رمضان سے قبل رمضان۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
رمضان سے قبل رمضان کے اہتمام ہی ھماری شرعی ذمہداریوں میں سب سے اہم ترین ھے۔ دینِ اسلام تمام دین میں معتبر و مقدس ھے اور اس کا خاص حسن رواداری احساس اور دردمندی ھے۔ اللہ نے اپنے حبیب محمد ﷺ کے دین میں ایسے احکامات فرائض میں شامل کئے ہیں غیر مسلموں نے بھی اپنایا اور ان خصائص پر فخر کرتے تھکتے نہیں مگر افسوس ھم امت محمدی ﷺ اس قدر بدقسمت اور بدنصیب ھونے کے ساتھ ساتھ منافق و جھوٹے بے ایمان ھوچکے ھیں کہ اللہ نے اپنی رحمت برکت فضل چھین لیا اور ھم سب پر پھٹکار اور نحوست کے دلدل میں پھنس کر رہ گئے اس کی سب سے بڑی وجہ دنیا و دولت پرستی اور دین سے دوری ھے۔ ھماری حالت تو ایسی ھوگئی ھے جیسے کسی غلاظت کے اوپر چاندی کا ورق چڑھادیا گیا ھو اوپر سے چمک و دمک اور اندر سے غلیظ سڑان ۔۔۔۔ معزز قارئین!! زکواة فطرہ صدقہ خیرات یہ تمام عوامل کی ادائیگی کا دینِ محمدی ﷺ میں وارد ھے۔ قرآن و سنت کی روشنی و رہنمائی سے معلوم ھوتا ھے کہ سب سے پہلا حق گھر کے مالی کمزور بہن بھائیوں پھر رشتہ داروں پھر ساتھ پڑوسیوں پھر محلہ داروں پھر علاقہ پھر شہر اور پھر دیگر شہر کیلئے حکم ھے۔ عام لوگوں اور صاحب دولت اور صاحب استطاعت دونوں کیلئے یہی حکم رکھا گیا ھے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! عنقریب رمضان المبارک کی آمد آمد ھے ہر سال یہی دیکھا گیا ھے کہ کراچی میں ملک بھر سے بھکاریوں اور دیگر تنظیمیں کہیں بھیک تو کہیں چندہ طلب کرنے میں مصروف عمل نظر آتی ھیں اور ھمارے شہر کراچی کے صاحب دولت اور صاحب استطاعت والے اپنے نفس کی اطاعت کرتے ھوئے قرآن و حدیث کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتے ھیں جس سے مستحق اور حقدار محروم رہ جاتے ھیں یہ گناہ کبیرہ ھے کیونکہ یہ صاحب دولت اور صاحب استطاعت والے اپنی دولت کو زائل کر بیٹھتے ھیں دوسری جانب حکم اللہ اور حکم رسول کی نافرمانی کے مرتکب بھی ھوجاتے ھیں ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آپ جانتے ھیں کہ روز بروز ہوشربا مہنگائی کا طوفان آسمان کو چھو رھا ھے آپ اس سال پروفیشنل بھکاریوں اور پروفیشنل چندہ طلبوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ھوئے اپنے گھروں پڑوسیوں اور محلہ داروں میں مستحقین و حقداروں کو تلاش کرکے زکواة خیرات صدقات اور فطرہ انہیں لوگوں میں تقسیم کریں کیونکہ یہ سب کے سب سفید پوش عزت نفس رکھنے والے ھیں کسی کے آگے ہاتھ نہیں بڑھاتے بلکہ چپ سادھ لیتے ھیں۔ درد و الم سے مرجاتے ھیں ان جیسے مستحقین اور حقداروں کی دعائیں عرش پر بناء رکاوٹ و تاخیر پہنچتی ھیں۔ ابھی سے اہتمام کریں اور فہرستیں تیار کریں تاکہ آپ کے کراچی اصل مستحقین کو آپ کے دیئے گئے زکواة خیرات صدقات اور فطرہ سے مالی مدد سے معاشی سنبھل مل سکے۔ یہ عمل ہر شہر ہر گاؤں دیہات میں بھی کیا جائے تاکہ کراچی میں ریوڑ کا ریوڑ داخل نہ ھوسکے۔ ھماری حکومت ہو یا ریاست اسے دین محمدی ﷺ سے کیا لینا دینا اور سروکار اگر ان میں رتی برابر بھی شرم و حیا ھوتی تو وزارت مذہنی امور و اوقاف اپنی جمع شدہ رقم کو نہ بینظیر اسکیم کا نام دیتا اور نہ ہی انصاف ٹرسٹ افسوس کہ یہ خالصتاً مذہبی معاملہ ھے جسے سیاستدان و حکمران جمہوری ٹھکیدار و لٹیران اسے باپ کی ذاتی جاگیر سمجھتے ھوئے جس لعنتی اور بھکاری عمل کا ثبوت دیتے یہی وجہ ھے کہ حکمرانوں کے چہروں پر اللہ کی پھٹکار اور لعنت برستی رہتی ھیں بحرکیف یہ میرا موضوع نہیں بس پاکستانی عوام سے یہی گزارش و عرض ھے کہ آپ اپنے تئیں شریعت محمدی ﷺ کے اصولوں اور احکامات پر عمل کرکے اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی حقیقی خوشنودگی حاصل کریں اب ھم سب نے ہی معاشرے اور ملک کو سدھارنا اور سنبھالنا ھے یاد رکھئے بلخصوص صاحب سروت صاحب دولت و صاحب استطاعت آپ اپنی دولت کو
رمضان سے قبل رمضان کو اپنے لئے حقیقی خوشی اور روح کی تازگی کیلئے وہی طریق اپنائیے گا جس کا حکم قرآن سے وارد ھے۔ سفید پوش لوگوں کو سنبھالیں اور پروفیشنل بھکاریوں اور مافیائی این جی اوز کا بھرپور طریقہ سے بائیکاٹ کریں۔ دعا ھے اللہ ھمیں قرآن و حدیث کے مطابق ہمارا ہر فعل بنادے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔!!