MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ناقص نظام تعلیم کی نقصانات

0 637

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر
مولانا عبدالکریم حقانی

یہ کوئی صدیوں پرانی بات نہیں بلکہ صرف چند دہائیوں پہلے تک زندگی میں سادگی تھی، خلوص تھا، محبت تھی، اخلاق تھا، بھائی چارا تھا، روا داری تھی اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا جومل جل کرعزت اور آرام سے زندگی گزارنے کےلیے بہت تھا۔ مگر افسوس کہ پچھلی چند دہائیوں میں ان تمام اعلیٰ قدروں کو “بلند معیار زندگی” نامی عفریت سالم نگل گیا ہے! اب تو یوں گماں ہوتا ہے کے معاشرے میں ہر چیز کا حاصل صرف روپیہ پیسہ اور طاقت حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ ہم لوگوں نے غالباً یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک انسان کی زندگی صرف اسی دُنیا تک محدود ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ قیمت کے فرق سے اب تقریباً سب کچھ ہی بکاؤ ہے۔افسوس کے اس ملک میں جہاں سب کچھ بکا وہاں تعلیم بھی بک گئی۔ ہمارے ہاں تعلیم جب تک انسان کے شعور کی نشونما اور ذہنی بالیدگی کے لیے تھی بڑی سادہ اور زود ہضم تھی اور اس سادہ سی عقلی غذاء پر پل کر اِسی خاک سے نا جانے کتنے دانشوراس ملک کو فیض یاب کرتے رہے۔ مگر جب سے ہمارے تدریسی ادارے نجی ہو کرپیسہ کمانے اور پیسہ کمانے والی مشینیں (طالب علم) تیار کرنے کے کارخانے بن گئے ہیں اُس وقت سے تعلیم انتہائی پیچیدہ اور کافی حد تک بے اثرہو چُکی ہے۔ خوب سے خوب تر کی دوڑ میں آگے نکل جانے کی لگن نے ایسے مسائل پیدا کر دیے ہیں کہ جن سے پیچھا چھڑانا اب ہمارے لیے انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب “مقدار تعلیم” نے “معیار تعلیم” پر فوقیت حاصل کر لی ہے۔
جیسے گذشتہ دنوں رونما ہونے والے واقعات آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بھائی نے بھائیوں کو بیٹا نے باپ شوہر نے بیوی کو قتل کردیا کبھی جائداد کی لالچ کبھی دنیا کی لالچ میں کبھی کیا لالچ یہ سب کچھ جو ہورہا ہے یہ سب ناقص نظام تعلیم کی وجہ ہے اور نصاب میں اسلامی اصول اور عقائد کی عدم فراہمی ہے
رائج نظام تعلیم برطانوی مفکر لارڈ میکاولے کے افکار و نظریات پر مبنی ہے، عصر حاضر میں تنگ نظری، مقامیت، مادیت، اخلاقی بے راہ روی اور عورت کا استحصال، نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے جرائم، نیز خود کشی کے گراف میں اضافہ، یہ سب ناقص نظام تعلیم کی دین ہے ۔نظام تعلیم میں ان خرابیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے اس کو صحیح رُخ دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ فرد اور سماج دونوں کی اصل ضروریات کو پورا کرسکے ۔

- Advertisement -

ہر قوم وملت کی تعمیروترقی بامعنی اور اقدار پر مبنی نظام تعلیم پر منحصر ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ قوم یا ملت کا بہتر مستقبل نظام تعلیم پر ہی منحصر ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ ایک مشہور ماہر تعلیم سے پوچھا گیا آپ ملت کے مستقبل کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے ۔تو ان کا جواب تھا:(مجھے اپنا نظامِ تعلیم دکھاؤ جو بتا سکتا ہے کہ اس کامستقبل کیا ہوگا )۔

رائج نظام تعلیم کے بر عکس اسلام کا نظام تعلیم الٰہی ہدایات پر مبنی ہے جو کسی بھی کمی یا نقص سے پاک ہے۔ اس میں فرد کی تعمیر و تطہیر کے لیے جامع ہدایات موجود ہیں ۔یہ فرد کی شخصیت کو منور کرتا ہے۔اس نظام تعلیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زندگی کے بنیادی اور اہم سوالات کے جوابات فراہم کرتا ہے، مثلاً میں کون ہوں؟ میری زندگی کامقصد کیا ہے؟ مجھے پیدا کرنے والا کون ہے ؟ اس نے مجھے دنیامیں کیوں بھیجا ؟اور وہ کیا کام لینا چاہتا ہے ؟۔ خالق اور مخلوق کے درمیان اور پھر مخلوق اور مخلوق کے مابین کیا تعلقات ہیں
اسلامی اصول میں سب سے پہلے عقیدہ ہوتا ہے اوراس عقیدے کے روشنی میں علم حاصل کیا جاتا ہے اور اسی طرح تمام کے تمام علم اس عقیدے کی تقویت کا باعث بنتا ہے عقیدہ اس کی اولین ترجیح ہوتی ہے اس سے علم پھوٹتاہے اسی لیے تمام فقہی مسائل محدثین ومفسرین کی تحقیقات اصولی عقائد کے ہم آہنگ ہوں گی جس سے معاشرے میں ایک صحیح عمل کی راہ ہموار ہوتی ہے جب کہ سیکولر نظام تعلیم اورلبرل اصول میں علم پہلے ہے اور مابعد الطبعییات عقائد سے بحث کرنے کو غیر ضروری خیال کیا جاتاہے یعنی علم کسی خاص روشنی تناظر میں حاصل نہ کیا جائے گا دعوی تو یہ ہوتا ہے مگر جب عملی طور پر معاملہ پیش آتا ہے تو انسان کو لامحالہ کسی نہ کسی تناظر میں ہی علم حاصل ہوتا ہے تو پھر محض عقل وتجربے پر علم کی بنیاد رکھی جاتی ہے جو آج ہمارے نظام تعلیم میں بعینہ اسی طرح ہورہاہے جو کسی بھی طرح کے خطا کے امکان سے خالی نہیں ہے جب ہر شخص اپنی اپنی عقل اور تجربے کو استعمال کرتے ہوئے علم حاصل کرتا ہے تو اعتماد صرف اپنی ذات وعقل پر بڑھتا ہے علم کے بہت سے معاملات میں انسان تشنہ رہ جاتا ہے اورعلم کادرجہ قطعیت سے ظنيت پر آجاتاہے یہ تمام ناقص سیکولر نظام تعلیم کی اثرات ہے
سیکولر نظام تعلیم نے درسگاہوں میں تیار ہونے والی نسل پر جو تباہ کن اثرات ڈالے ہیں ان کی ایک جھلک یہ ہے عصری اداروں میں پڑھنے والے ہمارے طلباء برائے نام مسلمان رہ گئے وہ اسلام کے بنیادی اصول اور عقائد تک نہیں جانتے نوجوان علم دین سے متنفر ہوگئے
علم دنیا اور علم دین کے راستے الگ الگ ہوگئے ہیں ان کے درمیان اتنی گہری خلیج پیدا ہوگئی ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا حریف تصور کیا جانے لگا ہے
مسلم ملکوں کے حکمران اور ارباب اقتدار دن بدن دینی مفکرین اور قائدین سے دور ہوتے جارہے ہیں۔مسلمان اپنے ماضی سے بے خبر اپنی تاریخ سے برگشتہ اور اپنے آباؤ واجداد کی علمی وراثت سے قطعا بیگانہ ہوگئے ہیں علمی تمدنی اور سیاسی قیادت علمانیون کے پاس چلی گئ ہے دین اور اہل دین کا مذاق اڑانا معمول بن گیا ہیں نسل نسل نو میں احساس کمتری گہرا ہورہا ہے اور وہ ذہنی طور پر مغرب کے غلام بنتے جارہے ہیں
اگر نظام تعلیم اسلام پسند اور دین دار افراد کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ حریفانہ صورتحال پیدا نہ ہوتی
آج اگر آپ دیکھیں ہمارے طلباء دنیا کے شوق اور محبت میں اپنے عزت بھی قربان کردیتا ہے نہ اسلام کی پرواہ کرتا ہے نہ اقرباء اور رشتہ داروں کے پرواہ کرتا ہے دنیا اور پیسے حاصل کرنے کے لیے آج کل کے نوجوان کونسے غلط حربے استعمال نہیں کرتے ہیں یہ سب نظام تعلیم کے ناقص پالیسی ہے جو اسلامی اصول اور قرآنی دستور کے مخالف ہے اگر ہمارے حکمرانوں نے اسلامی نظام تعلیم کو نافذ نہ کیا یااسلامی اصول اورعقائد کونصاب موجودہ نظام تعلیم میں شامل نہ کیا تو پھر مستقبل قریب میں اسے بھی برتر دلخراش واقعے رونما ہوسکتے ہیں جو آج کل ہمارے نوجوان کررہے ہیں اس حوالے سے حکمرانوں کو فکر کرنا چائیے اور نظام تعلیم کو اسلامی اصول ودستور کے تحت ازنو نصاب تشکیل دیا جائے جس میں سرفہرست اسلامی عقائد ونظریات ہوں تاکہ ہمارے نوجوان کی مستقبل صحیح ہوں اورہمارے نوجوان دین اسلام واقف ہوں
پھر معاشرے کی ترقی اور اصلاح ممکن ہیں ان شاءاللہ اور اگر ہمارے نظام تعلیم اسی حالت پر برقرار رہا تو نوجوانوں کی مستقبل تاریک ہے ۔۔۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.