نشتر ہسپتال انتظامیہ نے سکیورٹی گارڈز ہی تبدیل کر دیے
ملتان (مسائل نیوز) نشتر اسپتال کی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر طارق گجر کو چھت پر لے جانے والے سکیورٹی گارڈز کو ہی تبدیل کر دیا، نشتر ہسپتال انتظامیہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی۔ جیو نیوز نے ہسپتال ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے 8 سکیورٹی گارڈز کو تبدیل کیا ہے، یہ گارڈز مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورے کے موقع پر چھت کو جانے والے دروازوں پر تعینات تھے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نشتر ہسپتال انتظامیہ کے اجلاس میں کہا گیا کہ مشیر وزیراعلیٰ پنجاب طارق گجر کو چھت پر لے جانے کی ضرورت کیا تھی؟ مشیر وزیراعلیٰ کو چھت پر جانے سے روکنے کا کام سکیورٹی گارڈز کا تھا۔ دوسری طرف نشتر ہسپتال کی چھت پر واقع کمرے اور صحن سے لاشیں ملنے کے بعد پولیس اور ہسپتال انتظامیہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے لگے، ہسپتال انتظامیہ پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے سٹی پولیس آفیسر ملتان خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کی تدفین نشترہسپتال انتظامیہ کا کام ہے، دفعہ 174 کی کارروائی کے بعد لاوارث لاش نشتر ہسپتال کے سردخانے میں رکھی جاتی ہے، پولیس کا سردخانے میں لاش رکھوانے کے بعد کوئی عمل دخل باقی نہیں رہتا، قانون کے تحت لاوارث لاشیں ہسپتال میں رکھوانے کی پولیس پابند ہے، لاشوں کو کتنا عرصہ رکھنا اوران کا کیا کرنا ہے؟ یہ ہسپتال انتظامیہ کا کام ہے، اگر وارث آجائے تو قانونی کارروائی بعد ہسپتال انتظامیہ لاش حوالے کردیتی ہے۔
ادھر ملتان میں نشتر ہسپتال کے سرد خانے کی چھت پر مزید لاشیں پڑی ہونے کا انکشاف ہوا ہے، سرد خانے کے اوپر 2 کمرے لاشوں سے بھرے ہوئے ہیں، ایک کمرے میں متعدد لاشیں پڑی ہیں جبکہ نشتر ہسپتال کے سرد خانے کے فریزر کئی سال سے بند ہیں، نشتر ہسپتال کے سرد خانے میں 40 میتیں رکھنے کی جگہ ہے، ایک فریزر میں صرف 7 سے 8 لاشیں رکھی جا سکتی ہیں۔
[…] نیوز) نشتر اسپتال ملتان، لاشیں چھت پر رکھنے والے ملازمین کیخلاف کارروائی کا […]