MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ریکوڈکمپنی پاکستان کو بنانا ری پبلک سمجھ رہی ہے،ان کی مرضی پر نہیں چلیں گے، خالد مگسی

0 274

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے چیئر مین خالد مگسی نے کہا ہے کہ ریکو ڈک کمپنی ہمیں بنانا ریپبلک سمجھ رہی ہے،اب ہم ہر کام انکی مرضی کا تو نہیں کریں گے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا خالد حسین مگسی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں آبی زخائر اور نہروں کو سیلاب سے پہنچنے والے نقصانات پر بریفنگ ایجنڈے کا حصہ رہا۔ رکن کمیٹی ریاض الحق نے کہاکہ دریائے کنہار کے کنارے غیر قانونی تجاوزات قائم ہیں،دریائے کنہار کے کنارے 189غیر قانونی ہوٹل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دریائے کنہار کے کنارے ایک سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی تعمیرات ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جج کا نام لینے سے بھی متعلقہ انتظامیہ گھبراتی ہے،جب ایسے لوگ یہ کام کریں گے تو باقی لوگوں کو کون روکے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہوٹلوں کی ساری گندگی دریائے دریا میں آرہی ہے۔ ممبر ارسا بلوچستان نے کہاکہ پیک سیزن میں بلوچستان کو پانی نہیں دستیاب نہیں ہوتا،سیلاب سے قبل بلوچستان کو پانی کی ساٹھ فیصد کمی تھی۔ ممبر ارسا سندھ نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ سندھ بلوچستان کا پانی نہیں روکتا،بلوچستان کو پورا پانی جا نہیں پا رہا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کو پورا پانی دینے کیلئے سکھر بیراج کا لیول بڑھانا پڑے گا۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ ریکوڈک کمپنی ہمیں بنانا رپبلک سمجھ رہی ہے،اب ہم ہر کام انکی مرضی کا تو نہیں کریں گے۔خالد حسین مگسی نے کہاکہ آپ 18 ویں ترمیم کو کیسے امنڈ کریں گے۔ اجلاس کے دور ان ارسال ممبر سندھ نے بریفنگ دی کہ سندھ کو 60 فیصد پانی کم ملا ہے،ابھی فصلوں کی بوائی کا سیزن ہے مگر پانی نہیں ملا۔بریفنگ کے دوران ممبر پنجاب اور ممبر سندھ ارسا کے اعدادوشمار پر اختلافات سامنے آئے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے بتایاکہ ارسا کے معاملات کا حل نکالنا چاہیے،سیکرٹری آبی وسائل نے کہاکہ یہاں کراس ٹاک کر کے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ 9 سال سے تو میں یہ معاملہ دیکھ رہا ہوں،سندھ کے ساتھ پانی کے معاملے پر زیادتی ہو رہی ہے،بڑا بھائی زیادتی کر رہا ہو تو چھوٹا بھائی یقینا ناراض ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی کی کمی ہے،مگر جنتا سندھ کو مل سکتا ہے وہ نہیں مل رہا۔جوائنٹ سیکرٹری آبی وسائل نے کہاکہ رضا مند ہوں توگڈو بیراج کے اوپر کسی باڈی کو ٹاسک سونپ دیں۔ سید محمد مہر نے کہاکہ باڈی چیک کرے گی کہ کتنا پانی ان اور آؤٹ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے پانی کے تقسیم کا مسئلہ حل ہوگا،چشمہ سے تونسہ تک 8 سے 10 فیصد واٹر لاسز ہیں،تونسہ اور گڈو کے درمیان 10 سے 15 فیصد واٹر لاسز ہیں۔ اجلاس کے دور ان سی ای او نے نیلم جہلم ٹنل خرابی معاملے پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ نیلم جہلم منصوبہ سیلاب سے نہیں ٹنل بیٹھ جانے سے متاثر ہوا۔سی ای او نے کہاکہ نیلم جہلم منصوبے میں چار جولائی کو خرابی پیدا ہوئی،ٹنل میں سیم پیدا ہونے سے ٹرنچز میں زیادہ پانی جمع ہوگیا،زمین کے نیچے زیادہ پانی جمع ہونے سے زمین کے اوپر آنا شروع ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ دس جولائی سے پانی نکالنے کا عمل شروع کیا گیا،بیالیس میٹر تک ٹنل کا ساراملبہ نیچے گرگیا ہے،وزیر اعظم کی ہدایت پر ماہرین کا ایک پینل تشکیل دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ماہرین نے ٹنل گرنے کی گیارہ وجوہات کی نشاندہی کی ہے،منصوبے کے ڈیزائن میں نقص نظر آرہے ہیں۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ کوئٹہ میں انگریز کے دورے میں بنائی گئی سرنگوں سے آج بھی ٹرین گزررہی ہے۔

- Advertisement -

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.