MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کیسا عوام دوست بجٹ

0 225

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر رخسانہ اسد لاہور
توقع کی جارہی تھی کہ نئی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے گی لیکن بجٹ دیکھ کر پتا چلا کہ عوام دشمن بجٹ پیش کیا گیا اس بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کےبجائے عوام سے رہا کچھا ریلیف بھی چھین لیا گیا نئی حکومت نے کھربوں روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا سیلز ٹیکسوں پیٹرولیم ،بجلی ،مہنگائی میں ہو شربا اضافہ کردیا گیا حسب روایت مراعات یافتہ طبقے پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا اور غریب عوام پر ٹیکسوں کے پہاڑ توڑ ڈالے ہرایک عوامی باشندے کو یاد ہوگا کہ میاں برادران تحریک عدم اعتماد سے قبل کہا کرتے تھے کہ ہم اقتدار میں آکر مزدور کی تنخواہ بڑھا دیں گے ملک کو تاریکی سے نکال کر اس کی معیشت کو اس کے پیروں پر کھڑا کردیں گے خوشحال پاکستان بنائیں گے ہمیں جمہوریت کرنے کا تجربہ ہے یہ میاں صاحبان کے دعوے اور وعدے تھے جو الیکشن سے قبل عوام سے کیے تھے میاں شہباز صاحب کہتے تھے اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو ریلیف دو گا مگر آج وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوکر میاں صاحب اپنے وعدوں سے کیوں مکر گئے۔ہمیں پتا تھا عوام کو پہلے سے بھی زیادہ مشکل مرحلے سے گزرنا پڑے گا-اس بجٹ سے مزدور طبقہ جو سال ہا سال سے پستا آیا ہے مزید اس کا بھرکس نکالا جائے گا جا بجا ٹیکسوں کے پیسوں سے نیا حکمران طبقہ عیش و عیاشی موج مستیاں کرے گا اب پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن و دیگر جماعتیں ایک ہیں صرف تحریک انصاف اپوزیشن کا رول ادا کررہی ہے اور وہ بھی آئے روز اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کر کے چلے جاتے ہیں اس بار بھی بجٹ بحث کے دوران اکثر انصافین و دیگر ”ڈرائنگ رومز“ میں ریسٹ کریں گے ۔جس کے بعد فارمیلٹی کیلئے بحث ہوگی اور نام نہاد عوام دوست بجٹ کسی بڑی تبدیلی کے بغیر منظور کر لیا جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں عوامی بجٹ پر بات کرنے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ارکان اسمبلی کے پاس وقت نہیں ؟ آخر کیوں عوام کے کروڑوں روپے اپنی عیاشیوں پر خرچ کرنے والے ایک سال کے لیے عوامی فلاح و بہبود پر رقم خرچ کرنے کے منصوبوں پر بات کرنا تو دور اسے سننے کے لیے بھی نہیں آتے؟ کیا ہم اس لیے انہیں ووٹ دیتے ہیں کہ وہ میڈیا پر بیانات دیتے رہیں اور جب عوام کے مستقبل اور بہتری کی بات آئے تو اسمبلی کاراستہ بھول جائیں؟ اگر آج ارکان اسمبلی کے اختیارات کم کرنے اور ان کو حاصل مراعات واپس لینے کا کوئی بھی بل اسمبلی میں پیش کر دیا جائے تو اسے نامنظور کرنے کے لیے اسی وقت تمام ارکان اسمبلی میں بھاگے چلے آئیں گے۔ تب نہ کوئی بیمار ہو گا نہ شادی بیاہ ہوگی، نہ بیرون ممالک کوئی دورہ انہیں روک پائے گا اور نہ ہی کسی کو اپنی مصروفیات یاد ہوں گی لیکن جب عوام کے لیے بجٹ پر بحث کا وقت آتا ہے تو اسمبلی آنے والے اکثر ارکان بھی بحث میں شرکت کرنے کی بجائے اپنے کمروں میں ”آرام“ فرماتے نظر آتے ہیں ۔اگراحتجاج کی بات کریں تو اپوزیشن اسمبلی میں احتجاج تو کر رہی ہے لیکن صرف اپنی کرسی جانے پر ۔ اسمبلی میں تقاریر بے نظیر انکم سپورٹ, سستاآٹا ، لیب ٹاپ ،سینما و فلم انڈسٹری، تھانہ کلچر جیسے موضوعات پر گھوم رہی ہیں لیکن ان دنوں ضرورت بجٹ میں بتائے گئے منصوبوں اور ان کے لیے مختص کی۔ قوم کے مستقبل کے لیے بجٹ تیار کیا گیا اور اب اس کی منظوری کے لیے بحث جاری ہے لیکن قومی نمائندے اس بحث میں آنا وقت کا ضیاع سمجھ رہے ہیں ۔ ایک سال کے لیے قوم کے مستقبل کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے لیکن ارکان اسمبلی کے پاس اتنا بھی وقت نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرنے آئیں کہ عوام کی حق حلال اور خون پسینے کی کمائی سے حاصل کیے گئے ٹیکس کو کہاں استعمال کرنا ہے؟ لاکھوں کروڑوں اپنی عیاشیوں پر لگانے والوں کے پاس قوم کے لیے صرف اتنا ہی وقت ہے کہ وہ” مک مکا “کر لیں کیونکہ قومی خزانہ کا جائز استعمال کے لیے بات کرنے اور اپنی رائے دینے کے لیے ان کے پاس آج کل مزید وقت نہیں ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہی ارکان اسمبلی میڈیا پر کئی کئی گھنٹے قوم پر ہونے والے مظالم کے خلاف بحث کرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں لیکن اپنے اصل فرض کے لیے ان پاس وقت ہی نہیں۔ محترم قارئین میری یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا بل بغیر کسی خاص ترمیم یا اضافے کے جوں کا توں پاس کر لیا جائے گا اسی طرح پنجاب اسمبلی میں حکومت پنجاب کی طرف سے پیش کیا گیا بجٹ بھی بغیر کسی خاص ترمیم یا اضافہ کے منظور کر لیا جائے گا ۔ ہمیشہ اپوزیشن بنچوں پر تشریف فرما ہوتے ہیں مگر پھر بھی بجٹ پاس ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ ”یہ تیراکی میرا “ یعنی مک مکا کن کن باتوں پر کیا جاتا ہے وہ عوام جانتی ہے لیکن کن کن باتوں پر کر لیا گیا اس کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں البتہ موجودہ بجٹ کے حوالے سے یہی لگ رہا ہے کہ ”مک مکا“ کر لیا گیا ہے ۔ بجٹ منظور ہونے کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی آخر میں ارکان اسمبلی اور وزیراعظم پاکستان سے التماس ہے خدارا ایسا بجٹ پیش کریں جس سے مرعات شدہ طبقہ کو نہیں بلکہ عوام کو ریلیف ملے اور ان کے چہرے پر ھی مسکان نظرآئے اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو (آمین)

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.