MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان کو ایک اور ریلیف مل گیا

0 225

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز) نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی بریت کو چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی بریت کو درست تسلیم کر لیا اور دونوں کی بریت کو چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈی جی نیب راولپنڈی فرمان اللہ نے بریت کیخلاف اپیلیں نہ کرنے کی منظوری دے دی۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اورکیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزائیں کالعدم کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی مریم نواز کی نااہلی بھی ختم ہو گئی تھی،عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی بریت کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا تھا،نیب مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس کا 41 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پراسیکیوشن اپیل کنندگان کے خلاف اپنا کیس ثابت نہیں کرسکا۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس عامر کیانی پر مشتمل بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تمام اپیلیں نمٹائی جاتی ہیں،اپیل کنندگان کی حد تک احتساب عدالت کا 6 جولائی 2018 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،نیب مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یاد رہے عدالت نے 29 ستمبر 2022 کو مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی بریت کا مختصر فیصلہ سنایا تھا۔29 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مریم نواز کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ میں نے پہلے بتایا کہ نیلسن اور نیسکول کمپنیاں کب بنیں،پھر بتایا کہ ان کمپنیوں نے یہ پراپرٹیز کب خریدیں،انہوں نے انکار کیا کہ یہ پراپرٹیز 1993 سے ان کے پاس ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کمپنیز نے اس عرصے میں ضرور پراپرٹیز خریدیں،مگر وہ کہتے ہیں کہ 2006 میں قطری فیملی سے سیٹلمنٹ کے بعد ان کے پاس آئیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس سارے کیس میں ان تمام ملزمان کو تو کچھ کہنا ہی نہیں چاہیے تھا،یہ کیس تو آپ نے ثابت کرنا تھا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.