MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کوئٹہ میں ٹریفک اصلاحات: ہائی کورٹ کا سینٹرل ڈسٹرکٹ میں آٹو رکشوں پر پابندی اور الیکٹرک بسیں فوری چلانے کا حکم

0 102

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(مسائل نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ماححولیاتی آلودگی پر اہم فیصلے جاری کرتے ہوئے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں آٹو رکشوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت کو شہر کے لیے الیکٹرک بسوں اور جدید ٹرانسپورٹ کے منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

ٹریفک اصلاحات کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے حکومتی اداروں کی جانب سے پیش کردہ جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیسکو کی رپورٹ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔

عدالت عالیہ کے اہم احکامات:

فوری فنڈز کا اجراء: عدالت نے ٹریفک پولیس کو درپیش مالی مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے 188.7 ملین روپے کے فنڈز فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت کی۔

جدید بسوں کا منصوبہ: حکومت بلوچستان کی جانب سے 12 گرین بسیں اور خواتین کے لیے 5 مخصوص پنک بسیں متعارف کرانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے جلد از جلد مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔

- Advertisement -

ناقص بسوں پر پابندی: عدالت نے شہر کے کسی بھی روٹ پر پرانی یا تکنیکی طور پر ناقص بسوں کو چلانے سے روک دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں ایسی بسوں کو فوری طور پر ضبط کر لیا جائے۔

اسمارٹ بس اسٹینڈ کا قیام: عدالت نے زرغون سریاب پل کے نیچے “اسمارٹ بس اسٹینڈ” کے قیام کے لیے زمین مختص کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سریاب پل کی توسیع کی ضرورت نہیں، لہٰذا اس زمین کو عوامی مفاد میں استعمال کیا جائے۔

مشترکہ حکمت عملی: محکمہ ٹرانسپورٹ، ٹریفک پولیس اور محکمہ خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک مسائل کے پائیدار حل کے لیے مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنائیں۔

عدالت عالیہ نے واضح کیا کہ ٹریفک اصلاحات اور ماحولیاتی بہتری کے منصوبوں پر عمل درآمد میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

کیس کی مزید سماعت 30 اکتوبر 2025 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.