داغِ ماضی اور پاکستان
تحریر: جاوید صدیقی
ھماری نئی نسل کو پاکستان کے ماضی سے روشناس ھونا ضروری ھے کیونکہ جب تک یہ نسل ماضی کی غلطیوں کوتائیوں سازشوں سے آشکار نہیں ھوگی تب تک اسے نئی منزل نئی راہ نظر نہیں آسکتی ھے۔ وطنِ عزیز پاکستان کے جانثار مخلص ہر جگہ ہر مقام اور ہر وقت رہتے ہیں ان کی موجودگی کی بناء پر پاکستان شرانگیزوں کے شر سے محفوظ ھے اور انشاء اللہ تا قیامت قائم و دائم رہیگا لیکن اس کو مٹانے والے خود مٹ جائیں گے۔۔
۔۔ معزز قارئین!! وقت تیزی سے بڑھتا جارہا ھے دنیا نئی سمت نئے انداز اپنا چکی ھے ترقی یافتہ اور ایٹمی طاقت کے حامل ممالک کہاں سے کہاں اور کس انداز میں بڑھ رہے ہیں یہ جاننا بھی ضروری ھے اور اپنے اندر انتشار اور بے چینی کی وجوہات اور عنصر کو بھی دیکھنا ہماری نسل کیلئے لازم و ملزوم ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! سابق ڈائریکٹر انٹیلی جنس و سابق آئی جی پولیس سندھ و پنجاب حاجی حبیب الرحمنٰ نے ایک اشاعتی میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے ادوار کے انکشافات پیش کیئے، دعوے یا الزامات بھی عائد کیئے یہ کس حد تک درست تھے زمینی حقائق ہی حقیقت سامنے پیش کرسکتی ھے۔
- Advertisement -
وہ بتاتے ہیں کہ ایک جج دونوں پارٹیوں سے پیسے لیتا تھا لیکن فیصلہ انصاف پر کرتا تھا۔ ہارنے والے کے پیسے واپس کردیتا تھا۔ طاہرہ سید کو کھر نے فون کیا، آپ لندن جارہی ہیں، میں بھی لندن جارہا ہوں۔ اس نے جواب دیا: آپ جتنی مرضی کوشش کرلیں میں آپ کے قابو نہیں آسکتی۔ اس کی بیوی اپنا پرس کراچی بھول گئی۔ پرس لانے کیلئے جہاز خاص طور پر کراچی بھیجا گیا۔
مشرف کے ساتھ نواز شریف کی ڈیل میں مجید نظامی اور میں شامل تھے۔ پاکستان اسٹیل ملز کا چیئرمین عثمان فاروقی ہر مہینے زرداری کو ایک کروڑ پہنچاتا تھا۔ قومی اتحاد کی ایجی ٹیشن اور بھٹو کی پھانسی کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ ایجیٹیشن کے دوران مولانا مودودی کے نام تیس لاکھ کا غیر ملکی چیک میں نے پکڑا۔ جماعت اسلامی کے دو اہم آدمی ہمارے لیئے انٹیلی جنس کرتے اور پیپلز پارٹی کے تین جیالے بھی
کوثر نیازی تنخواہ پر کام نہیں کرتے تھے۔ کوئی کام کروالیتے تھے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی ہم سے پانچ سو روپیہ مہینہ لیتے تھے۔ جب میں نہیں پہنچاتا تھا خود لینے کیلئے آجاتے۔ کام کا بندہ وہی ہوتا ہے جو تھوڑی بہت مخالفت کرے اور اندر خانے حکومت کیلئے کام کرے۔ جب بھٹو پر مقدمہ چل رہا تھا تو پیپلز پارٹی کے تین جیالے امان اللہ خان، غیاث الدین جانباز اور امیر حبیب اللہ سعدی ہمارے لیئے مخبری کرتے۔ انہیں ہم نے سمن آباد میں کوٹھی لے دی تھی اور سہولتیں بھی فراہم کردی تھیں۔ شیخ محمد رشید شیخوپورہ میں عورت بن کے دودھ بلو رہے تھے۔ انہی کی مخبری پر پکڑے گئے۔ مولوی مشتاق کی عدالت میں بم چلانے کی منصوبہ بندی بھی انہی جیالوں نے ہمیں بتائی۔ نواب کالا باغ کو شراب اور عورت سے نفرت تھی۔ چودہری ظہورالہٰی کو انہوں نے حوالداری پر بحال کرکے ڈیوٹی پر طلب کرلیا تھا۔
مرتضیٰ بھٹو نے آصف علی زرداری کی ایک مونچھ کٹوادی۔ دوسری انہوں نے خود منڈوادی۔ بے نظیر نے زرداری سے مرتضیٰ بھٹو کو صرف پھینٹی لگانے کا کہا تھا۔ فاروق لغاری بے نظیر کی حکومت ختم نہ کرتے تو ایک اہم آدمی قتل ہوجانا تھا۔ جو ارب پتی بھاگ گیا اس کی سفارش چودھری شجاعت نے کی۔ میں قاسم بھٹی کے گھر مقیم رہا۔ وہاں آٹھ من سونا زمین میں دفن تھا۔ عبداللہ ملک اور پروفیسر ایرک اسپرین اوپر کے لیول کے تھے، ڈائریکٹر انٹلی جنس بیورو کو ملنے والے۔ ایرک اسپرین کمیونزم کے متعلق میرا سورس تھے۔ دو دفعہ میں نے انہیں ماسکو کیلئے ٹکٹ لے کے دیا۔
نواب صادق حسین قریشی کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے نواز شریف نے اس کے نام پینتیس کنال کی سفارش کردی۔ اقبال ٹکا نے راتوں رات پینتیس کنال پر قبضہ کرلیا۔ نواز شریف نے ایم این ایز کیلئے سارے مالشیے ہالی ڈے اِن میں جمع کرلیئے تھے.
بھٹو نے قرآن شریف پر لکھ دیا تھا کہ حُسنہ شیخ میری بیوی ہے۔ اس کے گھر سے صرف وہی قرآن شریف چوری ہوا تھا۔ بھٹو کی پہلی بیگم کے گھر نوڈیرو سے جب زیورات چوری ہوئے تو ایس پی لاڑکانہ پنجل خان نے ممتاز بھٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھٹو سے کہا: سائیں! چور تو آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے فوج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں مولانا مودودی کی تفہیم القرآن بانٹی پھر بھٹو سے معافی مانگ لی۔
بھٹو ہر ایک کی بے عزتی کردیتے تھے۔ اسی لیئے جب انہیں اقتدار سے ہٹایا گیا تو ڈاکٹر مبشر حسن، حفیظ پیرزادہ، ملک معراج خالد اور کوثر نیازی وغیرہ جنرل ضیاء سے ملتے، تحفظ مانگتے اور اپنی وفاداری کا یقین دلاتے رہے۔ جام صادق کو نصرت بھٹو نے باسٹرڈ کہا تو اس نےجواب دیا: اماں آپ نے بجا فرمایا۔ پپو کے قاتلوں کو سرِعام پھانسی اس لیئے دی گئی تاکہ بھٹو کی پھانسی کیلئے لوگ ذہنی طور پر تیار ہوجائیں۔ جرنیل بھٹو کو مئی جون سنہ انیس سو اٹھہتر ہی میں پھانسی لگادینا چاہتے تھے۔ اِنکی پھانسی پر جنرل ضیاء اور جسٹس انوارالحق متفق تھے۔ جنرل ضیاء کی ہدایت پر میں نے لیاقت باغ فائرنگ کیس تیار کررکھا تھا کہ اگر سپریم کورٹ بھٹو کو چھوڑ دے تو پھر اس کیس میں انہیں پھانسی دیدی جائے۔
بدنیتی کا یہ عالم تھا کہ قصاص اور دیت آرڈی ننس پاس ہونے کے باوجود اسے بھٹو کی پھانسی کے بعد نافذ کیا گیا۔ مسعود محمود کو وعدہ معاف گواہ بنانے میں رابطہ کار سیٹھ عابد تھے۔ ضیاء الحق نے خود کو امیرالمومنین بنانے کیلئے ریفرنڈم کا فیصلہ کرلیا تھا۔
کھر نے جنرل ضیاء کو پریڈ میں اڑانے کا پروگرام بنایا، سیٹھ عابد نے جاکے جنرل ضیاء کو بتادیا اور اپنا سونا واپس لے لیا۔ نواز شریف سے پہلے ان کے روحانی باپ جنرل ضیاء الحق نے لفافوں کی تقسیم کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ حاجی صاحب نے بعض ایڈیٹروں کے نام بھی بتائے جنہیں جنرل ضیاء میرے بھائی جنرل مجیب کے ہاتھ لفافہ بھیجتے تھے۔
نورجہاں کے فون پر بھی ٹیپ لگائی لیکن جلد ہی ہٹادی کیونکہ وہ گندی گالیاں نکالتی تھی یا اپنے مخاطب سے کہتی تھی: سوہنیا، من موہنیا۔ ضیاء الحق یہ جانتے ہوئے کہ انور شمیم کرپٹ ہے اسے ائر فورس کا چیف بنادیا۔ اس کی بیوی اپنا پرس کراچی بھول گئی۔ پرس لانے کیلئے جہاز خاص طور پر کراچی بھیجا گیا۔ گورنر پنجاب جنرل جیلانی کو شراب ہلاکو خان سپلائی کرتا تھا۔
جنرل جہاں زیب ارباب نے ایسٹ پاکستان سے پچاس لاکھ روپے لوٹے تھے۔ جنرل ضیاء نے اسے سندھ کا گورنر لگایا تو ایک برمی عورت کے پیچھے لگ گیا۔ اسکے خاوند کو روزانہ پولیس سے جوتے لگواتا۔ ایف کے بندیال جنرل ضیاء کے قدموں میں بیٹھ گیا تو جنرل ضیاء نے ان کے داماد کو کینیا میں سفیر لگادیا۔ انور سیف اللہ ہیروئن اسمگلنگ میں پکڑا گیا تو غلام اسحق خان اور کلثوم سیف اللہ دونوں اسے چھڑانے کیلئے امریکہ پہنچ گئے۔۔
۔۔ معزز قارئین!! یہ وہ حالات تھے جنھوں نے ریاست پاکستان کو آگے لیجانے کے بجائے ذاتیات کی بھینٹ چڑھایا یہ قوم عرصہ دراز سے اس نام نہاد جمہوری نظام کی چکی میں پستی چلی آرہی ھے اشرفیہ تاحال عیش و عشرت میں جبکہ عوام لقمہ کو ترس گئے یقیناً اب بہت ہوگئی برداشت کی ظلم جب بڑھ جاتا ھے تو وہ مٹ جاتا ھے بہت جلد غداروں عیاشوں سازشوں کی نسلیں بھاگتی نظر آئیں گی اور ملک میں نفرت پھیلانے والوں کو چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ وطنِ عزیز پاکستان سےکھلواڑ کرنے والے جو بھی ہوں جہاں بھی ہوں اب بچنے نہیں پائیں گے یہ ملک اسلامی نظام کیلئے معروضِ وجود میں آیا ھے۔ وطن کے امین اور محافظ اب کسنے والے ہیں اللہ پاکستان کی ہمیشہ غداروں منافقوں سازشوں مکاروں دھوکے بازوں اور جھوٹے کے شر سے محفوظ رکھے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!