آن لائن لون ایپس! 1800 فیصد سود، بلیک میلنگ اور ذاتی معلومات کی چوری بے نقاب
اسلام آباد(مسائل نیوز)سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام نے آن لائن فراڈ اور لون ایپس سے متعلق تشویشناک انکشافات کیے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں کئی موبائل لون ایپس صارفین سے 1800 فیصد تک سود وصول کر رہی ہیں۔ ان ایپس نے صارفین کی موبائل گیلری اور کانٹیکٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرکے انہیں بلیک میل کرنا بھی معمول بنا لیا ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایاکہ لوگ محض 5 ہزار روپے کھانے پینے کے لیے لیتے ہیں مگر یہ قرض ایک نہ ختم ہونے والے جال میں بدل جاتا ہے۔
- Advertisement -
سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ان کمپنیوں کو 2020 میں بغیر کسی سخت شرط کے لائسنس جاری کیے تھے تاہم اب نئے ضوابط کے تحت سود کی حد 100 فیصد تک محدود کر دی گئی ہے اور ذاتی ڈیٹا تک رسائی پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 90 فیصد سے زائد جعلی لون ایپس بند کر دی گئی ہیں۔
یہ دھوکہ دہی صرف موبائل ایپس تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی جعلی اشتہارات کے ذریعے جاری ہے۔
ان اشتہارات میں صارفین کو بغیر سود کے فوری قرضے دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور معروف اداروں کا نام استعمال کرکے عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔
متاثرہ افراد سے پروسیسنگ، رجسٹریشن، انشورنس یا اکاؤنٹ ویریفکیشن کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے یا حساس ذاتی معلومات لی جاتی ہیں۔ ادائیگی یا معلومات دینے کے بعد یہ فراڈیے غائب ہو جاتے ہیں اور کوئی قرض فراہم نہیں کرتے۔