MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

طلبہ یونینز بحال ہوں، جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا حق آئین پاکستان دیتا ہے ،جان محمد بلیدی

0 80

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(مسائل نیوز )نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ طلبہ یونینز بحال ہوں، جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا حق آئین پاکستان دیتا ہے قائد اعظم یونیورسٹی کے ذمہ دار پارلیمنٹ کی منظور شدہ یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق محتاط رہیںاس وقت 70 سے 74 نوجوان گرفتار ہوئے، جن کی ضمانتیں ہو گئی ہیں اور مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی یونیورسٹی کا ایک پرانا ایشو ہے،ایکٹنگ وائس چانسلر بننے سے پہلے بہتر ماحول میں تھی اس وقت طلبہ اور وی سی کے درمیان ایک اچھی سمجھ بوجھ تھی، لیکن جذپال کے آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ایکٹنگ وائس چانسلر کے صرف 15 دن کے دور میں طلبہ کے لیے مشکلات پیدا ہو گئیں، سمر سیشن ختم کر دیا گیا اور طلبہ کو اسٹیل سے نکالنے کا سلسلہ شروع کیا گیا مختلف صوبوں جیسے بلوچستان، سندھ، پنجاب، کے پی کے اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے طلبہ جو یونیورسٹی کے ہوسٹلز میں رہ کر تعلیم حاصل کر رہے تھے، ان کے سمسٹرز متاثر ہوئے اور ان کی تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت تقریبا 70 سے 74 نوجوان گرفتار ہوئے، جن کی ضمانتیں ہو گئی ہیں اور مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جان بلیدی نے یونیورسٹی میں سابقہ وی سی کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹیرینز اور سینٹ سینیٹرز کے بارے میں شائستہ زبان استعمال نہیں کی گئی اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین پر بھی غیر مناسب دبا ڈالنے کی کوشش کی گئی۔جان محمد بلیدی نے زور دیا کہ ہر شخص کو پاکستان میں قانونی طور پر اپنے سیاسی حقوق استعمال کرنے اور تنظیم سازی کرنے کا حق حاصل ہے، اور یونیورسٹی میں طلبہ یونینز کی بحالی آئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد طلبہ یونینز اور اسٹوڈنٹ اسٹرگل سے بنتی ہے، اور اگر ان کو روکنے کی کوشش کی گئی تو یہ آئین کے خلاف ہوگا۔انہوں نے یونیورسٹی کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ کی منظور شدہ یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق محتاط رہیں اور طلبہ کے تعلیمی اور سیاسی حقوق کو یقینی بنائیں، تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رہ سکیں اور یونیورسٹی میں جمہوریت مضبوط ہو۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.