آئی فون 16 سیریز میں سنگین خرابی، وارنٹی کلیم بھی ناممکن، صارفین کو کتنا نقصان؟
واشنگٹن (مسائل نیوز)پاکستان میں ایپل کی نئی آئی فون 16 سیریز خریدنے والے صارفین شدید مایوسی اور غصے کا شکار ہیں، لاکھوں روپے خرچ کر کے پی ٹی اے منظور شدہ ڈیوائس خریدنے والوں نے انکشاف کیا ہے کہ فونز میں ایسی خرابی سامنے آئی ہے جو روزمرہ استعمال کو ناممکن بنا رہی ہے اور بدترین بات یہ کہ یہ مسئلہ وارنٹی میں بھی کور نہیں ہوتا۔
صارفین کے مطابق آئی فون 16 پرو میکس سمیت دیگر ماڈلز دورانِ کال یا میسج دیکھنے کے دوران مکمل طور پر فریز ہو جاتے ہیں۔ فون کال کے وقت یا میسج اوپن کرتے ہوئے اچانک بے جان ہوجاتا ہے اور کسی بھی کام کے قابل نہیں رہتا۔
پرو پاکستانی کے مطابق اسلام آباد کے ایک صارف نے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ میں نے پرو میکس خریدا تاکہ دنیا کا بہترین فون استعمال کر سکوں، لیکن یہ اہم ترین لمحات میں فریز ہو جاتا ہے۔ یہ دھوکہ دہی ہے۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں کیے گئے سروے کے مطابق درجنوں صارفین اس مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر کراچی کے صدر علاقے میں واقع اسٹار سٹی مال کے ایپل شاپ پر سب سے زیادہ شکایات سامنے آئی ہیں۔
دکاندار دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صرف پیک سیٹ امپورٹ کرتے ہیں، اس لیے اندرونی خرابی کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں۔
- Advertisement -
پاکستان میں ایپل کے آفیشل ڈسٹری بیوٹر مرکنٹائل نے بھی صارفین کو مایوس کیا ہے۔ کمپنی صارفین کو بار بار فیکٹری ریسٹ کا مشورہ دیتی ہے اور پھر کہتی ہے کہ ایپل ہیلپ لائن سے رابطہ کریں جبکہ پاکستان میں ایپل کی کوئی باضابطہ موجودگی نہ ہونے کے باعث یہ سہولت بے فائدہ ہے۔
مزید برآں مرکنٹائل نے مسئلے کا الزام مقامی نیٹ ورکس جیسے ٹیلی نار پر ڈالنے کی بھی کوشش کی لیکن صارفین نے واضح کیا کہ یہی سم کارڈ پرانے آئی فون ماڈلز میں بالکل درست چلتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی صارفین نے اسی خرابی کی شکایات کی ہیں۔
ریڈٹ پر کئی صارفین نے لکھا کہ غیر ایپل کالز پر فون درست چلتا ہے مگر جب کسی دوسرے آئی فون سے کال آتی ہے تو ڈیوائس فریز ہو جاتا ہے۔ ایپل سپورٹ بھی اب تک کوئی موثر حل فراہم نہیں کر سکی۔
کچھ مایوس صارفین نے پولیس اور ایف آئی اے تک رجوع کیا، مگر انہیں پی ٹی اے بھیج دیا گیا لیکن پی ٹی اے، جو ہر درآمد شدہ آئی فون پر حکومت کے لیے بھاری ٹیکس وصول کرتا ہے، اس سنگین مسئلے پر خاموش ہے۔
صارفین کا مؤقف ہے کہ بطور ٹیلی کام ریگولیٹر، پی ٹی اے کو خریداروں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ایپل کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔