اومی کرون
تحریر:ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
ڈبلیو ایچ او نے جنوبی افریقہ میں پائے گئے کرونا وائرس کی نئی قسم B.1.1.529 کو’اومی کرون’ کا نام دیاہے۔اومی کرون کو خطرناک قرار دینے کی وجہ سائنسدانوں نے اس میں تغیرات کی انتہائی زیادہ تعداد بتائی ہے جو کہ کسی بھی دوسری قسم سے کہیں زیادہ ہے۔ وائرس کی مذکورہ قسم جنوبی افریقہ میں پہلی بار سامنے آئی ہے۔مگر طبی ماہرین کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ اس ویریئنٹ کا پہلا کیس جنوبی افریقہ میں ہی پیدا ہوا ہو۔ اس قسم کا ابتدائی نمونہ بوٹسوانا میں بھی پایا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس نئی قسم میں تشویش کی چاروں اقسام (الفا، بیٹا، ڈیلٹا اور گاما) اور تین اقسام (کاپا، ایٹا اور لیمبڈا) میں شناخت شدہ تغیرات شامل ہیں۔ اومی کرون میں تقریباً 50 کے قریب تبدیلیاں ہیں اور ان میں سے 30 سے زیادہ اسپائیک پروٹین میں ہیں جو داخلے سے پہلے انسانی خلیے کی دیواروں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔
- Advertisement -
یہ خطر ناک اس لیے ہے کہ اسپائک پروٹین میں کم از کم 30 تبدیلیاں ہیں جو کہ کرونا وائرس کو انسانی خلیوں میں داخل ہونے دیتی ہیں۔ اومی کرون وائرس کی شناخت کا عمل کچھ پیچیدہ ہے۔ عام لیبارٹری میں کیے جانے والے پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے صرف یہی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آیا کسی میں کرونا وائرس پایا جاتا ہے یا نہیں تاہم کچھ لیبارٹریز میں یہ سہولت ضرور موجود ہوتی ہے کہ وہ اس ٹیسٹ کی بنیاد پر یہ تشخیص کر سکتے ہیں کہ آیا کرونا کی قسم اومی کرون ہے یا کرونا کا کوئی اور ویریئنٹ ہے ۔ ڈیلٹا کے مقابلے میں اومی کرون ویریئنٹ کئی گنا تیزی سے پھیلتا ہے
لیکن اس کے اثرات کی شدت خاصی کم ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ اب تک اومی کرون ویریئنٹ کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے اور مرنے والوں کی شرح بہت کم ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق نئی قسم کے 100 سے کم جینومک سلسلے دستیاب ہیں۔ اس کا دیگر اقسام اور کوویڈ19 ویکسینز پر اس کے اثرات سے موازنہ کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ لیکن سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اسپائیک پروٹین پر تغیرات کی زیادہ تعداد اس تناؤ کو انسانی مدافعتی ردعمل کے نظام کے ذریعے پیدا کردہ اینٹی باڈیز سے بچنے میں مدد دے گی۔
ابھی مکمل طور پر ویکسین شدہ لوگوں کے لیے خطرے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ اومی کرون وائرس تجویز کرے کہ یہ ویکسی نیشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز سے بچ سکتا ہے۔ لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس میں اینٹی باڈیزسے لڑنے کی صلاحیت ہے کیونکہ تغیرات اسپائیک پروٹین میں ہوتے ہیں جسے انسانی جسم کے مدافعتی ردعمل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اگرچہ ویکسی نیشن تمام تناؤ کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوتی لیکن اس نے اموات، ہسپتال میں داخل ہونے اور انفیکشن کی شدت کو کم کیا ہے۔ اومی کرون کے خلاف بھی یہی معاملہ ہو سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ وائرس کی یہ نئی قسم اب تک اتنی زیادہ مہلک اور جان لیوا تو ثابت نہیں ہوئی جس کا خطرہ تھا لیکن جس تیز رفتاری سے اس کا پھیلاؤ ہو رہا ہے، وہ ایک پریشان کن امر ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق جب اومی کرون کسی بھی شخص پر حملہ آور ہوتا ہے توشروع میں ایسا لگتا ہے کہ متاثرہ فرد کو نزلہ یا زکام ہے کیوںکہ اس وائرس کے لاحق ہونے کی ابتدائی علامات کچھ ایسی ہی ہیں۔ دیگر عام علامات میں گلے میں خراش، ناک کا بہنا اور سر درد شامل ہیں۔ اومی کرون کی علامات نسبتاً ہلکی اور فلو جیسی ہیں جو کرونا وائرس کی دیگر اقسام سے زیادہ مختلف نہیں۔ اِن علامات میں ناک کا بہنا، کھانسی اور بخار شامل ہیں۔اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اپنا ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ کرونا وائرس کی تشخیص اور تصدیق ہو سکے جس کے بعد ہی یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ وائرس کی کون سی قسم نے متاثر کیا ہے۔
اومی کرون سے قبل منظر عام پر آنے والی کرونا وائرس کی دیگر اقسام میں ایک اہم علامت یہ تھی کہ متاثرہ مریض کو شکایت ہوتی تھی کہ اس کی سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے لیکن اومی کرون میں یہ علامات اس شدت سے ظاہر نہیں ہوتیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اومی کرون کس حد تک کسی کو متاثر کرتا ہے ؟اس کا انحصار کافی حد تک اس بات پر ہے کہ کیا متاثرہ شخص نے کرونا کی ویکیسن لگوا رکھی ہے یا نہیں اور آخری ویکیسن لگوائے کتنا عرصہ گزر چکا ہے۔
اب تک ماہرین کا ماننا ہے کہ اومی کرون وائرس کرونا کی کسی بھی پرانی قسم بشمول ڈیلٹا سے زیادہ تیزی سے پھیلا ہے۔ لیکن مثبت بات یہ ہے کہ اومی کرون کی اس خصوصیت کے باوجود اس نے لوگوں کو اتنا متاثر نہیں کیا جتنا ڈیلٹا نے کیا تھا۔اسی وجہ سے اومی کرون سے متاثرہ افراد کو ہسپتال میں داخلے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔ ایک اندازہ یہ ہے کہ اومی کرون پرانے وائرس کی اقسام کی طرح پھیپھڑوں پر اثر انداز نہیں ہوتا جس کی وجہ سے مرض میں شدت نہیں آتی اور یہ اتنا زیادہ مہلک نہیں رہتا۔
کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک دوسری تحقیق میں پتا چلا ہے کہ وائرس کی قسم ڈیلٹا کے مقابلے میں اومی کرون سے متاثر ہونے کی صورت میں ایمرجنسی یا ہسپتال کے وارڈ میں داخلے کا امکان نصف ہوتا ہے۔
مدافعتی نظام میں مشکلات سے دوچار افراد پر اومی کرون کا حملہ شدید ہوتا ہےـ جو افراد کرونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لے چکے ہوتے ہیں ان کا مدافعتی نظام ایسے افراد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے جنہوں نے یا تو ویکسین کی کوئی خوراک نہیں لی ہوتی یا مطلوبہ خوراکیں مکمل نہیں کی ہوتیںـ بوڑھوں اور لاعلاج امراض میں مبتلا افراد کو بوسٹر ڈوز کی ضرورت دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہےـ بوسٹر ڈوز صرف ان لوگوں کے لیے مناسب نہیں جنہیں ویکسین کی پہلی یا دوسری خوراک کے دوران الرجی کی مشکل پیش آئی ہوـ ان کے علاوہ سب لوگ بوسٹر ڈوز لے سکتے ہیں ـ کسی کو بھی بوسٹر ڈوز لینے سے کوئی مشکل نہیں ہوگی جبکہ بوسٹر ڈوز لینے سے ان کا مدافعتی نظام زیادہ موثر ہوجائے گاـ
تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اومی کرون ویریئنٹ چاہے زیادہ منتقلی کا حامل ہو لیکن ڈیلٹا ویریئنٹ سے بھی ہلکے انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ اگر کوئی شخص کرونا سے پہلی بار متاثر ہوتا ہے اور اس سے مقابلہ کر کے صحت یاب ہوجاتا ہے تو اس کی قوت مدافعت اس قابل ہوجاتی ہے کہ وہ اگلی بار کرونا کا بہتر اور بھرپور مقابلہ کرسکے اور کرونا وباء کی سنگینی سے ممکن حد تک بچ سکے۔ انسان کی قوت مدافعت میں ایک عنصر ٹی خلیات ( Tcells) ہوتا ہے، جو کہ کسی بھی سابقہ بیماری سے دوبارہ لڑنے اور اس کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
محققین ایک مقالے میں کہتے ہیں کہ اومی کرون کے وسیع تغیرات (Mutations) اور اینٹی باڈیز (Antibodies) کو بے اثر کرنے کے لیے حساسیت میں کمی کے باوجودٹی سیل مددگار ہوسکتا ہے اور اومی کرون کے خلاف بہتر ردعمل فراہم کرے گا۔ درحقیقت مدافعتی نظام کی دو پرتیں ہیں جو SARS – CoV-2سے نبرد آزما ہوسکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دفاع کی پہلی لائن جسم کی فطری قوت مدافعت ہے، جو کہ کسی بھی انفیکشن کا فوری ردعمل ہے۔ اس کے بعد وائرس کا سامناAdaptive Immunity سے ہوتا ہے، جو کہ ٹی سیلز اور اینٹی باڈی رسپانسکے ذریعے بنائے جانے والے انفیکشن کا مخصوص ردعمل ہے، جسے میموری بی سیلز (Memory B cells ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔جن لوگوں کو ویکسین لگ چکی ہے یا جو انفیکشن سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ان کے ٹی اور بی خلیے ایک ہی وائرس کے ساتھ تصادم کے بعد تیزی سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور مدافعتی نظام کسی انفیکشن کو بیماری کا سبب بننے سے پہلے مؤثر طریقے سے انسان کو محفوظ کر سکتا ہے۔
ٹی خلیوں میں ٹی کا مطلب تھائمس (Thymus) ہے، یہ وہ عضو ہے جس میں خلیوں کی نشوونما کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ ٹی خلیات بنیادی طور پر خون کے سفید خلیے ہوتے ہیں جو مخصوص بیماریوں سے نمٹنے کے لیے مختلف ذرائع تیار کرتے ہیں اور ہمیں بیماری کے خلاف طویل مدتی تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق لوگوں کو سماجی فاصلہ رکھنے، ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے سمیت دیگر کوویڈ19 سیفٹی پروٹوکول پر عمل کرتے رہنا چاہیے۔ یہ اقدامات اب بھی بہت موثر ہیں۔ ||
مضمون نگارایک گروپ آف ہاسپٹلز میں بہ حیثیت مائکرو بیالوجسٹ وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات میں لکھتی ہیں۔
akbersadaf@gmail.com