سائیکل
تحریر:وارث دیناری
- Advertisement -
آپ میں سے سب نے یہ ایڈ دیکھا اور سنا ہے بجلی بچائیں اپنے لئے قوم کیلئے -اب چند دنوں کے اندر ایک نیا اور قومی ایڈ آنے والا ہے وہ کچھ اس طرح کا ہو سکتا ہے سائیکل چلائیں صحت بنائیں پیسے بچائیں اپنے لئے قوم کیلئے
آج کے دور میں سائیکل کی اہمیت سے کسیکو انکار نہیں ہے تاہم سائیکل کی بادشاہت اہمیت محبت اور طاقت پاکستان میں 1980تک قائم رہا پھر رفتہ رفتہ اسکی بادشاہت زوال پذیر ہونا شروع ہوا -سائیکل کے ساتھ دشمنی تو اس وقت شروع ہوئی جب موٹرسائیکل آئے تاہم غریب اور متوسط طبقے میں اس کی اہمیت اپنی جگہ پر برقرار رہی پاکستان میں جب چائناکی موٹرسائیکل وں کی انٹری کے بعد سائیکل کا نا صرف ذوال شروع ہوا بلکہ اس کا خاتمہ ہونے لگا مجھے بہت اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب 1985میں میں نے ایک سیکنڈ ہینڈ سائیکل لیا تو خوشی سے پاگل ہورہا تھا دن کو کام کاج اور پڑھائی کرنے میں مصروف ہونے کی وجہ سے سائیکل چلانے کا ٹائم نہیں ملتا تو راتوں کو سائیکل گھر سے لے کر سڑک پر جاکر چلاتا ایسا محسوس کرتا کہ میں ہوا میں اڑ رہا ہوں موسم کی شددت کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا نا گرمی لگتی تھی اور نا ہی سردی -ایک مشہور پاکستانی اردو فلم کا ایک گانا تھا جس میں ادکار ندیم سائیکل چلاتے ہوئے گانا گا رہا ہوتا -چل میرے دو پہیوں کے گھوڑے چل چلا چل دوڑے چل -اس وقت یہاں کی آبادی کوئی بیس ہزار کے قریب تھی شہر میں درجنوں سائیکلوں کی دوکانیں ہوا کرتے تھے سہراب اور ایگل سائیکلیں بہت مشہور ہوتے تھے تاہم چائنا کے علاوہ انگلینڈ اور دیگر ممالک کے سائیکلیں بھی ہوا کرتے تھے لیکن یہ بہت زیادہ مہنگے ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتے تھے – آج میرے شہر کی آبادی ڈھائی تین لاکھ ہونے کے باوجود پورے شہر میں ایک دو دوکانیں سائیکلوں کی ہیں دیکھا جائے تو سائیکل سے زیادہ ماحول دوست کوئی سواری نہیں ہے کفایت شعاری میں تو اس کا کوئی ثانی نہیں ہے دور ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں -پہلے لوگ سائیکلوں کو سوداسلف لینے گھریلوں کام کاج سکول آفیس جانے کیلئے استعمال کرتے تھے اب سرمایہ دار افراد اس کو گھرمیں رکھ کر ایکسرسائز کرتے ہیں تاہم آج کل کے کمرتوڑ مہنگائی نے ایک بار پھر سائیکل کی اہمت واضع کی ہے – کوئی دور تھا پاکستان میں پٹرول کی نسبت ڈیزل بہت سستا ہوتا تھا تو لوگوں نے اپنی موٹر کاروں سے پٹرول انجن نکال کر ڈیزل انجن لگا دئے تھے – ملک بھر سے لوگ اپنی گاڑیوں میں ڈیزل انجن لگانے کیلئے کوئٹہ کا رخ کرتے تھے پھر ایک دور آیا کہ پاکستان میں پٹرول کے ساتھ ڈیزل کو بھی پر لگ گئے تو -1999میں سی این جی نے اپنے قدم رکھا تو لوگوں نے پٹرول اور ڈیزل کی نسبت سی این جی کو سستا پایا تو دھڑا دھڑ اپنی گاڑیوں میں سی این جی سلینڈر رکھوانے شروع کئے اور چند سالوں میں پاکستان میں سی این جی اسٹیشن وں کا ایک جھال بچھ گیا سی این جی پمپ لگانے والوں بھی خوب منافع کمایا 2008میں دنیا میں سب سے زیادہ سی این جی پر چلنے والی گاڑیاں پاکستا ن ہی میں پائی جانے لگی تاہم پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں کی طرح جب سی این جی کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ شروع ہوا تو لوگوں نے سی این جی کا استعمال کم کرنا شروع کیا اب میرے خیال میں سی این جی کا استعمال برائے نام رہ گیا وہ بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں چلنے والے کچھ گاڑیوں میں ہورہا ہے – میں نے لکھنا تو سائیکل پر شروع کیا یہ کہا پر پہنچ گیا ہوں خیر سائیکل کے دوست زیادہ ہیں تو دشمنوں کی بھی کوئی کم تعداد میں نہیں ہیں سائیکل کے دوست غریب لوگ ہیں جبکہ اس کے دشمن بڑے سرمایہ کار ہیں ان بڑے سرمایہ کاروں کو سائیکل ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے کسی نے کیاخوب لکھا ہے کہ ملٹی نیشنل بینک کے ایکسی ای او نے لکھا ہے سائیکل معیشت کی دشمن ہے کیونکہ چلانے والا بینک سے قرضہ نہیں لیتا ہے سائیکل کی انشورنس نہیں کرواتا اس کی مرمت کیلئے ہزاروں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے چند روپوں میں کام ہوجاتا ہے پٹرول نہیں خریدتا ہے پارکنگ فیس اور ٹال پلازوں پر کوئی فیس ادا نہیں کرتا ڈرائیونگ لائسنس کی مدمیں کوئی رقم ادانہیں کرتا ہے سائیکل چلانے کی وجہ سے وہ صحت مند رہتا ہے اور کئی خطرناک بیماریوں سے بچا رہتا ہے ایک سائیکل کی وجہ سے مختلف کاروبار اور مختلف پیشوں سے وابستہ درجنوں افراد کے کاروبار پر فرق پڑتا ہے یہ تو ان لوگوں کی سوچ ہے جو صرف اپنے فائدے کے بارے میں ہی سوچتے رہتے تاہم دیکھا جائے تو پاکستان جیسے ایک غریب معاشی طور پر بد حال ملک میں کمرتوڑ مہنگائی میں سائیکل غریب کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں ہے پاکستان میں پٹرول کی بچت کیلئے حکومت کو چاہئے کہ سائیکل کلچر عام کرے نیز پٹرول اور بجلی کی بچت کیلئے سولر پلیٹیں اور سائیکلیں غریبوں کو مفت دے جبکہ عام آدمی کیلئے اس پر سبسیڈی کا اعلان کرے حکومت تیل کی بچت کیلئے سوائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام بڑی گاڑیاں سرکاری ملازمین سے واپس لی جائیں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی پر بھی خصوصی نظر رکھی جائے تاکہ پبلک کو بہتر سفری سہولتیں میسر ہوسکیں -ساتھ ہی سائیکل کلچر کو عام کرنے کی خاطر معروف شخصیات کی جانب سے لوگوں کو سائیکل چلانے کی ترغیب اور فائدے بتائے جائیں
کمر توڑمہنگائی کو دیکھکر کسی دل جلے نے کیا خوب کہا کہ آج کے دور میں محبت اور شادی اپنے ہی شہر میں کی جائے -تو بہتر ہے ورنہ سفری خرچے فقیربنادئیں گئے