MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

شہیدائے حق وفا کو سلام

0 290

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
جو لوگ فضول اور بکواسیات پر مشتمل یہ تنقید کرتے ہیں کہ پاک فوج میں جنرلز لیول کے لوگ بہت عیاشی جبکہ سپاہی خواری کرتے ہیں تو ان کے لئے عرض ہے کہ پاکستان کے فوجی اپنی سرحدی حدود میں ہی وطن کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں, جس میں ہائی رینک افسران کا لہو بھی شامل ہے,
شہید جنرل افتخار خاں
12 دسمبر 1949کو دس بجے رات پاک ایئر سروسز کا لاہور سے کراچی جانے والا ایک ڈکوٹا طیارہ کراچی سے 65 کلومیٹر شمال مشرق میں جنگ شاہی میں گرا۔
اس پر سوار تمام 26 افراد شہید ہو گئے۔ ان میں میجر جنرل افتخار خاں بھی شامل تھے جن کا نام پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف بننے کیلئے لیا جا رہا تھا۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق شہید
سترہ اگست 1988 کو امریکی ساختہ ہرکولیس سی 130 طیارہ بہاولپور کے قریب گرا اور اس کے نتیجے میں پاک فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق اور 30 دوسرے فوجی افسران شہید ہوئے
پاک فضائیہ کے سربراہ مصحف علی میر شہید
19 فروری 2003کو ایئرفورس کا فوکر ایف 27 کوہاٹ کے قریب کہر میںچھپے پہاڑوں میں گرا جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے سربراہ مصحف علی میر ان کی اہلیہ اور 15 دوسرے افراد شہید ہوئے۔

شہید میجر جنرل جاوید سلطان
6 فروری 2008 کو جی او سی وزیرستان میجر جنرل جاوید سلطان کا ہیلی کاپٹر اس وقت گر کر تباہ ہو گیا جب وہ جنوبی وزیرستان میں فضائی نگرانی کر رہے تھے ۔ ان کے ساتھ تین کپتان، دو بریگیڈیئر، ایک لیفٹیننٹ کرنل نے بھی شہادت کا رتبہ پایا

سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ شہید
25 فروری “08 کو پاک فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ نے خودکش حملے میں شہادت کو گلے لگایا

- Advertisement -

میجر جنرل (ر) امیر فیصل علوی
19 نومبر 2008 کو سپیشل سروسز گروپ (SSG) کے سابق سربراہ میجر جنرل (ر) امیر فیصل علوی نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر O-9 میں PWD کالونی میں اپنے ڈرائیور کے ہمراہ شہادت کو گلے لگایا جب وہ دفتر کے لیے اپنے گھر سے نکلے تھے۔
میجر جنرل بلال عمر خان
4 دسمبر 2009 کو دہشت گردوں نے راولپنڈی کی پریڈ لین میں واقع مسجد پر حملہ کیا, جس کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز (جے ایس ایچ کیو) میجر جنرل بلال عمر خان سمیت کم از کم 35 دیگر سابق فوجی افسران  اور عام شہری شہید ہوئے

31 مئی 2011 کو ایک ہیلی کاپٹر لیہ کے قریب دریائے سندھ میں جا گرا۔
اس پر سوار ڈائریکٹر جنرل پنجاب رینجرز میجر جنرل محمد نواز، ان کا بیٹا اور اے ڈی سی آصف نواز، کرنل عامر عباس (پائلٹ) اور صوبیدار عباد اللہ (ٹیکنیشن) شہید ہوئے

شہیدمیجرجنرل ثنااللہ خان نیازی
2013
میں سوات میں بارودی سرنگ سے گاڑی ٹکرانے کے باعث شہید ہوئے, میجرجنرل ثناء اللہ خان نیازی 1960 میں میانوالی کے علاقے داوٴد خیل میں پیدا ہوئے 1983 میں پاک فوج کمیشن حاصل کیا، اُن کا شمار پاکستان کے انتہائی دلیراورقابل افسران میں ہوتا تھا۔۔ وہ اسٹاف کالج کوئٹہ میں تدریسی خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ مختلف اعلیٰ عہدوں پرفائزرہے،جی او سی سوات تعینات ہونے سے قبل میجر جنرل ثنا اللہ خان نیازی جی ایچ کیو راولپنڈی میں عسکری خدمات انجام دے رہے تھے،شہیدکے پسماندگان میں ایک بیوہ،2بیٹیاں اور والدہ شامل ہیں۔ شہیدمیجرجنرل کے ایک بھائی رحمت اللہ خان کوئٹہ پولیس میں ڈی آئی جی ہیں۔ میجر جنرل ثناء اللہ خان نیازی فروری 2013 میں جی او سی سوات تعینات ہوئے تھے۔
شہد میجر جنرل کے ساتھ لیفیٹینٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان ستار نے بھی جام شہادت نوش کیا

شہید لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی
لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا تعلق 79ویں لانگ کورس سے تھا اور وہ پاکستان آرمی کی سکس آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ تھے۔  جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 10 کور کمانڈ کر رہے تھے، اس وقت لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے پاس بطور بریگیڈیئر ٹرپل ون بریگیڈ کی کمان تھی۔
بعد ازاں وہ امریکہ میں پاکستان کے سفارت خانے میں بطور ڈیفینس اتاشی خدمات سرانجام دیتے رہے۔
امریکہ سے واپسی کے بعد لیفٹننٹ جنرل سرفراز علی سٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ تعینات ہوئے جس کے بعد وہ ملٹری انٹیلی جنس یعنی ایم آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔
ایم آئی میں خدمات سرانجام دینے کے بعد وہ ایف سی بلوچستان ساؤتھ کے آئی جی تعینات ہوئے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں ان کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا۔
لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ہونے کے بعد انھیں کور کمانڈر 12کور، یعنی کوئٹہ کور  تعینات کیا گیا تھا۔
شہید  لیفٹیننٹ جنرل کے ساتھ ڈی جی کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی ایک ہفتہ قبل ہی  پروموٹ ہو کر میجر جنرل مقرر ہوئے تھے انہوں نے شہادت کا درجہ پایا, اں کے علاوہ
آرمی انجینئرنگ کور کے بریگیڈیئر محمد خالد  پائلٹ میجر سعید احمد، پائلٹ میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض نے بھی شہیدا کی فہرست میں اپنا نام لکھوایا
سیلاب زدگان کے لئے امدادی کاروائی کے پیش نظر یہ افسران اپنی پیشہ وارانہ خدمات پر مامور تھے, زمینئ راستہ منقطع ہونے کے باعث بذریعہ ہیلی کاپٹر
یہ افسران لوگوں کی داد رسی پر مامور تھے کہ مؤسم کی خرابی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوئے دیگر واقعات کی طرح یکم اگست کو پیش آنے والا یہ افسوناک واقعہ بھی قوم کو ہمیشہ یاد رہے گا

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.