ملک بچاؤ
تحریر: کنول زہرا
- Advertisement -
ناخلف اولاد کا تو سنا تھا مگر ناخلف قوم کی باقاعدہ عکاسی کرنی پڑے گی اس کا اندازہ نہیں تھا, ملک کو دیوالیہ ہونے کے خدشات ہیں اور عوام کی لاپروائی دیدنی ہے, آٹا مہنگا ہونے کا رونا ہے مگر برینڈڈ ملبوسات کے آؤٹ لیٹس پر رش میں کمی نہیں نظر آتی ہے, یہ ہی حال تاجر برداری کا ہے, یعنی کسی کو بھی ملک کے معاشی حالات کی فکر نہیں ہے. جسے عوام ویسے حکمران کے مصداق حکمرانوں کی جانب سے معاشی معاملات پر کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی ہے, البتہ بڑے بڑے فیصلوں کی بڑی بڑی بریکنگ نیوز ضرور نظر آتی ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا ہے.
ادھر پھر دوبارہ سے اقتدار میں آنے کی تمنا لئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان الیکشن کرانے کے پرزور خواہش مند ہیں جبکہ ملک کے معاشی حالات انتہائی دگرگوں ہیں, ظاہر ہے اس صورتحال میں انتخابات کا انعقاد بہت مشکل ہے مگر عمران خان کی ضدی طبیعت الیکشن کرانے پر مصر ہے جبکہ عمران خان کی سابقہ کارگردگی سب کے سامنے ہے, سابق وزیراعظم دور اقتدار میں رہے ہو یا حکومت سے باہر ہو, وہ صرف شکوہ کناں ہی نظر آئے ہیں, ماضی کے تناظر میں عمران خان اگر پھر سے وزیراعظم بن بھی گئے تو بھی انہؤں نے پھر سے دکھرے ہی رونے ہیں.
ملک پہلے ہی معاشی ابتری کا شکار ہے, ایسے میں نئے انتخابات کا انعقاد مزید مشکلات کا موجد بھی ہوسکتا ہے, ان حالات میں پاکستان کی بقا کی خاطر تمام سیاستدانوں کو ایک ہو کر فیصلے کرنے ہونگے, ذرائع ابلاغ کی بھی زمے داری ہے کہ وہ سیاستدانوں کی توجہ اس جانب مرکوز کرایں کہ سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک کو بچانے کے فیصلے کرنے ہونگے, انتخابات ہونا بھی بہت ضروری ہیں مگر اس سے قبل ملک کی معاشی بہتری بے حد ضروری ہے, جس میں ہر ایک نے حصہ ڈالنا ہے.