تبدیلی آ چکی ہے
۔۔۔محمد امانت اللہ۔ جدہ
کل خاں صاحب نے ” وائس آف امریکہ” کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا۔
سوال :- آپ الزام لگاتے ہیں کہ آپ کی حکومت امریکہ نے گرائی تھی ، جس سے آپکے تعلقات امریکہ سے خراب ہوچکے ہیں کیا آپ امریکہ سے تعلقات بہتر کرنا چاہیں گے؟
اگر چاہیں گے تو اس کے لئیے کیا اقدامات کریں گے؟
عمران خان :-
پہلی بات یہ کہ انٹرنیشنل خارجی تعلقات زاتی اناء کی بنیاد پہ نہیں رکھنے چاہئیے ، انکی بنیاد آپکے ملک کی عوام کے مفاد کس میں ہے اس بنیاد پہ یہ تعلقات ہونے چاہیں،
پاکستانیوں کا مفاد اس میں ہیے کہ انکے تعلقات امریکہ سے اچھے ہونے چاہئیے ، امریکہ ایک سپر پاور ہیے اور پاکستان کی زیادہ تجارت امریکہ کے ساتھ ہے ، امریکہ نے قطعا” کوشش نہیں کی تھی کہ مجھے حکومت سے نکال دیا جائے بلکہ اب جو ثبوت اور شواہد سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے جا کر امریکہ کو یقین دلایا کہ ” میں اینٹی امریکہ ہوں ”
مجھے نکالنے کا پروگرام دراصل میں امریکہ سے امپورٹڈ نہین تھا بلکہ پاکستان سے امریکہ ایکسپورٹڈ تھا (مطلب اب امپورٹڈ حکومت ایکسپورٹڈ حکومت بن گیی ہے)
- Advertisement -
سوال :- کیا آپ اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے آپ کی حکومت کے خلاف ” سائفر ” آنے سے آپکی حکومت کا خاتمہ ہوا؟ – –
عمران صاحب :- دیکھیں جی ہم کو ماضی کو بھول کر اگے بڑھنا چاہیے آپ بھی ختم کریں ان چیزوں کو بھول جائیے پاکستان امریکہ تعلقات کی بہتری کے لییے لازم ہیے کہ ان چیزوں کو بھول کر آگے بڑھا جائے۔
سوال :- مطلب آپ اقرار کرتے ہین کہ امریکہ کی طرف سے کوئی دھمکی (سائفر) آپ کو موصول نہیں ہوئی تھی۔
جواب :- دراصل ہمیں امریکہ کی طرف سے کسی قسم کی کسی لیول پہ دھمکی کبھی بھی موصول نہیں ہوئی تھی یہ تو ہمارے سفیر امریکہ کا خیال تھا کہ امریکی انتظامیہ ہم سے ناراض ہے اور یہ بات امریکی سیکٹری ڈولنڈ کے ساتھ بات چیت کے بعد پاکستانی سفیر نے ” محسوس” کی تھی جس پہ اس نے ہمیں سائفر بھیجا جس پہ مکمل تجزیہ کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ ، آرمی چیف ، انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی کہہ چکی ہیں کہ یہ دھمکی نہیں تھی بلکہ معمول کی ہمارے امریکہ کے سفیر کی طرف سے زاتی تجزیہ تھا ، تو اب امریکہ کو بھی چاہیے کہ پجھلی باتوں کو بھول کر ہمارے ساتھ نئے سرے سے تعلقات کا اغاز کرے امید ہیے آئندہ ہم انکے اعتماد پہ پورا اتریں گے ”
پورے انٹرویو کاخلاصہ یہ ہے
1:- عمران حکومت امریکہ نے بلکل نہیں گرائی تھی بلکہ یہ باجوہ صاحب کا زاتی فعل تھا
2:- موجودہ حکومت جس کو عمران صاحب” امپورٹڈ حکومت” کہتے تھے آج سے” ایکسپورٹڈ حکومت ” بن چکی ہیے
3:- امریکہ کے عمران صاحب اور نہ ہی عمران صاحب امریکہ کے بلکل مخالف ہیں ، نہ تھے آور نہ کبھی ہونگے یہ تو باجوہ صاھب نے امریکہ کو بتایا تھا کی عمران صاحب امریکہ مخالف ہیں ۔
4:- عمران صاحب کے نزدیک امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات لازمی جزو ہے امریکہ کی مخالفت سے ہماری تجارت ختم ہو جائے گی
5:- عمران صاحب سمجھتے ہین کہ امریکی حکومت ، پینتگان ، امریکی تھنک ٹینک سب کے سب “لا علم” ہیں کہ ان کو باجوہ صاحب نے کان بھرے کہ عمران صاحب ” اینٹی امریکہ” ہیں اور انھوں نے بغیر تحقیق کئے یقین کر لیا۔
6:- عمران حکومت گرانے میں امریکہ کا کسی قسم کا کردار نہیں تھا یہ ساری گیم اکیلے باجوہ صاحب کی تھی۔
7:- مشہور و معروف ” سائفر” امریکی دھمکی نہیں تھی بلکہ یہ امریکہ میں مقیم پاکستانی سفیر نے ” محسوس ” کیا تھا کہ امریکہ ہم سے ناراض ہے
8:- امریکہ کو چاہئے کہ اب سب کچھ بھول کر عمران صاھب کے ساتھ نئے تعلقات کا آغاز کرے تو عمران صاحب اب انکے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے بلکہ عمران صاحب انکے اعتماد پہ پورا اتریں گے، جو ملک و قوم کی بہتری کے لیے ہوگا۔
آنے والے وقتوں پر دونوں ملکوں کے
تعلقات کو طویل مدت پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔
عمران صاحب نے ہمیشہ یہی کہا ھے ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد برابری کی سطح پر ہونی چاہیے۔
پاکستان اور پاکستانی قوم کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔