MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ویلنٹائن ڈے بے حیائی کا سبب

0 213

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری تھا۔ ویلنٹائن پادری ایک راہبہ کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ مسیحیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا اس لیے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کو بتایا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے 14 فروری کا دن ایسا ہے اس دن اگر کوئی راہب یا راہبہ آپس میں ملاپ کریں تو گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے یقین کر لیا اور دونوں جوش عشق میں سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا یعنی ان دونوں کو قتل کر دیا گیا بعد میں کچھ منچلوں نے ویلنٹائن کو شہید محبت کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے 14 فروری کو ان کی یاد میں منانا شروع کر دیا۔
ہردین و مذہب کی اپنی کچھ روایات تہوار، تہذیب و ثقافت ہوا کرتی ہے جس سے اس کے ماننے والے پہچانے جاتے ہیں۔ ”ویلنٹائن ڈے“ کی حقیقت اور تاریخ سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ یہ عسیسائیوں کا مقدس دن ہے لیکن اس بات پر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ آج کا مسلمان بھی اس دن کو غیروں کی طرح دین و شریعت کو پس پشت ڈال کر اور اس دن کو پرکھے بغیر خوش دلی سے عیسائیوں کا دن مناتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ پاکستان میں پچھلے چند سالوں سے اس دن کو منانے کا جذبہ نوجوانوں میں جوش پکڑتا جا رہا ہے۔
نوجوان لڑکے لڑکیوں کو گلاب کے پھول پیش کرتے ہیں رات کو ہوٹلوں کے کمرے بک کروائے جاتے ہیں، نوجوانوں کو یہ بھی جان لینا چاہیے وقت بڑا بے رحم ہوتا ہے وہ پلٹ کر ضرور آتا ہے ایک کہاوت ہے نا جیسی کرنی ویسی بھرنی اگر آج آپ کے ہاتھ میں گلاب کا پھول ہے اور آپ کسی کے پھول کو مسل کر اس کی عزت تار تار کر رہے ہو تو کل وقت پلٹے گا کل تمہارا پھول کسی کے سامنے تمہاری عزت کی دھجیاں اڑا رہا ہو گا۔
فی زمانہ ترقی اور روشن خیالی کے نام پر بے حیائی اور اخلاقی برائیوں کو خوب فروغ دیا جارہا ہے۔ محبت کے عالمی دن کے نام پر ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے دَرحقیقت مَحبت کے نام پر بربادی کا دن ہے ۔ ویلنٹائن نامی غیر مسلم کی یاد میں منائے جانے والے اس دن کو غیر اَخلاقی حرکات اور اَحکامِ شریعت کی کھلم کھلاخلاف ورزی کا مجموعہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
اس دن بالخصوص مخلوط تعلیمی اداروں میں بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ اَجنبی مَردوں اور عورتوں کا میل مِلاپ ہوتا ہے، حالانکہ حدیثِ پاک میں اس کی مَذمّت یوں بیان کی گئی ہے کہ کسی کے سَر میں لوہے کی سُوئی گھونپ دی جائے یہ اجنبی عورت کو چھونے سے بہتر ہے۔ ہاتھ اور پاؤں کا بَد کاری کرنا لڑکے لڑکیاں تحائف اور پھول خرید کر نامحرموں کو پیش کرتے ہیں اور اپنی ناجائز محبت کا اظہار کرتے ہیں،حدیث پاک میں ہے: ہاتھ اور پاؤں بھی بَدکاری کرتے ہیں اور ان کا بَدکاری (حَرام) پکڑنا اور (حَرام کی طرف) چل کرجانا ہے۔ اس دن رَنگ رَلیاں مَنانےکیلئے شراب اور نَشہ آور چیزوں کا بے تَحاشہ(بہت زیادہ) اِستعمال کیا جاتاہے، جبکہ حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص شَراب کا ایک گُھونٹ بھی پئے گا، اُسے اس کی مِثل جہنَّم کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔
جہاں چھوٹے پیمانے پر گانے باجے،مُوسیقی بجائی جاتی ہے، وہیں بڑے پیمانے پرمیوزیکل پروگرامز اور فنکشنز (Functions) کا بھی اِہتمام کیا جاتا ہے جس میں جوان لڑکے اور لڑکیاں اکٹهے رقص کی محفلیں سجاتے ہیں.
اس دن بَدکاری کو فَروغ مِلتا ہے، جس کی وجہ سے ایڈز (AIDS) نامی مُہلک مرض پھیلتا جارہا ہے، ڈاکٹرز کے مُطابق’’ایڈز‘‘ جیسی خطرناک بیماری اِسی بَدکاری کا نَتیجہ ہے۔قُراٰنِ پاک میں بَد کاری تو دُور، اس فعلِ بَد کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ چُنانچہ اِرشادِ باری تعالٰی ہے. تَرجَمَۂ:اور بَد کاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری چیز ہے.
افسوس ’’ویلنٹائن ڈے‘‘کے موقع پر لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رَسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی کے کاموں پر خوشی کا اِظہار کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں غیرمُسلموں کے ہر انداز و طریقۂ کار کو چھوڑ کر، اِسلامی شِعار (طریقہ ) و عادات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.