عمران خان کو سیدھا جواب دینا ضروری ہوگیا
تحریر: کنول زہرا
- Advertisement -
سوشل میڈیا وہ حمام ہے جہاں سب ہی بے لباس ہیں, ہم نے ریاست مدینہ کے راگ الاپنے والے عمران خان کی نیم برہنہ تصاویر بھی دیکھی ہیں, ہماری نظر سے خاتون کے ساتھ دوستانہ تیراکی کے مناظر بھی گزرے ہیں, پھر لو چلڈ جیسی بے باکی کی خبریں اور عمران خان کی سیتا وائٹ کے ساتھ دوستی داستانیں بھی سوشل میڈیا کی زینت ہیں, جس کا جواب عمران خان کبھی نہیں دیتے ہیں, یہ ماڈرن عمران خان اب مکمل اسلامی ٹچ کے امین بن گئے ہیں, کبھی امر بالمعروف کی باتیں کرتے ہیں تو کبھی صراط مستقیم کی, کبھی غریب کی روٹی کی باتیں کرتے ہیں مگر جب وزیراعظم بن جاتے ہیں اور ان سے سوال ہوتا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگ خودکشی پر مجبور ہیں تو اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں, ان کے اس جواب پر مجھے پیپلزپاڑتی کے یوسف رضا گیلانی یاد آگئے, جب وہ وزیراعظم تھے اور ان سے بین الاقوامی صحافی نے سوال کیا تھا کہ آپ کے ملک کے نوجوان ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو رہیں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ہاں تو جائیں کس نے روکا ہے? گیلانی صاحب پر تو کھلی تنقید ہوئی تھی مگر خان صاحب پر تنقید نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ وہ ہینڈسم ہیں, وہ جب دل کرتا ہے کسی کے حق میں اور کسی کے خلاف بات کرسکتے ہیں, وہ خود خروف درست اور سچائی کے پیامبر ہیں, ماضی میں فوج کی تعریفوں کے پل باندھنے والے عمران خان نے آج ملک کو بربادی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے, ان کے اس اقدام پر بھارت کی خوشی دیدنی ہے, جو کسی بھی پاکستانی کے لئے باعث شرم ہے, عمران خان نے کچھ ایسی صورتحال پیدا کردی کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈی جی ائی ایس پی آر کے ساتھ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے پریس کانفرنس کی,جس میں انہوں نے اپنے ادارے کے حوالے سے وضاحت کی, حقائق سے پردہ اٹھا اور بہت سی خبروں کی تردید اور کچھ کی تصدیق کی، ارشد شریف کی شہادت اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی افواہوں پر بات ہوئی جبکہ معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ اور یہ وضاحت بھی ہوئی کہ پاک فوج کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم نے متذکرہ پریس کانفرنس میں اپنی موجودگی پر پیدا ہونے والی حیرت کی ازخود وضاحت کی اور بتایا کہ پچھلے سال سے ادارے پر سیاسی مداخلت کیلئے دبائو تھا اور یہ کہ گزشتہ حکومت نے تحریک عدم اعتماد سے پہلے آرمی چیف کو مدت ملازمت میں غیر معینہ مدت کیلئے توسیع کی پیش کش بھی کی تھی جسے آرمی چیف نے مسترد کر دیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے بقول ’’مجھے شعوری احساس ہے کہ آپ لوگ اپنے درمیان دیکھ کر حیران ہیں اور میں آپ کی حیرانی کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں لیکن آج کا دن کچھ مختلف ہے،میں آپ کے پاس اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ اپنے ادارے کیلئے آیا ہوں جس کےافسران اور اہلکار پوری دنیا میں اور پاکستان کے اندر اس ملک کی پہلی دفاعی لائن بن کر چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں لیکن جب انہیں جھوٹ کی بنیاد پر بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو اس ایجنسی اور ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میں خاموش نہیں رہ سکتا۔ جب جھوٹ اتنی آسانی ، روانی اور فراوانی سے یکطرفہ طور پر بولا جائے کہ ملک میں فتنہ و فساد کا خطرہ ہو تو خاموشی بھی اس کیلئے ٹھیک نہیں ہوتی, دنیا بھر میں اصولی طور پر فوج ایک غیر متنازعہ غیر جانبدار ادارہ سمجھا جاتا ہے جو ملکی سیاست سے الگ تھلگ اپنے پیشہ ورانہ فرائض قومی یگانگت سے ادا کرتا ہے تاہم ماضی میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جہاں بھی اس ادارے کو ملکی سیاست میں گھسیٹا گیا اس کے نتائج حکومتوں پر اثر انداز ہوتے دکھائی دیے۔ پاک فوج کی جانب سے بارہا اس بات کا اظہارہوا کہ وہ خود کو ملکی سیاست سے دور رکھے گی اور کسی بھی حکومتی تبدیلی کا حصہ نہیں بنے گی،تاہم عوام اوراس کےمابین عدم اعتماد کے خدشے کو دیکھ کر ان حقائق پر سےپردہ اٹھانا ضروری تھاجنہیں گزشتہ سات آٹھ ماہ سے متنازع بنانے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوشش ہوتی رہی ۔ قومی عسکری ادارے کی طرف سے برملا اعلان کہ یہ صرف وہ کام کرے گا جو قومی امنگوں کا مظہرہو اور اس انداز میں کرے گا جو آئین میں لکھا ہے ، اس سے باہر نہیں جائے گا،اس چشم کشا صورتحال کاتقاضا ہے کہ آئین پاکستان کے منافی یا کسی بھی ایسی بات کا اعادہ نہیں ہونا چاہئے جس سےاداروں کو نقصان اور عوام میں غلط فہمی جنم لے ۔
اب
سوال یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو خود میڈیا کے سامنے کیوں آنا پڑا؟ جبکہ ایک افسر جس نے خود کو اپنی تصویریں شائع کرنے سے بھی منع کیا ہو, یقینا انہوں نے ملک کے حالات دیکھ کر یہ فیصلہ کیا جب ملک کے اندر عوام کے درمیان آرمی سے نفرت کا بازار گرم کیا جا رہا ہو, اپنی ہی فوج کا نام لے کر انہیں شرمندہ کرنے پر تلے ہو, ان لوگوں پر بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہو جو گزشتہ آٹھ ماہ سے صبر کے ساتھ یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ جب جھوٹے اور فرضی بیانات کو اعلیٰ حکام سے جوڑ کر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اس لئے اس خرابی کو روکنے اور امن کو یقینی بنانے کے لئے اس قسم کی پریس کانفرنس کا ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں مگر انتشاری اذہان اس پر بھی ہرزہ سرائی کر رہے ہیں, اگر خدانخواستہ لانگ مارچ میں خونریزی ہوجاتی ہے تو یہ کوکین زدہ زہین اس کی ذمہ داری بھی فوج پر عائد کریں گے, عمران خان کے جھوٹ پر جھوٹ کا پاکستان مزید متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے سیدھا جواب دینا ضروری تھا۔