MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بندوق کی نوک پر پولیو مہم

0 324

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عبدالغنی شہزاد

- Advertisement -

جیساکہ آپ کو علم ہوگا کہ 1994 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے بڑے اہتمام کے ساتھ مہم جوئی کی جارہی ہے ، ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں 339,521 پولیو ورکرز پولیو کے خاتمے کےلئے کام کررہے ہیں۔ اس پروگرام کو عالمی دنیا کی صحت سے وابستہ تنظیموں کی نگرانی اور تعاون حاصل رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ان کی ٹیموں پر حملوں کے واقعات بھی پیش ہوتے رہے ہیں ان میں کوئٹہ بھی شامل ہے ۔دلخراش واقعات کے پیش نظر پولیو ورکرز کے تحفظ کے لیے پولیس کی خدمات حاصل کرلی گئی تاکہ مہم میں کوئی خلل نہ پڑجائے۔ اب ہر ٹیم کے ساتھ پولیس بھی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے پولیو بنیادی طور پر طبی ماہرین کا موضوع ہے نہ کہ شرعی ماہرین کا۔ شرعی ماہرین اس مہم کے بارے میں جو بھی رائے قائم کرے اسی کی اہمیت ہوتی ہے، اور ان ہی کی رائے پر انحصار کرنا ہوگا۔اب توجہ طلب بات یہ ہے کہ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم جوئی میں علماء اور مذہبی حلقوں کو زبردستی استعمال کیا جارہا ہے۔ حالانکہ علماء نے کرونا، کینسر ، ہیپٹائٹس سمیت پولیو کے کسی بھی پروگرام کا انکار نہیں کیا ہے نہ رکاوٹ بنے ہیں، بلکہ ڈاکٹروں سے بھی زیادہ تعاون کیا ہے اور کررہے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ تاثر دینا کہ خدانخواستہ علماء رکاوٹ ہیں سوفیصد غلط ہے ۔ پولیو کے بارے میں حکومتی طرزمیں شدت اور غلو کو دیکھ کر اکثر پڑھے لکھے لوگ اور سادہ عوام انکاری ہوگئے ہیں۔ اس بارےمیں علماء اور مذہبی حلقوں کو بدنام کرنا شاید عالمی دنیا سے کوئی مفاد وصول کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ اگر دیکھا جائے آہستہ آہستہ پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اپنی ذمہ داری چھوڑ کر پولیو ورکرز کے کہنے پرعوام کو ہراساں کرنے کے لیے اختیارات سے تجاوز کرنے لگی ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ گلی کوچوں میں بچے پولیو ٹیموں کو دیکھ کر سہم جاتے ہیں اب تو اکثر مائیں بچوں کو خاموش کرانے کے لیے پولیو کا پینترا استعمال کرتی ہیں۔ پولیو کو خوف کی علامت بنانے میں پولیو انتظامیہ اور حکومت کا بڑا کردار ہے ۔آج کل پولیو ٹیم اور پولیس کے نامناسب رویہ کی شکایات بہ زبان زد خاص و عام ہیں، ان میں ایک سنگین شکایت چاردر چار دیواری کے تقدس کی بھی ہے۔ جیساکہ گزشتہ روز جمعہ نماز کے دوران بلوچستان کی قدیم دینی درس گاہ جامعہ تجوید القرآن سرکی روڈ پر مجسٹریٹ نے اس لئے ہلہ بول دیا کہ گیٹ پر مامور سیکورٹی گارڈ نے کہا کہ مدرسہ انتظامیہ یا مہتمم کی اجازت کے بغیر آپ اساتذہ کے گھروں میں جاکر پولیو نہیں پلاسکتے اور یہ وقت نماز کا ہے آپ لوگ نماز کے بعد آکر دفتر استقبالیہ سے رجوع کریں۔ یہ ڈسپلن تو ہر ادارے میں ہوتا ہے آپ کسی کے گھر میں بغیر اجازت کس قانون کے تحت داخل ہوسکتے ہیں؟ سیف اللہ نامی مجسٹریٹ نے پولیو نہ پلانے کا بہانہ بناکر مدرسہ پر حملہ کیا ان کے نامناسب رویے کو دیکھ کر علاقہ مکینوں نے بھی احتجاج کیا اور بعض معززین نے مجسٹریٹ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ مدرسہ انتظامیہ سے اجازت لئے بغیر طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں یہ صحیح نہیں ہے اس پر مجسٹریٹ طیش میں آکر معززین کو بھی گالیاں اور دھمکیاں دیں ۔اور اساتذہ کو اور علاقہ مکینوں کو گرفتار کرکے مزید اشتعال پیدا کیا اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے کارکنوں نے پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری رکھا اور سخت احتجاج کیا۔
بالاآخر جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق کی قیادت میں پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے مذاکرات میں تمام تر مطالبات تسلیم کئے گئے اور احتجاجی دھرنا پرامن طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مذاکرات میں سنئیر نائب امیر مولانا خورشید احمد مولانا محمد ایوب حافظ مسعود احمد مفتی عبد السلام ریئسانی چوہدری محمد عاطف مفتی محمد ابوبکر مولانا جمال الدین حقانی مولانا محمد عارف شمشیر اور دیگر شریک ہوئے ۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر مولانا عبد الرحمن رفیق نے کہا کہ آج کی ناخوشگوار صورتحال کی تمام تر ذمہ داری پولیس انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے ، مدارس کے تحفظ اور ان کی عظمت کے لیے جان کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائےگا،اسلام اور مذہب کیلئے کوئٹہ مسلمان کسی قسم کی پامالی برداشت نہیں کر سکتے۔ اے ڈی سی خلیل مراد نے مظاہرین کو یقین دہانی کراتے ہوئے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث مجسٹریٹ سیف اللہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اس واقعے کی تمام دینی سیاسی حلقوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس عمل کو مدارس کو بدنام کرنے کی سازش قراردی ۔ صوبائی ناظم وفاوفاق المدارس العربیہ پاکستان
کےصوبائی ناظم جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری مالیات رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی مسئول مولانا حفیظ اللہ نے پولیس کی جانب سے جامعہ تجوید القرآن کے اساتذہ اور مقامی افراد کے گھروں پر چھاپے چادر چاردیواری کے تقدس کی پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کی جائے انہوں نے کہا کہ دینی مدارس تمام مسلمانوں کا مشترکہ اثاثہ ہیں معاشرے میں ان کا مثبت کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے ، کچھ عناصر ذاتی عناد کی بناء پر کوئی بہانہ بنا کر اشتعال انگیزی پیدا کرنے کی کوشش کرکے مدارس کو بدنام کرنا چاہتے ہیں جس کی اجازت کوئی مسلمان نہیں دے سکتا، غیر قانونی طور پر مدارس کے نظام کو خراب کرنے والے پہلے بھی ناکام ہوئے اور آئندہ بھی ناکام ہوں گے۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل رکن قومی اسمبلی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا سید آغا محمود شاہ نے گزشتہ روز پولیس آفیسر کی جانب سے جامعہ تجوید القرآن سرکی روڈ شاخ پر حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشتعال پیدا کرنے والوں کے منفی عزائم کا کھوج لگایا جائے، مدرسہ کے دفتر استقبالیہ یا منتظم سے بات کی بجائے سیکورٹی گارڈ اور اساتذہ سے الجھ کر بداخلاقی کا مظاہرہ کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے، اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی قیادت بروقت پہنچ کر معاملے کو ٹھنڈا کیا ورنہ اس قسم کے ماحول سے سماج دشمن عناصر بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اب ضروری ہے کہ پولیو کو مزید خوفناک اور خطرناک بنانے کی بجائے حکومت اپنی حکمت عملی میں مثبت تبدیلی لاتے ہوئے پولیو کی افادیت کے حوالے سے اچھے انداز شعور و آگہی مہم چلائے اس کے لئے علماء کرام سے گن پوائنٹ پر فتووں کا سہارا نہ لیں، کیوں کہ یہ طبی ماہرین کا معاملہ ہے نہ کہ شرعی ماہرین کا ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.