سعودی عرب میں زمین سے سیکڑوں فٹ اونچے فٹ بال کی اصلیت کیا نکلی؟
سعودی عرب (مسائل نیوز)گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر سعودی عرب میں ایک ایسے فٹبال اسٹیڈیم کی ویڈیو وائرل ہو رہی تھی جو بظاہر ایک بلند و بالا عمارت کے اوپر تعمیر کیا گیا دکھایا گیا۔
ویڈیو دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے فٹبال اسٹیڈیم آسمان میں معلق ہے اور اسے مستقبل کے کسی عظیم منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ پھیلایا گیا کہ یہ اسٹیڈیم 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کے دوران میچوں کی میزبانی کرے گا۔
یہ ویڈیو دراصل ایک غیر سرکاری کانسیپٹ ڈیزائن تھی جس میں نیوم شہر میں ایک ارب ڈالر کی لاگت سے 46 ہزار نشستوں والا اسٹیڈیم دکھایا گیا، جو زمین سے 350 میٹر کی بلندی پر ایک مخصوص ٹاور پر تعمیر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
ویڈیو کے مناظر نے دنیا بھر میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ شکوک و شبہات کو بھی جنم دیا۔ کئی ناظرین نے اس کے ڈیزائن، سکیورٹی اور حقیقت سے مطابقت پر سوالات اٹھائے۔
کچھ لوگوں نے اس کے ڈھانچے کو فلمی کردار آئی آف ساورن سے مشابہ قرار دیا تاہم ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ یہ ویڈیو مکمل طور پر کمپیوٹر سے تیار کردہ ہے اور حقیقی منصوبے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
- Advertisement -
سعودی عرب کے حقیقی منصوبے کے مطابق نیوم اسٹیڈیم 2034 ورلڈ کپ کے لیے 15 مجوزہ مقامات میں شامل ہے، جن میں کچھ نئے اور کچھ تزئین شدہ میدان ہوں گے۔
سعودی حکام کا منصوبہ ہے کہ یہ اسٹیڈیم نیوم کے مرکزی علاقے دی لائن میں تعمیر کیا جائے گا جو ایک سو میل طویل جدید، خودکار اور ماحول دوست شہر کے طور پر 2045 تک مکمل ہوگا۔ یہ شہر مکمل طور پر قابلِ تجدید توانائی پر چلنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔
46 ہزار ناظرین کی گنجائش والا یہ اسٹیڈیم سعودی وزارتِ کھیل، نیوم انتظامیہ اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے اشتراک سے تعمیر کیا جائے گا۔
تعمیراتی کام 2027 میں شروع ہو کر 2032 میں مکمل کیا جائے گا تاکہ ٹورنامنٹ سے دو سال قبل میدان تیار ہو۔ فیفا کی جانب سے نومبر 2024 میں شائع شدہ سعودی عرب کی سرکاری بولی میں نیوم اسٹیڈیم کو دنیا کا سب سے منفرد میدان قرار دیا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق یہ اسٹیڈیم دی لائن کی پانچ منزلہ میگا اسٹرکچر کی چوتھی اور پانچویں سطح پر واقع ہوگا، جس کے ساتھ ورلڈ کپ فین پارک، ہوٹل، رہائشی اپارٹمنٹس، ایئرپورٹ، اسپتال اور برقی ٹرانسپورٹ نظام بھی قائم کیا جائے گا۔
اگرچہ جعلی ویڈیو نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی مگر اس نے سعودی عرب کے حقیقی وژن کو اجاگر کر دیا ہے، جو 350 میٹر بلند اور 100 میل طویل ایک ایسے شہر پر مشتمل ہے جو اب محض تصور نہیں بلکہ حقیقت کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔