MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سال تو بدل گیا کیا ہم بھی بدلیں گے۔۔۔؟ تحریر: چاندنی کاکڑ

1 407

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ہر سال کی طرح سال 2021 کا آخری سورج بھی بے شمار تلخ و شیریں یادیں اپنے اندر سمیٹھے غروب ہوگیا، گزشتہ سال 2021 میں بھی پسماندگی کا شکار صوبہ بلوچستان میں کچھ خاصی تبدیلیاں نہیں آئی، عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ صوبے میں بد امنی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا، خاص طور پر ہدایت اللہ خلجی، اس کے بھائی اور دیگر ساتھیوں کی جانب سے صوبہ کے ضرورت مند خواتین کو جھانسہ دیکر انہیں نشہ آور اشیاءکھلا، پلا کر انکی اور پھر نازیبا ویڈیوز بناکر انہیں بلیک میل کرنے کے واقعہ نے صوبہ کے باعزت اقوام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے، جس پر عالمی سطح پر مذمت دیکھنے میں آئی۔ ہدایت خلجی کی گرفتاری عمل میں لائی جاچکی ہے لیکن اطلاعات ہے کہ موصوف کو کافی اثر و رسوخ والے افراد کا آشرباد حاصل ہے لیکن پولیس نے وعدہ کیا ہے کہ انصاف ہوکر رہے گا، تاحال ہدایت خلجی کی جانب سے اغواءکی گئی 6 خواتین کا کوئی پتہ معلوم نہ ہوسکا، پولیس نے ملزم ہدایت خلجی کو منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے اور ثبوت حاصل کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔
بلوچستان میں سال 2021کے دوران کئی سیاسی شخصیات اور دانشور عوام سے بچھڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے، 2021کے دوران بلوچستان میں کئی نامور شخصیات کا انتقال ہوا ان میں بی این پی کے سرپرست اعلیٰ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار عطاءاللہ مینگل، نیشنل پارٹی کے صدر سینیٹر میر حاصل بزنجو ، پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماءسابق سینیٹر شہید عثمان خان کاکڑ، سابق وفاقی وزیر پرنس محی الدین بلوچ، ڈاکٹر کہور خان، حکیم بلوچ، عبدالغفار ہوت، قاضی غلام رسول سمیت دیگر کئی شخصیات شامل ہیں جنکی وفات کے بعد انکی کمی طویل مدت تک محسوس کی جائےگی۔
گزشتہ سال ایک بہت بڑا سانحہ 12مئی 2021 کو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینئر سیاستدان ،نامور سیاسی قوم پرست رہنماءسینیٹر عثمان خان کاکڑ کی شہادت تھی۔ شہید سینیٹر عثمان خان کاکڑ کوئٹہ میں واقعہ اپنی رئشگاہ پر سر پر چھوٹ لگنے سے انتہائی شدید زخمی حالت میں پائے گئے تھے۔ شہید عثمان لالہ کے علاج و معالجہ کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے ہر قسم کا تعاون فراہم کیا گیا اس معاملے میں سندھ حکومت بھی پیچھے نہیں رہی اور شہید عثمان خان کاکڑ کو علاج کی غرض سے کوئٹہ سے کراچی کے لیاقت انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے پر سندھ حکومت کی جانب سے ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئیں لیکن شہید عثمان لالہ جانبر نہ ہوسکے اور جام شہادت نوش کرلیا۔سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی شہادت کو پشتون بلوچستان خصوصاً پشتونوں کی تاریخ میں ایک عظیم سانحہ کی طرح یاد رکھا جائیگا۔ شہید عثمان خان کاکڑ ایک عظیم ہمدرد ،محب وطن اصول پسند انسان تھے لالہ شہید مظلوم عوام کے ترجمان تھے۔ اپنی جوانی سے لے کر 21 مئی 2021 کو عثمان لالہ کے یوم شہادت تک انہوں نے اپنی ساری زندگی بلا رنگ و نسل بغیر کسی مفاد کے عوام کی خدمت میں صرف کرتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔ صوبہ کے غیور بلوچ و پشتون عوام نے بھی شہید عثمان لالہ سے اپنی محبت و عقیدت کا بھرپور اظہار کیا۔ شہید لالہ کی میت پر کراچی سے لیکر انکے آبائی علاقے مسلم باغ تک پھولوں کی پتیاں نچاور کی گئیں۔ یہاں تک کے صوبے کے باپردہ خواتین نے روڈوں پر نکل کر شہید عثمان لالہ کی میت کا استقبال کیا اور شہید عثمان لالہ کے قافلہ کا تہہ دل سے استقبال کیا۔ آہ شہید عثمان خان کاکڑ اس دنیا میں نہیں ہے لیکن آج بھی وہ بلوچستان سمیت ملک بھر کے مظلوم عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔
گزشتہ سال 2021جنوری سے نومبر تک کے سیکیورٹی حکام کے زیر انتظام جرائم کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں رواں سال کل 3573جرائم کے واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ گزشتہ سال کے 3085واقعات کی نسبت 488واقعات زائد ہیں رپورٹ کے مطابق پولیس کے علاقے میں کل صوبے میں قتل کے 811واقعات رپورٹ ہوئے اسی طرح رواں سال نومبر کے آخر تک اقدام قتل کے 329واقعات رپورٹ ہوئے، 2021صوبے میں فسادات کا سال بھی رہا اس سال فسادات کے 287واقعات ہوئے. 249وارداتیں رپورٹ ہوئیں جو گزشتہ سال کی نسبت 17وارداتیں کم ہیں صوبے میں رواں سال نومبر تک چائلڈ لفٹنگ کا کوئی بھی واقعہ رونما نہیں ہوا۔
اسی سال ایک اور دل خراش واقع حیات بلوچ کا ہیں جو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم تھے، وہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فزیالوجی میں فائنل ایئر کے طالب علم تھے۔ وہ 13 اگست 2020 کو ابسور تربت میں فرنٹیئر کور سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک بم دھماکے کے بعد مارا گیا۔ شناختی کارڈ چیک کیے بغیر اور اس کے سینے پر 8 گولیاں فائر کیں .اس کی ظالمانہ موت نے “جسٹس فار حیات” کے نام سے ایک مہم شروع کر دی۔ حیات بلوچ پر فائرنگ کرنیوالے سکیورٹی اہلکار سزائے موت سنادی گئی ہے۔ یہ واقعہ ضلع کیچ کے شہر تربت کے علاقے ابصار میں اپنے والدین کے سامنے پیش آیا۔
زیارت منگی ڈیم کے قریب سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ سے 3 لیویز اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔ زیارت کے پہاڑی تفریحی مقام کے قریب پیش آیا۔ لیویز قبائلی پولیس ہیں جو بنیادی طور پر وسیع صوبے میں امن و امان کا انتظام کرتی ہیں۔ شہید اہلکاروں میں ایک میجر رسالدار، ایک حوالدار اور ایک سپاہی شامل تھے۔منگی ڈیم زیارت واقعے کے خلاف کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پہیہ جام ہڑتال کیا گیا۔ مظاہرین نے کوئٹہ کو چمن، ڑوب، زیارت، لورالائی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے ملانے والی اہم شاہراہوں کو بلاک کر دیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نواب ایاز خان جوگیزئی کی سرپرستی میں زیارت میں دھرنا 12 روز تک جاری رہا۔ دھرنا کمیٹی اور مظاہرین نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کو زیارت اور ہرنائی اضلاع سے نکال کر ان کے اختیار ات کو محدود رکھا جائے۔
سال 2021 میں سیاسی بحران بھی دیکھنے کو ملا۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کے 16ارکان نے وزیراعلیٰ جام کمال خان عالیانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکرٹری کو جمع کرادی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اس تحریک پر سات روز میں بحث کے لیے اجلاس بلایا جائے۔ تحریک عدم اعتماد میں، اپوزیشن ارکان نے اپنے اس اقدام کی چار وجوہات درج کیں۔ اس میں کہا گیا تھا کہ صوبے میں “انتہائی مایوسی” اور بدامنی ہے، جبکہ عالیانی کی “خراب حکمرانی” کی وجہ سے بے روزگاری اور اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ عالیانی نے آئین کے آرٹیکل 37 (سماجی انصاف کا فروغ اور سماجی برائیوں کا خاتمہ) اور 38 (عوام کی سماجی اور معاشی بہبود کو فروغ دینا) کی خلاف ورزی کی اور بجٹ پاس کیا جس کی وجہ سے ملک میں غربت، محرومی اور بدامنی میں اضافہ ہوا۔
کئی مہینوں کی سیاسی کشمکش کے بعد بلوچستان کے وزیراعلیٰ بلوچستان تحریک عدم اعتماد پر گنتی کے اجلاس سے قبل ہی مستعفی ہو گئے۔ 24 اکتوبر 2021 صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال خان عالیانی نے اتوار کی شام اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، جس سے کئی مہینوں کے سیاسی ڈرامے کا خاتمہ ہوا۔ جام کمال کا استعفیٰ گورنر بلوچستان نے قبول کر لیا ہے۔جام صاحب نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا، وہ احترام کے ساتھ چھوڑ دیں گے اور ان کے مالیاتی ایجنڈے اور خراب حکمرانی کی تشکیل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ بہت سی دانستہ سیاسی رکاوٹوں کے علاوہ میں نے بلوچستان کی مجموعی گورننس اور ترقی کے لیے اپنا بھرپور وقت اور توانائی صرف کی ہے۔ اور ان کے مالیاتی ایجنڈے اور بیڈ گورننس کی تشکیل کا حصہ نہیں بنوں گا۔
بالا اخر بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما میر عبدالقدوس بزنجو بلامقابلہ منتخب ہوئے اور گورنر ہاو¿س کو کوئٹہ میں حلف برداری کی تقریب کے دوران وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا نومنتخب وزیر اعلی نے کہا کہ وہ صوبے کے دیگر رہنماو¿ں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں ہم سب کے ساتھ مشاورت سے اگے بڑہےںگے اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔
بلوچستان جو کہ ہمیشہ سے اپنے حقوق سے محروم رہا ہے جس سے لوگ مجبور ہو کر اپنے حقوق کیلئے لڑ پڑتے ہیں اسی طرح گوادر کی عوام نے ”گوادر کو حق دو “تحریک سربراہ مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں اپنے حقوق کیلئے زبردست احتجاج ریکارڈ کروایا۔گوادر کی سڑکیں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں سے بھری ہوئی تھی جو اپنے حقوق کے لیے گوادر کو حق دو کے نعرے لگا رہے تھے مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔گوادر کی مقامی خواتین کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں گوادر بھر کی خواتین نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ جس کے بعد دھرنا دیا گیا۔دھرنے میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور یہ دھرنا 26 روز تک جاری رہا اور بالآخر وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزراءکی سربراہی میں وفد سے ملاقات میں مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکاءنے دھرنا ختم کردیا لیکن بعد میں وعدوں پر عمل نہ ہونے کی بناءپر گوادر کو حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے دوبارہ احتجاج کی دھمکی دی۔
سال 2021 بلوچستان کے طلباءو طالبات کیلئے بھی بہت ب±را سال رہا، کچھ عرصہ تو کورونا کی نظر ہوگیا اور کچھ عرصہ پڑھائی کے بعد جامعہ بلوچستان میں ایک واقعہ رونما ہوا جس میں جامعہ بلوچستان کے 2طلبائ کو اغواءکرلیا گیا۔ واقعہ کیخلاف طلباءتنظیموں نے زبردست احتجاج کیا اور کئی روز یونیورسٹی بند رہے جس سے جامعہ بلوچستان میں جاری امتحانات تعطل کے شکار ہوئیں۔ بارہا صوبائی نمائندوں کی کوششوں کے باوجود احتجاج پر بیٹھے طلباءلاپتہ طلباءکی بازیابی تک احتجاج ختم نہ کرنے پر بضد تھے جس کے بعد انتظامیہ نے احتجاج کے باعث جامعہ بلوچستان کو بند غیر معینہ مدت تک بند کردیا۔ اس کے علاوہ صوبے کی واحد خواتین یونیورسٹی سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی میں بھی سال کے آخر میں سردی کے ستائے طالبات احتجاج پر ا±تر آئے ، احتجاج کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ نے خواتین یونیورسٹی کے اندر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے مرد سیکورٹی فورسز کو بھیجا اور طالبات کو دھمکیاں دیں۔ کچھ عرصہ قبل بھی اسی طرح کا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر گشت کررہا تھا جس میں یونیورسٹی کی ایک خاتون افسر کا ذکر تھا۔ مذکورہ خاتون افسر کے بارے میں یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ خاتون افسر حکام بالا کے آشرباد سے بیک وقت 3عہدوں یعنی ہیڈ آف کنٹرولر انتظامیہ، ہیڈ آف مائیکرو بائیولوجی، اور جی ایس او کے عہدوں پر قابض تھی جس سے یونیورسٹی کے دیگر سینئر سٹاف کی حق کے باعث ذہنی تذبذب کے شکار ہوئیں۔ اس کے علاوہ مذکورہ خاتون افسر سے یونیورسٹی کی طالبات کو بھی شکایات تھی جس کا بارہا وائس چانسلر سے ذکر بھی کیا گیا تھا لیکن طالبات کے مطابق کسی قسم کی شنوائی عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی مذکورہ خاتون افسر کیخلاف کوئی کارروائی کی گئی بلکہ جو طالبہ شکایت کرتی الٹا مذکورہ طالبہ کو بے جا تنگ کیا جاتا۔ اس کے علاوہ طالبات کو معلومات کیلئے یا ضروری کاغذات پر مذکورہ افسر کے ضروری دستخط کیلئے ہفتوں ہفتوں تک دفتر کے باہر انتظار کرنا پڑھتا جس سے طالبات کے مسائل میں مزید اضافہ ہوتا سال تو گزر گیا لیکن طلباءو طالبات کے مسائل حل نہیں ہو پائے۔سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر ساجدہ نورین کو گورنر بلوچستان کے حکم پر عہدہ سے ہٹھا دیا گیا تھا جس کو سال نو میں بلوچستان ہائیکورٹ نے واپس عہدہ پر بحال کردیا۔
گزشتہ سال وکلاءبرادری کیلئے بھی ناگوار گزرا، بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک وکیل کو انکے چیمبر میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا جس کے قاتلوں کے قاتل آج تک گرفتار نہیں کئے جاسکے۔ اسکے علاوہ بارہا وکلاءمطالبات کے حق میں احتجاج کرتے نظر آئے۔ سال کے آخر میں ریکوڈک منصوبہ بارے بلوچستان اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوا جس پر حکومتی ارکان تو مطمئن ہوگئے لیکن ریکوڈک کے مقامی ایم این اے مطمئن نہیں جس کے باعث سال نو میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین ایک نئی کشمکش دیکھنے کو ملے گی۔
گزشتہ سال صوبہ میں ڈاکٹروں سے لیکر طلباءو طالبات تک، صحافیوں سے لیکر انجینئرز تک، ملازمین سے لیکر مزدوروں تک، عام عوام سے لیکر بیوروکریسی تک زندگی ہائے کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ سراپا احتجاج تھے سال گزر گیا لیکن مسائل حل نہیں ہوئے۔ ہر سال کی طرح سال 2022بھی حکمرانوں کے اگلے سال کا سورج صوبے کی کامیابی لے کر طلوع ہوگا جیسے روایتی پیغامات سے ختم ہوا اس کے علاوہ کسی قسم کی مثبت کارکردگی کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ بہر حال ہمیں بلوچستان کی نئی حکومت سے کافی اُمیدیں وابستہ ہیں اُمید ہے کہ نئی کابینہ صوبے کے عوام کی شعوری و معاشی بحالی میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ سال کا اختتام شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال ؒ کی اس شاعری سے کہ
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] نیوز)بلوچستان عوامی پارٹی طلباء تنظیم کے مرکزی رہنما فرید بگٹی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.