غربت اور بے روزگاری معاشرتی برائیوں کا سبب
کالم نگار:محمّد شہزاد بھٹی
آج چند اہم معاشرتی برائیوں اور جرائم کو مدنظر رکھ کے بات کی جائے گی اور وہ یہ ہیں مثلا بھیک، نشہ، جوا، چوری اور ڈاکہ زنی وغیرہ اگر ہم اپنے گرد و نواح میں دیکھیں تو بہت سے افراد ان معاشرتی برائیوں اور جرائم میں ملوث افراد دیکھنے کو ملیں گے۔ یہ افراد خود تو ان معاشرتی برائیوں اور جرائم میں سے کسی نہ کسی میں ملوث ہوتے ہی ہیں بلکہ یہ جس گلی، محلہ، کالونی، گاؤں یا شہر میں رہتے ہیں وہاں کے رہنے والے بھی ان سے میل جول دوستی کی بنا پر آہستہ آہستہ ان معاشرتی برائیوں اور جرائم میں مبتلا ہونے لگتے ہیں اس طرح یہ لوگ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔
اگر ہم ان معاشرتی برائیوں کی وجوہات جاننے کی کوشش کریں تو جواب ملتا ہے غربت اور بے روزگاری اس کا بڑا سبب ہے۔ ان معاشرتی برائیوں سے چھٹکارہ پانے کے لیے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ بہت ضروری ہے کیونکہ پیسہ ہی تعویذ ہر بلا ہے۔ جس طرح پاکستان میں آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے پر نا اہلی کا قانون موجود ہے اسی طرح آمدن سے زائد مہنگائی کرنے والوں کے لیے بھی نا اہلی کا قانون بنایا جانا چاہئے۔ ہمارے سیاسی لیڈرز غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کی باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر عملی اقدامات نہیں کرتے۔ جس وجہ سے غربت اور بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور لوگ ان معاشرتی برائیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ در اصل سیاست، فلم، ڈرامہ، لطیفہ وغیرہ نام ہی طنزیہ ہیں۔ سیاست نام ہے
جھوٹ، منافقت، چالاکی، دھوکے بازی، لوگوں کو سبز باغ دکھانے کا، شاید یہی وجہ ہے کہ الیکشن 2013 سے قبل عمران خان کے جھوٹے نعروں اور دعوؤں نے، مستقبل کے سنہرے سپنوں نے بہت سے پاکستانیوں کو بلخصوص نوجوانوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ اس وقت اگر کوئی عمران خان کے ووٹرز یا سپورٹرز کو سمجھاتا کہ یہ اناڑی آدمی ہے یہ ملک تباہ کر دے گا تو وہ ایک نہ سنتے بلکہ عمران خان کو اور تحریک انصاف کو سپورٹ کرنے پر بضد رہتے کہ عمران خان نے پاکستان کو 1992 کا ورلڈ کپ جتوايا ہے اب یہی تبدیلی لائے اور نیا پاکستان بنائے گا جہاں ہر طرف ترقی و خوشالی ہو گی مگر جو کچھ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہوا ہے یا اب ہو رہا ہے یہ سب ان کی امیدوں کے برعکس ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے
- Advertisement -
کہ ہم ایک ایسا پاکستان چھوڑ کر جائیں گے کہ یقین ہی نہیں آئے گا کہ یہ وہی پاکستان ہے اور لوگ مثالیں دیں گے۔ سنئیے عمران خان صاحب جس طرح آپ نے اور آپ کے وزیروں نے لوٹ مار شروع کی ہوئی ہے آپ کی بات سچ ہے لوگ مثالیں ہی دیں گے۔ قرضے 70 سال کی بلند ترین سطح پر ہیں، مہنگائی ستر سال کی بلند ترین سطح پر ہے، بنیادی ضروریات زندگی مثلا گھی، آٹا، چینی، ادویات اور دیگر روزمرہ ضروریات زندگی کی اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ معیشت تباہ ہو گئی ہے، جرائم کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے، اسٹاک ایکسچینج گر گئی ہے، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، لاقانونیت عام ہے، ہر طرف بد امنی چوروں اور ڈاکوؤں کا راج ہے۔ جب اتنا کچھ آپ نے کر دیا ہے تو لوگوں نے مثالیں ہی تو دینی ہیں
اب کہ عمران خان آیا تھا جس نے ہنستے بستے ملک کو تباہ و برباد کر دیا۔ جس نے عوام سے ان کی خوشیاں، ان کی ترقی و خوشحالی چھین لی۔ آج میں آپ سے موضوع سے مطابقت رکھنے والی ایک دلچسپ سٹوری شئیر کرنا ضروری سمجھتا ہوں، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی کا چکر چل رہا تھا جس کا اس لڑکے کے گھر والوں کو بھی پتہ چل گیا۔ گھر والوں نے لڑکے کو سمجھایا کہ اس کام سے باز آ جاؤ۔ کل کلاں لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چل گیا تو تمھارے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔ گھر والے لڑکے کو بار بار سمجھاتے رہے مگر چونکہ عفیفہ بھی غنیم کے ساتھ ملی ہوئی تھی اس لیے وہ ایک کان سے سنتا اور دوسرے کان سے نکال دیتا، عشق کا بھوت سوار تھا۔ قصہ مختصر لڑکی کے گھر والوں کو بھی پتہ چل گیا
اور ایک دن لڑکی کے بھائیوں نے لڑکے کو پکڑ کر اس کی خوب درگت بنائی۔ ٹانگیں اور بازو توڑ دئیے اور اس کے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ اپنے لاڈلے کو اٹھا کر لے جاؤ۔ گھر والوں نے اسے وہاں سے اٹھایا اور ہسپتال لے گئے اور علاج شروع کرایا۔ کئی دن ٹکوریں ہونے کے بعد جب برخوردار کچھ سننے بولنے کے قابل ہوا تو بڑی بہن نے اسے کہا کہ کتنا عرصہ ہو گیا ہے ہم تجھے سمجھاتے رہے کہ باز آ جاؤ، برے کام کا نتیجہ برا ہوتا ہے، مگر تم ہمارے سمجھانے کے باوجود باز نہیں آئے۔
بہن کی اور سب گھر والوں کی ساری باتیں سن کر لڑکے نے ایک تاریخی جواب دیا: آپ لوگوں نے مجھے شاید اس طرح سمجھایا ہی نہیں جس طرح لڑکی کے بھائیوں نے سمجھایا۔ میرے خیال کے مطابق ہم عمران خان کے ووٹرز اور سپورٹرز کو شاید اس طرح سمجھا ہی نہیں سکے جس طرح انہیں عمران خان نے اب سمجھایا ہے۔ اللّه کریم ہمارے حکمرانوں کو غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ان تمام معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ہو جن کا سبب غربت اور بے روزگاری ہے۔