MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

عمران خان کی پیشکش پر سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہے، صدرمملکت

1 318

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز) صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے انٹرویو میں مثبت باتیں کی گئیں، ان کی پیشکش پر سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہئیے۔انہوں نے دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ بات چیت کے لیے میرے دروازے کھلے ہیں، سیاسی استحکام کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ کچھ ادھر کچھ ادھر کر لیا جائے۔
میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ایک دو مہینے ادھر ادھر کر لینے چاہیے۔ایسا ماحول بنانا چاہے کہ سیاستدانوں کو بیٹھ کر بات کرنے کے لیے راضی کرنا چاہے۔یہ ہٹ دھرمی نہیں ہونی چاہے کہ بات نہیں ہو گی، اس سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔اس نہج پر نہ پہنچیں کہ تاریخ پھر ہمیں ذمہ دار ٹھہرائے۔صدر مملکت نے کہاکہ سیاست کا بحران ہے جس کو حل کرنا آسان ہے،بہت سارے لوگ وقتی مفاد کی وجہ سے اس بحران سے نکلنے کو تیار نہیں۔
انہوںنے کہاکہ تمام سیاسی لیڈر جلد الیکشن کی بات کرتے رہے ہیں،سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی بحران پر چیف الیکشن کمشنر سے الیکشن کرانے بارے پوچھا تھا،الیکشن کمیشن نے کہا تھا 7 ماہ لگیں گے،انتخابات شاید ان بحرانوں سے نکلنے کا بہترحل ہے۔ انہوںنے کہاکہ سیاستدانوں کے درمیان الیکشن کے حوالے سے بات چیت ہونی چاہیے۔ صدر مملکت نے کہاکہ قوم کو کلیئر لیڈر شپ چاہیے، عوام مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں، بجلی بل، مہنگائی کے اعتبارسے عوام مشکل میں ہیں، حکومت اپنی طرف سے محنت کررہی ہے۔
عارف علوی نے کہا کہ آئین کے اعتبارسے اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کر سکتا ہوں، سب ملکر کسی چیز پر اتفاق کریں گے، مجھے ڈر ہے کہیں معاشی بحران اس نہج پر نہ چلا جائے، عوام سڑکوں پر آ جائیں۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن میں اب چند ماہ کا فرق رہ گیا ہے، آپس میں گفتگو کے لیے میرے دروازے کھلے ہیں، کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر معاملے کو نمٹانا چاہیے، الیکشن کے بعد جو بھی پارٹی جیتے اسے مینڈیٹ لیکر آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہٹ دھرمی سے ملک کا نقصان ہو گا، انا پر قابو پا لیں تو ہم سو فیصد یہ کام کر سکتے ہیں، سیلاب کو ٹھیک کرنے کے لیے تو پیسے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کو آپس میں بٹھانا صرف سوچ کی بات ہے، اگرہم اکٹھے نہ ہوئے تو تاریخ ہمیں ذمہ دار ٹھہرائے گی۔ موجودہ حکومت میں شامل سیاسی قیادت بھی نئے الیکشن پر متفق تھی، حکومت سے باہر موجود سیاسی قیادت بھی جلد انتخابات چاہتی ہے، شائد انتخابات ان بحرانوں سے نکلنے کا ایک بہتر حل ہے، کچھ لے اور دے کر انتخابات کا معاملہ نمٹانا چاہیے، بہتر ہے عوام کی نمائندہ حکومت ہو چاہے موجودہ اتحادی کامیاب ہوں۔
صدر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ رہتا ہے، اصل کام حکومت اور اپوزیشن بیٹھ کر چیزیں طے کریں، عدم اعتماد کے بعد جب دوسری حکومت آئی تب سے یہ بات کر رہا ہوں، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں الیکشن کی تاریخ اور میز پر بیٹھ کر بات چیت کر لیں، عمران خان نے پیشکش کی ہیں، سیاسی میچورٹی کا تقاضا ہے تمام سیاسی جماعتیں ایک جگہ پر بیٹھ جائیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] آباد(مسائل نیوز) صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اعجاز الحق کی ملاقات ہوئی […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.