دنیا کو نبی آخر الزماں ؐ کی شان میں گستاخی کا نوٹس لینا چاہئے، اراکین بلوچستان اسمبلی
کوئٹہ (مسائل نیوز) بلوچستان اسمبلی میں حکومتی واپوزیشن ارکان اسمبلی نے بھارتی پارٹی بی جے پی کی جانب سے گستاخانہ الفاظ کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے۔ بھارت مذاہب کو آپس میں لڑانے کا خطرہ بن گیا ہے بھارت مسلمانوں اور پاکستان کا دشمن ہے وہاں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں دو دن پہلے ایک منصوبے کے تحت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی وفاقی حکومت نے بھارت کے سفیر کو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے پوری دنیا کے مسلمانوں اور او آئی سی کو بھی محمدﷺ کی شان میں گستاخی کا نوٹس لینا چاہئے۔منگل کے روز بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج نے بی جے پی رہنماؤ ں کی جانب سے آنحضرتﷺ کی شان میں گستاخی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی رہنماؤں کے اس عمل سے پوری دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو ظلم ہورہا ہے یہ ایوان اس کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جنونی حکومت کے اس اقدام کے خلاف اسمبلی سے مشترکہ قرار داد منظور ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے۔ بھارت مذاہب کو آپس میں لڑانے کا خطرہ بن گیا ہے انہوں نے کہا کہ او آئی سی سمیت پوری عالمی برادری کو بھارتی اقدامات کا نوٹس لینا چاہئے۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بھارت مسلمانوں اور پاکستان کا دشمن ہے وہاں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں دو دن پہلے ایک منصوبے کے تحت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی وفاقی حکومت نے بھارت کے سفیر کو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے پوری دنیا کے مسلمانوں اور او آئی سی کو بھی محمدﷺ کی شان میں گستاخی کا نوٹس لینا چاہئے۔یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے بھارت کو وہ سبق سکھانا چاہئے کہ آئندہ کوئی بھی ایسی گستاخی کا سوچ بھی نہ سکے۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے بھارت میں آنحضرتﷺ کی شان میں گستاخی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت اس عمل کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے ہر قسم کی تجارت ختم اوراس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔
- Advertisement -