MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کوئٹہ ،پانی کی شدید قلت،عوام رونے پر مجبور

2 552

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ (ویب ڈیسک)بلوچستان کے سب سے زیادہ گنجان آباد شہر کوئٹہ کو یومیہ 30ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد کے رہائشی محمد یونس گذشتہ کئی برسوں سے پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔وہ ٹینکر کے ذریعے پانی خریدتے ہیں جو بمشکل ایک ہفتہ چل پاتا ہے۔ ان کے گھر میں پانی کا سرکاری نلکا تو موجود ہے لیکن اس میں کئی سالوں سے پانی نہیں آیا۔ بعض اوقات وہ پڑوسیوں سے پانی مانگ کر لاتے ہیں۔محمد یونس بتاتے ہیں کہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے گھریلو کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ ماہانہ چار سے پانچ ٹینکرز پانی کے لیے وہ فی ٹینکر 1500سے 2000ہزار روپے دیتے ہیں۔

- Advertisement -

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ واسا کے سرکاری نلکے سے کئی سالوں سے ایک بوند پانی نہیں پیا۔ واسا حکام کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کا گھر اوپر ہے، اس وجہ سے پانی نہیں آرہا۔محمد یونس کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں نہ صرف محکمہ واسا کے حکام کو بارہا آگاہ کیا بلکہ وزیراعظم کے سیٹزن پورٹل پر بھی شکایت کی۔ پورٹل پر شکایت کے بعد واسا حکام حرکت میں ضرور آئے لیکن جلد ہی پورٹل پر جواب جمع کروا کے خاموشی اختیار کرگئے۔

کوئٹہ کی 22لاکھ آبادی کو یومیہ 54ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے جبکہ محکمہ واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی(واسا)اور کنٹونمنٹ کے علاقے میں ملٹری انجینئرنگ سروسز کی جانب سے 24.6ملین گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔واسا کے اعداد وشمار کے مطابق شہر کو اس وقت 29.5ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ شہریوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے محکمہ واسا کے کوئٹہ میں کل 405ٹیوب ویل ہیں، جن میں سے 51غیر فعال ہیں۔کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو)نے محکمہ واسا کے متعدد ٹیوب ویلز کے بجلی کنکشنز بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث منقطع کر دیے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.