MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بلوچستان بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ پولی ٹیکنک کالج کوئٹہ میں ہونے والے امتحانات ایک سنگین انتظامی تنازعے کا شکار ہوگئے

0 126

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سینکڑوں طلباء کو اُن مضامین میں غیر حاضر کرکے فیل کردیا گیا جن میں وہ شریک ہوکر باقاعدہ سے حاضری شیٹ پر دستخط کئے اور سوالیہ پرچے حل کر کے جمع کرائے

- Advertisement -

کوئٹہ (مسائل نیوز) بلوچستان بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ پولی ٹیکنک کالج کوئٹہ میں ہونے والے امتحانات ایک سنگین انتظامی تنازعے کا شکار ہوگئے سینکڑوں طلباء کو اُن مضامین میں فیل قرار دیا گیا جن کے پیپرز میں وہ باقاعدہ شریک ہوئے تھےرزلٹ کے اجراء کے بعد طلباء نے جب اپنے مارکس شیٹس دیکھے تو حیران کن طور پر اُن کے متعدد پیپرز میں غیر حاضرلکھا ہوا پایا گیامتاثرہ طلباء کے مطابق وہ تمام امتحانات میں شریک ہوئےحاضری شیٹ پر دستخط کئے اور سوالیہ پرچے حل کر کے جمع کرائےمگر اس کے باوجود بورڈ نے انہیں غیر حاضر ظاہر کر کے فیل کردیاذرائع کے مطابق، جب متاثرہ طلباء نے کالج انتظامیہ اور بلوچستان بورڈ کے متعلقہ دفاتر سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ بورڈ کے ریکارڈ میں یہ طلباء پیپر میں شریک ہی نہیں ہوئےتاہم، طلباء نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ سراسر انتظامی نااہلی لاپروائی اور ممکنہ بدعنوانی کا نتیجہ ہےجس کے باعث اُن کا پورا سال ضائع ہونے کے خطرے میں پڑ گیا ہےمتعدد طلباء نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ کوئی معمولی غلطی نہیں بلکہ پیسے کمانے کا نیا طریقہ ہےجہاں جان بوجھ کر نتائج میں گڑبڑ کرکے طلباء کو دوبارہ فیس ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہےواقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد متاثرہ طلباء نے اپنی تحریری درخواستیں بلوچستان بورڈ کی ٹیکنیکل برانچ میں جمع کرادی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، بورڈ انتظامیہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ایک تحقیقات کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاکہ معاملے کی مکمل جانچ کی جا سکےمتاثرہ طلباء نے وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام پیپرز اور انسر شیٹس دوبارہ نکال کر حاضری شیٹس سے تصدیق کی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں، اور اس سنگین غفلت میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائےطلباء کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کو شفاف انداز میں حل نہ کیا گیا تو وہ احتجاجی مظاہرے اور قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہوں گے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.