عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر گئیں! شہباز حکومت پاکستانی عوام کو ریلیف دینے کو تیار؟
اسلام آباد(مسائل نیوز)عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وینزویلا امریکہ کو 3 سے 5 کروڑ بیرل پابندیوں کے تحت آنے والا تیل فراہم کرے گا۔ اس اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں سپلائی بڑھنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 78 سینٹس یا 1.37 فیصد کمی کے بعد 56.35 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ برینٹ کروڈ فیوچرز 61 سینٹس یا ایک فیصد کمی کے ساتھ 60.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم امریکی صدر کی حیثیت سے ان کے کنٹرول میں ہوگی تاکہ اسے وینزویلا اور امریکہ کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی میں اضافے کی واضح علامت ہے جس کے باعث اوور سپلائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ مومو این زیڈ کی مارکیٹ اسٹریٹجسٹ ٹینا ٹینگ کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی تیل کی سپلائی محدود کرنے پر نہیں بلکہ بڑھانے پر مرکوز ہے۔
- Advertisement -
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ معاہدہ ابتدائی طور پر چین جانے والے وینزویلا کے تیل کے کارگو کو امریکہ کی جانب موڑ کر کیا جا سکتا ہے۔ وینزویلا کا میری کروڈ اس وقت برینٹ کروڈ سے تقریباً 22 ڈالر فی بیرل کم قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، جس کے باعث اس ڈیل کی مجموعی مالیت تقریباً 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
پاکستان پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
عوام کی نظریں شہباز حکومت پر
عوامی حلقوں اور ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل سستا ہوتا ہے تو شہباز شریف حکومت کو چاہیے کہ اس کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچائے تاکہ مہنگائی سے پریشان عوام کو کچھ ریلیف مل سکے تاہم حتمی فیصلہ آئندہ پٹرولیم قیمتوں کے جائزے اور حکومتی پالیسی پر منحصر ہوگا۔