انمول شخصیات کی پہلی برسی،ہر آنکھ اشکبار،تحریر:محمد اسلم
یہ جو تاریخ کا سفر ہے یہ بھی بڑا عجیب ہے لاکھوں انسان روزانہ پیدا ہوتے ہیں و اسی کے مترادف لاکھوں انسان روزانہ اس دنیا کو الوداع کہہ کر اگلے جہاں فانی کی جانب چلے جاتے ہیں۔ یہ دنیا کٸی صدیوں سے آباد ہے کھربوں لوگ آٸے کھربوں چلے گٸے لیکن بہت کم لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا نقش ثبت کرکے جاتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا موڑ دیتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو لوگوں کو جینے کا ادا سکھا کر جاتے ہیں و بہت کم لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں لوگ مدتوں تک یاد رکھتے ہیں۔ جنہیں کبھی بھولتے نہیں۔
انہی نہ بھولنے والے شخصیات میں سے یونین کونسل کاٹھوڑ تحصیل بیلہ ضلع لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے دو شہدا۶ بھاٸی (شہید حاجی مولابخش رونجہ و شہید حاجی محمد بخش رونجہ) کے نام سرفہرست ہیں۔ جو کہ کم و بیش 365 ایام قبل N25 کوٸٹہ کراچی (خونی شاہراہ) گڈانی کے مقام پر سڑک حادثے کے نتیجے میں اس دارفانی کو الوداع کہہ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔یہ دونوں برادران (شہدا۶) انتہاٸی خوش مزاج، شیریں گفتار کے مالک، صوم و صلٰوت کے پابند، بے سہاروں کے سہارہ تھے۔ ان دونوں برادران نے مختصر سی بے وفا زندگی یعنی کم عمری میں ہی کافی عزت،وقار پایا۔ مذہبی، سماجی و سیاسی لحاظ سے ان کا ایک خاص مقام تھا۔ اپنے بہترین مزاج،
نرم گفتار کے بنا۶ پر ادا، ادا کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ خصوصاً یوسی کاٹھوڑ کے لوگوں کیلیے مسیحا سے کم نہ تھے یہ ایسے شخصیات تھے جو بطور سیاسی، سماجی شخصیات، عوامی خدمت گار، جنہیں اپنے سماج، علاقہ کیلیے بہت کچھ کرنے تھے۔ ایسے اشخاص جنہوں نے اپنے لوگوں کی خدمت کو اس حد تک نبھایا کہ اپنے گھریلو کام کاج کو بالاٸے طاق رکھ کر اشرف المخلوقات کی خدمت کو اپنے زندگی کا لازمی جُز بنا کر حقیقی طور پر بہترین حکمت عملی کے ساتھ کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو گٸے۔یہ دونوں برادران (شہدا۶) ہمیشہ خدمت خلق میں پیش یش تھے۔ سماجی لحاظ سے خدمت گاری میں سوالی کو کبھی زات، رنگ، نسل کے اعتبار سے نہ دیکھتے تھے بلکہ جو بھی سوالی بن کر عرض گزاری کرتا
- Advertisement -
تو ہمیشہ غور سے مسٸلہ سن کر مثبت انداز میں ان کا مسٸلہ حل کرتے۔ دینی اعتبار سے انہوں نے ایک خاص نظم و ضبط کے تحت کردار ادا کیا۔ علاقے کے ہر دینی کام میں مدد کرنے کو اپنے خوش بختی تصور کرتے۔ غریب طبقے کو زرہ برابر تنگ نہ کرتے تھے و ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔ ان کا دل ہر وقت زکر الہٰی سے منور رہتا تھا۔ نہ صرف خود مرد حضرات بلکہ اپنے گھریلو ماحول کو دینی ماحول سے خصوصی وابستہ کر رکھا تھا۔ دونوں برادران کے دل میں دوستی کا مہور ابھرا تھا ہر وقت دونوں ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے۔ چاہے گھر ہو یا عبادت نیکی کا کام ہو یا علاقاٸی/راجداری معاملات ہر وقت ساتھ ہوتے حتٰی کہ زندگی کے آخری سفر میں بھی دونوں برادران کی دوستی برقرار رہی۔
اپنے وش گفتار و ہنسی مذاق کی وجہ سے ہر ایک ان سے ملنے کا مشتاق و صحبت میں رہنے کا جستجو تھا۔ جب شہید ہوگٸے تو اُس وقت آخری دیدار میں بھی ان کے چہرے ایسے لگ رہے تھے جیسے پھول سا چہرہ مسکرا کر کہہ رہا ہو کہ میں امر ہو گیا۔دونوں کی شہادت کی خبر لسبیلہ میں آناً فاناً پھیل گٸی بیلہ سے حب تک سوگ کا سماں تھا میتیں جب گھر پہنچیں تو شہدا۶ کے گھر سمیت پورے یونین کونسل میں کہرام مچ گیا لوگ شدت غم سے نڈھال و گٸے تھے۔ نمازجنازہ معروف عالم دین سیّد شجاع الحق شاہ ہاشمی صاحب نے پڑھایا۔ جنازے میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔
کاٹھوڑ بیلہ کی تاریخ میں ان (شہدا۶) کو جو محبت و احترام ملا وہ کسی اور کو شاید نہ ملے۔ آج ایک سال گزر جانے کے باوجود جب کوٸی ان کا نام لب کشاٸی کرتا ہے تو لوگ اتنے غمزدہ ہو جاتے ہیں جیسے آج ہی وفات پا گٸے ہوں۔ کیوں کہ ان کے وفات سے جو خلا۶ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کو پُر کرنا ناممکن تو نہیں مشکل ضرور ہے۔ کیوں کہ ان جیسی عظیم شخصیات شاز و نادر ہوتے ہیں۔ جو صدیوں میں ایک پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ شہید حاجی مولابخش رونجہ و شہید حاجی محمد بخش رونجہ کے درجات بلند رکھے و جنت میں اعلٰی مقام عطا فرماٸے۔