لاہور (مسائل نیوز) گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلٰی چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لے لیا،لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کر دیا اور چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست نمٹا دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔
گورنر کے وکیل نے بتایا کہ گورنر پنجاب سے رابطہ ہو گیا،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کر دی ہے،گورنر بلیغ الرحمان نے وزیراعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دئیے کہ گورنر نے نوٹیفیکشن واپس لے لیا ہے تو معاملہ ہی ختم ہو گیا۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پنجاب اسمبلی میں چوہدری پرویز الٰہی نے 12 جنوری کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا،وزیراعلٰی پنجاب نے آرٹیکل 137 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔
- Advertisement -
جسٹس عابد عزیز شیخ نے قرار دیا کہ اعتماد کے ووٹ کا نتجہ گورنر پنجاب نے مان لیا ہے،گورنر کے وکیل نے بیان عدالت میں دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کر دیا اور چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی درخواست نمٹا دی۔ قبل ازیں دوران سماعت وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے وکیل نے اعتماد کے ووٹ کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اعتماد کا ووٹ لے کر سیاسی بحران ختم کردیا، وزیراعلی کو 186 ممبران نے اعتماد کا ووٹ دیا۔
انہوں نے کہا کہ گورنر کا دوسرا نوٹیفکیشن وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا تھا جسے کالعدم ہونا چاہیے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ اگر گورنرپنجاب کا نوٹیفکیشن کالعدم ہوا تو اعتماد کا ووٹ بھی کالعدم ہوجائے گا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے عدالت کو مطمئن کرنے کے لیے ووٹ نہیں بلکہ آرٹیکل 137 کے تحت ووٹ لیا ہے۔ جسٹس عاصم حفیظ نے استفسار کیا کہ اگر گورنر کل دوبارہ اعتماد کے ووٹ کا کہہ دیں تو پھر کیا ہوگا؟ اب بھی اگر گورنر کوئی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں تو صورت حال کیا ہوگی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ گورنر کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ہٹائے جانے کا اقدام تو غیر قانونی تھا جس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے قرار دیا کہ عدالت اتفاق رائے سے ایک فیصلہ کر دے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدالت اس پر اپنی فائنڈنگ دی۔