ہزارہ قبرستان میں پھیلا تعفن تحریر : سدرہ سعید
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 2 دسمبر کو سانحہ مچھ کے شہدا کے ایصال ثواب کیلئے ہزارہ قبرستان میں برسی کا اہتمام کیا گیا۔لواحقین کی سسکیوں کے بیج ہر آنکھ اشک بار تھی۔ شہدا کی قبروں پر قرآن کی آیات کا ورد جاری تھا۔ فضا سوگوارتھی اس موقع پر قبرستان کے اطراف پھیلے کوڑا کرکٹ اور اس کے تعفن نے وہاں موجود لوگوں کا قبرستان میں ٹھہرنادوبر کر رکھا تھا۔
ہزارہ قبرستان کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاون میں واقع ہے۔ اس قبرستان کا کل رقبہ 18 ایکڑ پر مشتمل ہے۔ہزارہ قبرستان کے دائیں جانب مغربی بائی پاس اور بائیں جانب آبادی ہے۔ جبکہ قبروں کے ساتھ کچرے کا انبار لگا ہوا ہے۔
ہزارہ قبرستان کے اطراف پھیلے کچرے کے ڈھیر اور اس سے اٹھنے والے تعفن نے قبروں پرفاتح خوانی کرنے کیلئے آنے والوں اور مقامی آبادی کو گزشتہ 20برس سے پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے اس قبرستان میں دہشت گردی کا شکار ہزارہ برادری کے کئی شہدا بھی دفن ہیں۔
روس اور امریکہ کی افغانستان میں مداخلت کے بعد ہزارہ قبیلے کے افراد کی بڑی تعداد نے پاکستان کا رخ کیا اور صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کواپنا مسکن بنایا۔روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم کے علاوہ ان لوگوں کو اپنی میتوں کو دفنانے کیلئے زمین کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اور آج سے تقریباً 35 سال قبل ہزارہ برادری نے اس مقصد کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت قبرستان کمیٹی تشکیل دی۔
سیکرٹری اطلاعات قبرستان کمیٹی محمد علی نے قبرستان کے حوالے سے بتایا کہ ہزارہ برادری نے تین مرحلوں میں اس زمین کو خریدا۔ قبرستان کیلئے زمین کی خریداری کیلئے ہر خاندان (فی شادی شدہ جوڑا) سے پیسے لئے گئے۔ آخری مرحلے کی 9 ایکٹر زمین کیلئے فی شادی شدہ جوڑے سے 10 ہزار روپے لئے گئے۔اب یہ قبرستان 18 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے۔ محمد علی بھی قبرستان کےساتھ کچرے کے ڈھیر سےخاصے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے متعدد بار حکام بالا کو آگاہ کیا لیکن اس کا مکمل حل نہ نکل پایا۔
نئے وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے وزارت اعلی کا حلف لینے سے قبل جھاڑوں پکڑ کے شہر میں صفائی مہم کا آغاز کیا اور ہزارہ قبرستان کے اطراف سے ڈمپ کچرا اٹھانے کی ہدایت کی۔
علاقے میں پھیلے تعفن سے بےزار ہزارہ ٹاو¿ن کے رہائشی کاشف حیدری نے بتایا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کیجانب سے کچھ عرصہ قبل ہزارہ قبرستان سے چند ٹرک کچرا اٹھایا گیا لیکن بعد میں صورت حال جوں کی توں رہی۔
کاشف نے مزید بتایا کہ علاقے کے کچرے کا ٹھیکدار جو خود بھی اس علاقے کا رہائشی ہے ماہانہ پیسوں کے عوض ہزارہ ٹاو¿ن سمیت اردگرد کے گھروں اور دکانوں کا کچرا اکھٹا کرکے قبرستان کے پاس پھینکتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا کوئی نہیں اور یہ سلسلہ 2 دہائیوں سے چلا آرہا ہے۔
اس مسئلے پر جب ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ سیدال خان لونی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہزارہ قبرستان ان کی حدود میں نہیں آتا اس لئے وہ اس کچرے کیلئے جواب دہ نہیں ہیں۔ لیکن پھر بھی انہوں نے رکن صوبائی اسمبلی قادر علی نائل کی درخواست پر 3مرتبہ یہاں سے کچرا اٹھوایا جبکہ یہ ان کی زمہ داری نہیں بنتی تھی۔
ہزارہ قبرستان میں 20 سال سے جمع ہوتا یہ کچرا اب 20 سے 25 ہزار ٹن تک پہنچ چکا ہے جبکہ پورے کوئٹہ شہر کا ایک دن کا کچرا 8 سو ٹن ہوتا ہے۔ مزید تحقیقات کرنے پر پتا چلا کہ یہ قبرستان شادینزئی یونین کونسل میں آتا ہے جس کی ذمہ داری ڈسٹرکٹ کونسل کی بنتی ہے۔
اس معاملے پر ڈسڑک کونسل سے رابطہ کیا گیا اور وجہ جانی گئی کہ آخر 20 سال سے یہ کچرا مکمل طور پر کیوں نہ اٹھایا جا سکا؟ جس پر چیف آفسر ڈسٹرکٹ کونسل مطیع الرحمان کاسی نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ کونسل کے پاس اس کچرے کو ہٹانے کیلئے کوئی مشینری ہے اور نہ اس حوالے سے کوئی فنڈ دیا گیا۔ فنڈ کیلئے سیکرٹری صاحب سے بھی بات کی لیکن ابھی تک فنڈ نہیں ملا۔درخواست ابھی تک محکمہ فنانس میں پڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایڈمنسٹریشن نے پہلے یہ جگہ پولیس اسٹیشن کیلیے مختص کی تھی لیکن اب وزیر اعلی صاحب نے سمری دی ہے کہ اس سارے کچرے کو ہموار کرکے اس پر پبلک پارک بنا دیا جائے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں کچرے کو ٹھکانے لگانا آسان نہیں ہے۔ اس لئے یہاں پارک کا بننا بہترین انتخاب ہوگا۔اس حوالے سے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کے درمیان میٹنگ ہونا ابھی ہونی ہے۔
چیف آفسر کہتے ہیں کہ 2017 ئ کی مردم شماری کے مطابق کوئٹہ کی دیہی آبادی 13 لاکھ تھی اور جس علاقے کی آبادی 5 لاکھ سے زائد ہو اسے میٹرو پولیٹن قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت کوئٹہ کاجو دیہی علاقہ ان کے پاس ہے اس کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ اس میں 4 میٹرو پولیٹن بنانے کی پیشکش کی گئی ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ اس کےباوجود اسے شہری کونسل قرار نہیں دیا گیا ہے اور اس کو فنڈ بھی دیہی کونسل (دو لاکھ آبادی )کے مطابق دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے دستاویزات کے ساتھ حکام بالا تک بھی یہ بات پہنچائی ہے اور جب وہ خود کہہ رہے ہیں کہ اس علاقے کو 4 میٹروپولیٹن میں تقسیم کریں گے تو اس کا مطلب یہی ہوا نہ کہ اس کی آبادی 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور ہمیں فنڈ 2 لاکھ کی آبادی کا دیا جاتا ہے۔
خیر! چاہئے وجہ مشینری اور فنڈز کی عدم دستیابی یا پھر حدود کا تعین ہو لیکن اس علاقے میں عدم توجہی کا یہ تعفن 20 سال سے اپنی جگہ جوں کا توں ہے۔ہزارہ قبرستان میں موجود اس کچرے کو صاف کروانے کی ذمہ داری جس کی بھی بنتی ہے صوبائی حکومت کو چاہئے کہ جلد از جلداس کاسنجیدگی سے نوٹس لیں اور اس جگہ کو صاف کروا کر وہ کر دیکھائیں جو گزشتہ سرکار نہ کروا سکی۔
اسلام جس طرح انسان کو اس کی زندگی میں عزت و احترام کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے، اسی طرح مرنے کے بعد بھی اسے معزز و محترم گردانتا ہے اور ذہنی وجسمانی صحت مند انسان، صاف ستھرا ماحول اور قبرستان میں دفن میتوں کی حرمت کو قائم رکھنا بھی مہذب معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔