MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

عمران خان جیسے لیڈر کو ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولنا چاہئیے

1 309

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز) خاتون جج کو دھمکی دینے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان عدالت میں پیش ہوئے۔اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔عمران خان کی آمد سے قبل کمرہ عدالت کو خالی کرا لیا گیا تھا۔احاطہ عدالت کو بھی مخصوص وکلاء اور صحافیوں کے لیے نوگو ایریا بنا دیا۔
انٹری گیٹ سے کمرہ عدالت تک کے راستے کو ٹینٹ لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ایڈشینل سیشن جج کو دھمکانے پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں عدالت عالیہ کے لارجر بینج نے کی۔ہدیگر جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس بابر ستار اور جسٹس طارق محمود جہانگیری بھی بینچ کا حصہ ہیں۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ حامد خان صاحب آپ عمران خان کی نمائندگی کر رہےہیں۔ آپ کے موکل سے ماتحت عدلیہ بارے بیان کیا توقع نہیں تھی۔ ماتحت عدلیہ بہت مشکل حالات میں کام کر رہی ہے۔ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے ۔جس حالت میں ماتحت عدلیہ کام کر رہی ہے انکا اعتماد بڑھانے کیلئے اس عدالت نے بہت کام کیا، عدالت کو توقع تھی کہ آپ اس عدالت میں پیش ہونے سے پہلے وہاں سے ہو کر آتے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، میں توقع کر رہا تھا کہ احساس ہوگیا غلطی ہو گئی۔جس طرح گزار ہوا وقت واپس نہیں آتا،زبان سے کہی ہوئی بات بھی واپس نہیں آتی ۔سیاسی جماعت کے لیڈر کے فالورز ہوتے ہیں اس کو کچھ کہتے ہوئے سوچنا چاہئے۔عمران خان کے قد کے آدمی کو ایسا کرنا چاہئیے۔عمران خان کریڈٹ جاتا ہے انہوں نے جوڈیشل کمپلیکس بنایا۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ جبری گمشدگیاں بد ترین ٹارچر ہے ،بلوچ طلبہ کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ٹارچر ہے ۔تین سال سے ہم ان معاملہ کو وفاقی حکومت کو بھجوا رہے ہیں لیکن ٹارچر کے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔آپ کا جواب اس بات کا عکاس ہے کہ جو ہوا اس کا آپ کو احساس تک نہیں۔آپ کے موکل کو احساس نہیں کہ انہوں نے کیا کہا۔کاش اپنے دور حکومت میں اس ٹارچر کے مسئلے کو اس جذبے سے اٹھاتے۔
اگر تب یہ مسئلہ سنجیدگی سے دیکھا گیا ہوتا تو آج نہ ٹارچر کا مسئلہ ہوتا نہ بلوچ طلبہ کا۔عدالت نے وکیل سلمان صفدر کو شہباز گل کیس کا فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کی۔شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے کیس کا عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا۔شہباز گل ٹارچر کیس پر اسلام آبادہائیکورٹ نے حکم جاری کیا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹارچر کی ذرا سی بھی شکایت ہو تو کیا جیل حکام ملزم کو بغیر میڈیکل داخل کرتے ہیں؟ ۔
یہ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ سے کب نمٹائی گئی اور تقریر کب کی گئی؟ وکیل نے بتایا کہ پٹیشن 22 اگست کو نمٹائی گئی اور تقریر 20 اگست کو کی گئی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو تقریر کی گئی؟۔اڈیالہ جیل کس کے انتظامی کنٹرول میں ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے کیس ریمانڈ بیک کیا تھا،کیا عمران خان کے اس وقت دیئے گئے بیان کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟ یہ عدالت تنقید کو خوش آمدید کہتی ہے فیصلوں پر جتنی تنقید کرنی ہے کریں،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ اس عدالت کو رات 12بجے کھلنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ہم ہمیشہ انصاف کی فراہمی کے لیے موجود تھے۔
ماتحت عدلیہ کے ججز کوئی ایکس اور وائے نہیں ۔یہ وہ عدالت ہے جو صرف قانون پر چلتی ہے اس کے تمام ججز غیر جانبدار ہیں،چیف جسٹس

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] آباد(مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہاہے کہ ایک رپورٹر مجھے تنگ کر رہا تھا تو میں نے اسے […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.