MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کون ہے وقار آفریدی؟ بجلی سے کیوں چھینا جینے کا حق؟ خواجہ سرا کیس میں چونکا دینے والے انکشافات

0 58

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پشاور(مسائل نیوز)خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے ورسک روڈ حسن غڑی کے قریب شگئی پل پر دو روز قبل نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے خواجہ سرا بجلی (باسط) کے قتل کیس کے حوالے سے پولیس کی تحقیقات جاری ہے مگر تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مبینہ طور پر ذاتی رنجش کے نتیجے میں پیش آیا۔ واقعے کے بعد بجلی کی میت پوسٹ مارٹم کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کی گئی تھی جہاں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں قتل کے محرکات سے متعلق حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایف آئی آر کا خلاصہ

فقیر آباد تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق شگئی پل کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں باسط عرف بجلی موقع پر جاں بحق ہوا۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (قتلِ عمد) شامل کی گئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ مبینہ طور پر باہمی تنازع کے باعث پیش آیا تاہم ان دعوؤں کی پولیس نے آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق مقتول کی ذاتی زندگی اور سماجی روابط کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کو خفیہ رکھا گیا ہے اور تمام امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

- Advertisement -

دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول باسط عرف بجلی کا قتل مبینہ طور پر دوستی کے تنازع کے باعث پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق ایک نوجوان سے تعلقات کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی جو بعد میں جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی پانچ ماہ قبل شادی شدہ تھا اور خواجہ سرا بننے سے قبل بھیڑ بکریوں کا فارم چلاتا تھا۔ بعد ازاں ایک دوست کے ذریعے خواجہ سرا برادری سے وابستہ ہوا اور ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کی، جبکہ وہ نینا کا چیلا بتایا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مقتول اسلحہ رکھتا تھا اور علاقہ شگئی کے نوجوان وقار افریدی سے مبینہ طور پر قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موٹر سائیکل اور رقم کے معاملات بھی تنازع کا حصہ رہے جبکہ واقعے کے روز بجلی مبینہ طور پر وقار کے حجرے میں موجود تھا جہاں فائرنگ ہوئی۔

خواجہ سرا برادری کے تحفظات

خواجہ سرا برادری نے اس قتل کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹرانس ایکشن الائنس اور دیگر تنظیموں کے مطابق 2015 سے اب تک صوبے میں 150 سے زائد خواجہ سرا قتل ہو چکے ہیں جبکہ تشدد کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے۔ برادری کا مطالبہ ہے کہ پولیس ملزمان کو فوری گرفتار کرے، تفتیش شفاف ہو اور خواجہ سراؤں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر کیسز میں ملزمان کو سزا نہیں ملتی جس سے تشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.