ڈالر ذخائر میں گراوٹ کا سلسلہ رک نہ سکا
اسلام آباد(مسائل نیوز) ایک ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 30 کروڑ سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔سماء نیوز کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 7 ارب 53 کروڑ 69 لاکھ ڈالر ہے جب کہ دیگر شیڈولڈ بینکوں کے پاس 5 ارب 64 کروڑ 99 لاکھ ڈالر کے ذخائر ہیں۔
اس طرح ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 13 ارب 24 کروڑ 68 لاکھ ڈالر ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ایک ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 30 کروڑ 3 لاکھ ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے۔ کم ہونے والا زرمبادلہ تجارتی قرض کی واپسی اور یورو بانڈز پر سسود کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ 6 اکتوبر کو ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے ملک کے مجموعی زدمبادلہ ذخائر 13 ارب 76 کروڑ سے کم ہو کر 13 کروڑ 58 ڈالر کی سطح پر آ گئےتھے، جبکہ سرکاری زرمبادلہ ذخائر بھی کئی ماہ کی کم ترین سطح پر آ جانے کا انکشاف ہوا ہے تھا ۔
دوسری جانب ڈالر کی اڑان پھر سے شروع، قیمت 218 روپے کی سطح سے اوپر چلی گئی، انٹربینک میں مسلسل دوسرے روز امریکی ڈالر مہنگا ہو گیا، اوپن مارکیٹ میں بھی قیمت 222 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ انٹر بینک میں ڈالر50پیسہ اضافہ سے217.88روپے سے بڑھ کر218.38روپے کی سطح پر پہنچ گیا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے اضافہ سے 220 روپے کی سطح سے بڑھ کر 222 روپے پر بند ہوا۔ فاریکس رپورٹ کے مطابق یورو کی قدر میں4.50روپے کا اضافہ ہوا جس سے یورو کی قیمت فروخت214.50روپے سے بڑھ کر219روپے ہو گئی، اسی طرح5.50روپے کے نمایاں اضافے سے برطانوی پاونڈ کی قیمت فروخت244روپے سے بڑھ کر 250روپے پر جا پہنچی ۔