اسلامی لبادے میں دہشتگرد اور فرامین مصطفیٰﷺ
تحریر ۔ فرید بگٹی
- Advertisement -
پشاور امام بارگاہ کے اندر ہونے والے خودکش دھماکے میں شہداء کی تعداد 60 ہوگئ اس واقعے نے وطنِ عزیز میں سوگ کی فضاء قائم کردی معصوم بچوں بےگناہ مسلمانوں اور نمازیوں کو نشانہ بنانے والے نجانے کس مذہب کے پیروکار ہونگے نجانے ان کے رگوں میں کس رنگ کی خون دوڑتی ہوگی آخر کس کا فلسفہ ان کے ذہنوں میں رچ بسی ہوئی ہے انسانیت کا آخری درجہ یہ ہے کہ سڑکوں پر لائن سے گزرنے والے کیڑے مکوڑوں کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جاتا انسان اپنی ہر کوشش اپنا کر ہر طرح کے حالات میں جانوروں کو بھی تکلیف دینے سے کتراتا ہے پر نجانے یہ کس طرح کے لوگ ہیں ان کے سینوں میں دھڑکتا دل آخر کس حیوان کی ہے آخر انہیں ان کی ضمیر بھی نہیں جھنجھوڑتا یہ لوہے سے بھی زیادہ سخت دل کہاں سے لائے ہیں آخر یہ کس عقیدے پر عمل پیرا ہیں
انہیں خوف کیوں نہیں انہیں رحم کیوں نہیں انہیں تکلیف محسوس کیوں نہیں ہوتی آخر ان کے مذہب میں ظلم کا کوئی دائرہ کار کیوں نہیں آخر بربریت کی کوئی حد کیوں نہیں انہیں کوئی بتائے کہ ایسا ظلم پتھروں کے زمانے میں بھی نہیں ہوا انہیں جاکر۔کوئی بتائے کہ تاریخ نوح میں ظلم و بربریت کا ایسا کوئی واقعہ درج نہیں ارے تم نے یہ کہاں سے سیکھا ہے کن سے تعلیم حاصل کی کن کتابوں کو آنکھوں پر رکھ کر چومتے ہو کونسی عبادت کرکے دلی سکون حاصل کرتے ہو آخر تم انسان بھی ہو آخر تم اس سرزمین سے بھی ہو۔۔؟؟
جو۔اسلام کی آڑ میں معصوموں کی جانیں لے رہے ہیں جو اسلام کا جھنڈا لہرا کر نمازیوں کو شہید کررہے ہیں جو مسلمانوں کو بےگناہ شہید کرتے وقت نعرہ تکبیر بلند کرتے اور قرآن کو دلیل بنا کر جانیں لے رہے ہیں ان کے متعلق حضور پاکﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل بتا دیا تھا اب یہ ہم امت کا فرض ہے کہ ہم فرامین مصطفیٰ ﷺ کو عام کریں تاکہ ہر انسان کو ان خوارج دہشتگردوں کے متعلق علم ہوجائے اور وہ اس بات سے باخوبی واقف ہوجائیں کہ یہ جنگیں اسلام کے نام نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ہیں اور ایسے لوگ مسلمان کجا اسلام کے خوشبو سے بھی میلوں دور ہیں
ہمیں اس فتنے پر اسلامی نظریہ عام کرنا ہوگا ہمیں درسی کتب سے لیکر اجتماعات تک حضور پاکﷺ کی خوارج و دہشتگردوں کے متعلق بتائے نشانیاں عام کرنی ہونگی ہمیں اب ایک قوم ہوکر رسول معظّم ﷺ کے بتائے ہوئے خوارج کی نشانیوں کو پہچاننا ہوگا اور ان کی سدباب کرنے کی کوشش کرنی ہوگی
پیغمبر اسلام ﷺ جس طرح اپنی چشم نبوت سے قیامت تک کے احوال کا مشاہدہ فرما رہے تھے اسی طرح آنے والے وقتوں میں دین کے نام پر بپا ہونے والی دہشت گردی کو بھی ملاحظہ فرما رہے تھے ۔ اس لئے آپ ﷺ نے نہ صرف جہاد اور قتال کا فرق واضح فرما دیا بلکہ دین کے نام پر غلو کرنے اور تشدد و غارت گری کا بازار گرم کرنے والوں سے بھی امت مسلمہ کو خبر دار کر دیا ۔ ان نام نہاد مجاہدین کے رویوں اور نشانیوں کو بھی واضح طور پر بیان فرما دیا تا کہ کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے اور امت ان کی ظاہری مومنانہ وضع قطع اور کثرت عبادت و تلاوت سے دھوکا نہ کھا جاۓ ۔ آپ ﷺ نے جہاں اپنی امت کو اس فتنے سے الگ رہنے کی تلقین فرمائی وہاں اس ناقابل علاج کینسر زدہ حصے کو جسد ملت سے کاٹ دینے کا حکم بھی دیا ۔
فرامین رسول اللہ ﷺ کے مطابق دہشت گرد خارجی بظاہر بڑے پختہ دین دار نظر آئیں گے اور وہ دوسرے لوگوں سے زیادہ نماز روزے کے پابند ہوں گے ۔ دوسروں کی نسبت شرعی احکامات پر بظاہر زیادہ عمل کرنے والے ہوں گے ۔ امام بخاری اور امام مسلم حضرت ابوسعید خدری ﷺ سے ذوالخویصرہ تمیمی والی روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
اس کے ( ایسے ) ساتھی بھی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانو گے ۔ “
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ حضرت ابوسلمہ اور حضرت عطاء بن بيار رضى الله عنهما دونوں حضرت ابوسعید خدری ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے حروریہ ( خوارج ) کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ حروریہ کیا ہے ، البتہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ
اس امت میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے ۔ ( جب کہ یہ نہیں فرمایا کہ اس امت سے ایسے لوگ نکلیں گے ) ۔ جن کی نمازوں کے مقابلے میں تم اپنی نمازوں کو حقیر جانو گے ، وہ قرآن مجید کی تلاوت کریں گے لیکن یہ ( قرآن ) ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یا یہ فرمایا کہ ان کے نرخرے سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں خارج ہو جائیں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جا تا ہے ۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے : وہ یہ گمان کر یں گے کہ یہ قرآن ان کے حق میں دلیل ہے ۔ ‘ ‘ یعنی وہ یہ گمان کریں گے کہ قرآن ان کے باطل دعووں کے اثبات میں ان کے حق میں حجت ہے حالانکہ اس طرح نہیں ہے ، بلکہ قرآن اللہ تعالی کے ہاں ان کے خلاف دلیل اور حجت ہوگا ۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو دین سے خارج ہو جائیں گے اگر چہ ان کا دین سے خروج کا کوئی ارادہ نہ ہوگا
حضور نبی اکرم ﷺ نے ان دہشت گردخوارج کے ایک گروہ کی علامت یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ یہ لوگ کم عمر ہوں گے اور دہشت گردی کے لیے ان دماغی طور پر ناپختہ ( brain washed ) کم عمر لڑکوں کو استعمال کیا جاۓ گا ۔ صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور مسند احمد بن حنبل میں حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا :
” عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے یا نکلیں گے جو کم سن لڑکے ہوں گے اور وہ عقل سے کورے ( brain washed ) ہوں گے ۔ وہ ظاہراً ( دھوکہ دہی کے لیے ) اسلامی منشور پیش کریں گے ، ایمان ان کے اپنے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ دین سے یوں خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے ۔ پس تم انہیں جہاں کہیں پاؤ تو قتل کر دینا کیونکہ ان کو قتل کرنے والوں کو قیامت کے دن ثواب ملے گا اور یہ کہ وہ لوگوں کے سامنے ( دھوکہ دہی کے لئے ) اسلامی منشور پیش کریں گے ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ، حضور نبی اکرم ﷺ کے فرمان ’ يقولون من قول خير البرية ‘ کی شرح میں لکھتے ہیں : کہ خوارج و دہشتگرد اپنے موقف کی تائید میں قرآن پیش کریں گے ۔ اس لیے سب سے پہلا نعرہ جو ان کی زبانوں سے بلند ہوا اس کے الفاظ یہ تھے : اللہ کے علاوہ کسی کا حکم ( قبول نہیں ) یعنی انہوں نے اپنا منشور اسلامی لبادے میں پیش کیا تھا ۔ انہوں نے یہ جملہ قرآن حکیم سے اخذ کیا لیکن اس کا اطلاق اس سے ہٹ کر کیا ۔
اور آج آپ مذہب کے نام بنے تنظیموں کو دیکھیں ان کے نعرے ان کا کردار یہاں تک کہ کم عمر لڑکوں کو برین واش کرکے خودکش بمبار کیلے تیار کرنا اور ان کی اپنی عبادات جو ظاہراً شریعت کے عین مطابق ہیں پر حضور پاکﷺ نے سب کچھ واضح کرکے بتادیا یہ طالبان ہوں یا القاعدہ داعش وغیرہ ان کی تمامتر علامات حدیث پاک میں موجود ہیں پر عام عوام۔کو ان حدیثوں کے متعلق علم نہیں کیونکہ دہشتگردی کے متعلق فرامین مصطفیٰ ﷺ کبھی جمعہ کا خطبہ نہ بن سکے اور نہ ہی کبھی عام اسلامی اجتماعات میں ذکرِ عام ہوسکا
یہی وجہ ہے کہ آج بھی کچھ لوگ ان دہشتگردوں کو حق پر۔سمجھتے ہیں کیونکہ وہ حقیقت سے کافی۔دور ہیں
اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے ہمارے ایمان مظبوط فرمائے اور ہمیں حق و سچ پر چلنے بولنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائے آمین
(( بخاری ، الصحيح ، کتاب الأدب ، باب ماجاء في قول الرجل ويلك ، ۵ : ۲۲۸۱ ، رقم : ۵۸۱۱ ۲۔ بخاری ، الصحيح ، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم ، باب من ترك قتال الخوارج للتألف وأن لا ينفر الناس عنه ، ۲ : ۲۵۴۰ ، رقم : ۲۵۳۴ ۳۔ مسلم ، الصحيح ، کتاب الزكاة ، باب ذكر الخوارج وصفاتهم ، ۲ : ۷۴۴ ، رقم : ۱۰۲۴
بخاری ، الصحيح ، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم ، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم ، ۲ : ۲۵۳۹ ، رقم : ۲۵۳۱
عسقلانی ، فتح الباری ، ۲ : ۲۱۹
بخاری ، الصحيح ، کتاب المغازي ، باب بعث على بن أبي طالب وخالد بن الوليد إلى اليمن قبل حجة الوداع ، ۴ : ۱۵۸۱ ، رقم : ۴۰۹۴ ۲۔ مسلم ، الصحيح ، کتاب الزكاة ، باب ذكر الخوارج وصفاتهم ، ۲ : ۷۴۲ ، رقم : ۱۰۲۴ 3ـ أحمد بن حنبل ، المسند ، ۳ : ۴ ، رقم : ۱۱۰۲۱ ))
[…] مکرمہ:(مسائل نیوز)خطبہ حج میں محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا ہے کہ اللہ نے […]