بیرسٹر گوہر تحریک انصاف کے چیئرمین نہیں رہے! اہم ترین فیصلہ سامنے آگیا
اسلام آباد(مسائل نیوز)پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے حوالے سے وقت اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا کہ ای سی پی بیرسٹر گوہر علی خان کو پارٹی چیئرمین کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔ کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے اندرونی انتخابات سے متعلق کیس ابھی تک زیرِ التوا ہے اس لیے چیئرمین شپ کا تعین قانونی طور پر ممکن نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن کا یہ موقف اُس عدالتی فیصلے کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے 13 جنوری 2024 کو کمیشن کے 22 دسمبر 2023 کے حکم کو برقرار رکھا۔ اس حکم میں پی ٹی آئی کے اندرونی انتخابات کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
- Advertisement -
انٹرا پارٹی الیکشن مسترد ہونے کے بعد پی ٹی آئی سے وابستہ امیدواروں نے 8 فروری کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لیا۔ اگرچہ ان آزاد امیدواروں نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں لیکن ای سی پی نے یہ موقف اپنایا کہ چونکہ وہ کسی رجسٹرڈ جماعت کے پلیٹ فارم سے نہیں جیتے لہٰذا وہ 70 مخصوص نشستوں کے اہل نہیں ہو سکتے جو صرف سیاسی پارلیمانی جماعتوں کے لیے مختص ہوتی ہیں۔
بعد ازاں بیرسٹر گوہر علی خان نے ای سی پی کو خط لکھ کر استدعا کی کہ آزاد سینیٹرز کو پی ٹی آئی سے وابستہ تصور کیا جائے مگر کمیشن نے جواب میں بتایا کہ پارٹی کے اندرونی انتخابات کا کیس ابھی تک زیرِ سماعت ہے اور لاہور ہائی کورٹ سے حاصل کردہ اسٹے آرڈر بھی جاری ہے۔
ای سی پی نے اپنے فیصلے میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گوہر علی خان کو پی ٹی آئی کا چیئرمین تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی وہ اس حیثیت میں کوئی قانونی اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔