ہی کوئی دوسرا ہو لسبیلہ عوام کے دلوں پر راج کرنے والے شخصیت پر جتنا تبصرہ کیا جائے کم ہے ۔
اس نظر سے اگر دیکھا جائے تو سیاسی  پارٹیاں   اپنی مشترکہ قیادت سے ہی ورکرز کی بنیادی ضروریات کو حل کرتے ہیں
کسی جمہوری نظام میں   پارٹیاں  ہی مظلوم و محکوم عوام کے لئے نجات دہندہ مانے جاتے ہیں،
کیونکہ پارٹی کی بنیادیں جتنا مضبوط ہونگی وہ اپنے ورکرز کی اتنی ہی خیال رکھے گی،
لیکن بلوچستان عوامی پارٹی کے عملی کردار اُس کی منشور و آئین سے بلکل برعکس تھا، یہاں پہ ورکرز کا سارا بوجھ ایک ہی لیڈر پر ہے وہ ہیں سردار محمد صالح بھوتانی صاحب، بحثیت قبائلی سردار وہ اپنی جاہ و منقبت رکھتے ہیں اسے کسی عام آدمی کیلئے اپنا در کھولنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتا، لیکن بطورِ سیاسی رہنما اس نے ایسے راستے کو چنا ہے کہ ورکرز کی تو جان ہے بلکہ عام عوام کیلئے اس نے اپنی تمام مہربانیاں کھول رکھی ہیں اور  جنہیں ان کی سیاست سے کوئی سروکار نہیں تب بھی سردار صالح صاحب ان کے لئے مسیحا بن جاتے ہیں
ایک طرف بی اے پی پارٹی کی کارکردگی اور دوسری طرف سردار صالح صاحب کی مہر ومحبت، یقیناً ورکرز باپ پارٹی کا نام سنتے ہی جو پہلا شخصیت ان کے ذہن میں آتا ہے وہ سردار صالح بھوتانی صاحب ہیں  کیونکہ مشکل حالات میں ایک غریب ورکر کے سر پر سب سے پہلے جو دست شفقت آتی ہے وہ سردار صالح صاحب کی ہوتی ہے
سردارصاحب کی یہ مہر ومحبت پارٹی کے ہر ورکر کے دل میں ہے کہ وہی بطور عوامی قائد کے اپنے جانثار کارکنوں کو سنتا ہے، ۔۔۔۔
اقتدار کے بعد پارٹی قیادت اپنی حکمت عملیوں اور ورکرز سے قریبی تعلقات استوار کر کے اپنی پارٹی اور قیادت کے سیاسی ساکھ مظبوط کرتے ہیں یا وقتی عیش وعشرت میں گم ہو کر پارٹی کی فعالیت اور ورکرز کو بھول جاتے ہیں، اور اس بات کو بلکل وہم و گمان میں نہیں لاتے کہ پارٹی کے ورکرز کی بدولت انہوں نے یہ مقام پائی ہے،
بلکل اسی طرح باپ پارٹی کی قیادت نے اپنے ورکرز کو بھلا کر گزشتہ تین چار سالوں میں باپ پارٹی محض نام کے رہے گئی،
لیکن اسی دوران ایک دور اندیش اور عوام دوست قائد سردار صالح بھوتانی صاحب نے پارٹی کے زمہ داری سنھبالنے والوں کی غفلت کو بھانپتے ہوئے ورکرز اور پارٹی کی ترویج و ترقی کیلئے کوششیں شروع کر دی جس سے آج مجھ سمیت کہیں ایسے ورکرز ہیں کہ سردار صاحب کے دئیے گئے مہر ومحبت کے قرضدار ہیں ،کیونکہ جب بھی کسی غریب کی فریاد لے کر سردار صاحب کے پاس پہنچا ہوں انہوں نے خندہ پیشانی سے نہ صرف مسائل کو سنا ہے بلکہ حل کرنے کی عملی کوششیں بھی کی ہیں ۔حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ پارٹی کے ہر لیڈر ورکرز کے ساتھ یہی رویہ رکھتا لیکن بد قسمتی سے صرف سردار صالح بھوتانی صاحب نے باپ پارٹی میں ایز عوامی قائد کے زمہ داریاں نبھایا ہے۔اس لئے آج ہر ورکرز کو مشکل حالات میں سردار صاحب  یاد آتےہیں اسکی سب سے بڑی وجہ اسکی عوام دوستی اور سیاسی قائد ہونے کا ہے اللہ پاک لمبی عمر عطا فرمائے آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] (مسائل نیوز)بلوچستان عوامی پارٹی کے ایم پی ایز کا پیپلز پارٹی میں شمولیت کا معاملہ،بی اے […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.