لاہور (مسائل نیوز) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے بھی پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی گرفتاری کی مخالفت کر دی۔انہوں نے جی این این کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔جو کچھ فواد چوہدری نے کیا اس کا بھی دفاع نہیں کیا جا سکتا۔اس قسم کی زبان استعمال نہیں ہونی چاہئیے اور اس قسم کی دھمکیاں نہیں دینی چاہئیے،قانون میں لچک بھی ہوتی ہے۔
فواد چوہدری کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جاتا اور وہ اس کا سامنا کر لیتے۔سیاسی لوگوں کو ہتھ کڑیاں لگانا اور جیلوں میں ڈالنا عمران خان کا کام تھا،ہمیں یہ کام نہیں کرنا چاہئیے۔ہماری جماعت کو کم ازکم ان کاموں سے بالا ہونا چاہئیے۔
سیاست ہم نے دشمنی اور نفرت میں بدل دی ہے، مسلم لیگ ن کو اس میں شامل نہیں ہونا چاہئیے۔عمران خان نے جو کچھ کیا،فواد چوہدری اس کا دفاع کرتے تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے ساتھ اس قسم کا سلوک کیا جائے۔
- Advertisement -
۔ جب کہ ملک کے معروف قانون دان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ریاستی ادارہ نہیں‘ نہ ہی بغاوت کا مقدمہ کرسکتا ہے۔ فواد چوہدری کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چہرہ ان کا چھپایا جاتاہے جس کی شناخت پریڈ ہونی ہوتی ہے، فوادچودھری کا چہرہ جس مصلحت کے تحت بھی چھپایا گیا افسوس ناک ہے اور عدالت میں سیاسی شخصیت کو چہرہ ڈھانپ کر پیش کرنا انسانیت کی تذلیل ہے جب کہ فوادچودھری سیاسی شخصیت کے ساتھ وکیل بھی ہیں اور ان کی ایک شناخت ہے۔
چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ فواد چوہدری پنجاب کی حدود میں تھے اور لاہورہائیکورٹ کی دسترس میں تھے، فواد چوہدری کو عدالت میں پیشی کا حکم تھا مگر پولیس انہیں پنجاب کی حدود سے نکال رہی تھی، فواد چوہدری کے خلاف ریاستی بغاوت کا مقدمہ در ج تھا تو کیا الیکشن کمیشن ریاستی ادارہ ہے؟ الیکشن کمیشن تو انتظامی ادارہ ہے، اس کے پاس عدالتی اختیارات نہیں ہیں۔
[…] آباد (مسائل نیوز) مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری ، شہباز گل اور اعظم سواتی کی […]