مفت اسکوٹی اسکیم کے نام پر آن لائن فراڈ، جانئے دھوکے سے بچنے کا مکمل طریقہ
کراچی (مسائل نیوز)سندھ حکومت نے عوام کو ایک بڑھتے ہوئے فراڈ کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا ہے جو ’’پنک اسکوٹی اسکیم‘‘ کے نام پر چلایا جا رہا ہے۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جعلی آن لائن رجسٹریشنز یا کسی بھی فیس کی ادائیگی کے جھانسے میں نہ آئیں۔
محکمہ اطلاعات سندھ کے تصدیق شدہ ’’ایکس‘‘ (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے جاری ایک سرکاری بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ’’پنک اسکوٹی اسکیم‘‘ مکمل طور پر مفت ہے۔ کسی قسم کی رجسٹریشن فیس یا ذاتی معلومات غیر سرکاری ویب سائٹس یا سوشل میڈیا لنکس پر ہرگز فراہم نہ کی جائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم خواتین کو بااختیار بنانے کے منصوبے کے تحت اہل خواتین کو مفت اسکوٹیاں فراہم کر رہے ہیں، جو بھی پیغام پیسے یا ذاتی معلومات مانگتا ہے، وہ جعلی اور گمراہ کن ہے۔
حکومت نے ان جعلی اشتہارات اور سوشل میڈیا پوسٹس پر بھی سخت نوٹس لیا ہے جن میں غلط طور پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوگ آن لائن فیس دے کر اسکیم میں رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ ایسے فراڈ پیغامات واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر گردش کر رہے ہیں، جو خواتین کو تیزی سے اسکیم میں شامل ہونے کا لالچ دے رہے ہیں۔
کیا نہیں کرنا چاہیے:
مشکوک رجسٹریشن لنکس پر کلک نہ کریں۔
کوئی آن لائن فیس یا چارجز ادا نہ کریں۔
- Advertisement -
اپنا شناختی کارڈ نمبر، رابطہ تفصیلات یا ذاتی کاغذات غیر سرکاری پلیٹ فارمز پر ہرگز شیئر نہ کریں۔
ایسے سوشل میڈیا پیجز پر اعتبار نہ کریں جو رجسٹریشن کی پیش کش کر رہے ہوں۔
کیا کرنا چاہیے:
صرف سرکاری ویب سائٹس اور تصدیق شدہ اکاؤنٹس پر بھروسہ کریں۔
اہلیت اور تقسیم کے بارے میں صرف سرکاری اعلانات کا انتظار کریں۔
جعلی پوسٹس یا لنکس کو متعلقہ حکام یا سائبر کرائم یونٹس کو رپورٹ کریں۔
عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور معلومات صرف مستند سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سندھ حکومت نے رواں سال فروری میں ’’پنک اسکوٹی اسکیم‘‘ کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت اہل خواتین کو قرعہ اندازی کے ذریعے مفت اسکوٹیاں دینے کا مقصد صوبے کی خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔