MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

آشیانہ پاکیزہ

0 317

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا

- Advertisement -

یہ کہانی ہے, آشیانہ پاکیزہ کی,  آشیانہ کے مالکان نے اسے بہت محنت, لگن اور محبت سے بنایا ہے, بنانے کے ایک برس بعد ہی مالکان کے سرپرست کا انتقال ہوگیا, اہلخانہ سرپرست کے بنا تنہائی اور خوف کا شکار ہوئے مگر الله کے حکم سے انہیں ایسے چوکیداروں کی ٹیم ملی جن کی بدولت آج تک آشیانہ پاکیزہ کا محفوظ ہے اور انشا الله آئندہ بھی رہے گا, اگرچہ اس آشیانے پر نہ صرف پڑوسیوں بلکہ اس کے نوکروں کی ٹیم کی بھی بہت گہری نظر رہتی ہے, مختلف ادوار میں مختلف نوکروں نے اس آشیانے کی پاکیزگی پر حرف لانے کی کوشش کی مگر ہر بار آشیانہ پاکیزہ کے چوکیدار اس کی حفاظت میں اگے آجاتے اور یوں آشیانہ پاکیزہ دشمن کے منظم مقاصد سے محفوظ رہتا, آشیانہ پاکیزہ میں ایک ایسا ملازمین کا ہیڈ بھی رہا جس نے تین مراحل میں اس میں نوکری کی مگر وہ کبھی بھی اہلخانہ کے لئے مناسب ثابت نہ ہوا اس نے اہلخانہ کے بهروسے کو مکمل ٹھیس پہنچائی اور تجوری سے پیسے نکال کر بیرونی ملک شفٹ ہوگیا, جب اس سے بیروں ملک جائیداد کے حوالے سے باز پرس کی تو اس نے کہا تم ہوتے کون ہو یہ سوال کرنے والے, اس ملازم نے گھر کے چوکیداروں کو تنقید کا نشانہ بنا کر انہیں اہلخانہ کی نظر میں مشکوک بنانے کی مکمل کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا, اہلخانہ نے اس کی ایک نہ سنی اور چوکیداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرکے اس ملازم کو یکسر مسترد کیا, پھر آشیانہ پاکیزہ کے مکینوں نے ایک اور ملازم رکھا جس کی زمے داری بھی سابقہ ملازم جیسی تھی یعنی  وہ بھی ملازمین کی ٹیم کا ہیڈ تھا, ورزش کرنے والا چاک و چوبند ملازم اہلخانہ کے دل کو بہت بھایا, نوجوان اہلخانہ اسے ہینڈسم ملازم کہتے تھے, اس ملازم کو بات کرنے کا ایسا ہنر آتا تھا کہ اہلخانہ ہی نہیں بلکہ چوکیدار بھی اس گے گرویدہ ہوگئے,  اس کی باتوں سے بہت سے پڑوسی بھی بہت متاثر ہوئے مگر کچھ عرصے بعد پتہ چلا وہ ملازم  صرف باتیں ہی اچھی کرتا ہے جبکہ عمل ہوتا نظر نہیں آتا ہے, اس ملازم کی عادت تھی کہ وہ آشیانہ پاکیزہ کے اہلخانہ سے زورمرہ کی اشیا کی خرید میں زیادہ پیسے لینے لگا پوچھنے پر کہہ دیتا سابق ملازم نے گھر کا سارا نظام تلپٹ کر دیا ہے, بس مجھ تین ماہ دیں میں سب ٹھیک کردونگا مگر ہر تین ماہ بعد تین ماہ کا ہی عندیہ دیتا اور کچھ ٹھیک نہ ہوپاتا, اپنی کوتائیاں چھپانے کے لئے اس نے سوسائٹی کے بڑے گھر کے مکینوں سے جھگڑا کرنا شروع کر دیا, جن سے آشیانہ پاکیزہ کے مکینوں نے کچھ قرض لیا ہوا تھا, جو وہ فل وقت حالات کی تنگی کے باعث دے نہیں سک رہے تھے, مقروض ہونے کی وجہ سے آشیانے کے بزرگ سوسائٹی کے سفید گھر والوں کی اخلاقی طور پر قدر کرتے تھے جبکہ نوجوان اس گھر کے لوگوں کو پسند نہیں کرتے تھے,  اس ملازم نے اپنی جذباتی باتوں دے نوجوانوں کو انتشار پر آمادہ کیا, گھر کے بزرگوں اور چوکیداروں نے سمجھایا کہ ہم ابھی اس کے مدمقابل آنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں تمہاری فضول باتوں کی وجہ سے لال ہاوس بھی ہم سے کھنچا کھنچا ہوگیا ہے جبکہ وہ ہمارا دیرینہ دوست ہے, ہم سفید گھر سے یا کسی سے بھی تصادم نہیں چاہتے ہیں مگر خود پسندی کا شکار ہینڈسم ملازم نے کسی کی ایک نہ سنی اور اپنے آپ کو آشیانہ پاکیزہ کا مالک سمجھتے ہوئے گھر کا استحکام کو داؤ پر لگانے کی حماقتیں کرنے لگا, گھر کے در ؤ دیوار کؤ بچانے کے لئے چؤکیداروں نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے ہینڈ سم ملازم سے دوری اختیار کرلی اس صورتحال کو دیکھ کر آشیانہ پاکیزہ کے بزرگوں نے رات بارہ بجے ہینڈ سم ملازم کو گھر سے نکالنے کو کہا اس نے ایک فرضی کاغذ ہوا میں لہرا کر نواجوان اہلخانہ کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا ابتدا میں تو نوجوان اس کی جانب لپکے مگر دھیرے دهیرے انہیں بھی سچ اور جھوٹ کو سمجھ آگئی, اب آشیانہ پاکیزہ کا ملازم خادم نام کا شخص ہے, جو ہینڈسم ملازم کی کوتاہیؤں کو سدھارنے آیا ہے, خادم کو وہ پذائری حاصل نہیں جؤ ہینڈ سم ملازم کو تھی مگر اگر وہ آشیانے پاکیزہ کے مسائل پر قابؤ پالیتا ہے تو اس کی نوکری پکی ہوجائے گی اس ڈر کی وجہ سے ہینڈسم ملازم آشیانہ پاکیزہ کے چوکیدارؤں پر کھل کر تنقید کر رہا ہے, انہیں مختلف نام دے رہا ہے, ان سے کہہ رہا ہے میری نؤکری بحال کرو ورنہ آشیانہ پاکیزہ کے چار ٹکڑے ہوجائیں گے مگر انشا الله ایسا نہیں ہوگا,  آشیانہ پاکیزہ قائم ؤ دائم اور خؤشحال رہے گا اور خوب ترقی کرئیگا, الہی آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.