MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

غریب عوام کا بھرکس نکالنے کی تیاریاں! اکتوبر میں بجلی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

0 55

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز)پاکستان بھر کے بجلی صارفین کو اکتوبر کے مہینے میں بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 1اعشاریہ 98 روپے اضافے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

یہ اضافہ اس وجہ سے ہورہا ہے کہ جولائی کے مہینے میں دی جانے والی منفی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ ختم ہو رہی ہے اور اگست کے مہینے کے لیے مثبت ایڈجسٹمنٹ شامل کی جارہی ہے۔ یہ تفصیلات نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران سامنے آئیں۔

ستمبر میں صارفین کو فی یونٹ 1اعشاریہ 79 روپے کی کمی کا ریلیف دیا گیا تھا جو اکتوبر سے ختم ہوجائے گا۔

اس کے بجائے اگست کے لیے فی یونٹ 0اعشاریہ 19 روپے کا اضافہ شامل کیا جائے گا جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر صارفین کو فی یونٹ 1اعشاریہ 98 روپے زیادہ ادا کرنا ہوں گے۔ پاور ڈویژن کے حکام نے سماعت کے دوران بتایا کہ یہ اضافہ بیشتر صارفین پر لاگو ہوگا۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اپنی درخواست میں وضاحت کی کہ اگست کے لیے بجلی کی پیداواری لاگت فی یونٹ 7اعشاریہ 3149 روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن اصل لاگت فی یونٹ 7اعشاریہ 5059 روپے تک جا پہنچی۔

اس فرق کو پورا کرنے کے لیے فی کلو واٹ آور صفر اعشاریہ 1911 روپے اضافی وصول کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے جس کے نتیجے میں اکتوبر کے بلوں میں 2اعشاریہ 62 ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔

- Advertisement -

سماعت کے دوران صارفین کے نمائندوں نے ٹیکس اور سرچارج کی بھاری شرح پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فی یونٹ 3اعشاریہ 23 روپے کے سرچارج پر مزید صفر اعشاریہ 60 روپے کا جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔

یہ رقم وفاقی حکومت 18 کمرشل بینکوں سے لیے گئے 1,225 ارب روپے کے قرضے اتارنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ایک شریک نمائندے نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سرچارج پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے سے قرضے کی ادائیگی کا دورانیہ چھ سال سے کم ہو کر پانچ سال ہوسکتا ہے۔

ادھر صنعتی صارفین نے شکایت کی کہ وزیرِاعظم کے ریلیف پیکیج کے خاتمے سے پہلے ہی ان کے اخراجات 10 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ صنعت کے لیے بجلی کے نرخ فی یونٹ 29 روپے سے بڑھ کر 35 روپے تک جا پہنچے ہیں حالانکہ حکومت نے پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ صنعت کو فی یونٹ صفر اعشاریہ 09 ڈالر کے حساب سے بجلی فراہم کی جائے گی۔

سی پی پی اے کے حکام نے بتایا کہ اخراجات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ آبی ذخائر سے پانی کی کم فراہمی کے باعث ہائیڈل بجلی کی پیداوار میں کمی ہے۔

اگست میں ہائیڈل بجلی کا حصہ مجموعی توانائی کے حجم میں 38اعشاریہ 8 فیصد رہا، جو مقررہ ہدف 40اعشاریہ 9 فیصد سے کم تھا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مہنگے درآمدی کوئلے اور آر ایل این جی پر انحصار بڑھ گیا۔

سماعت میں اس سوال پر بھی غور کیا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں دی گئی رعایت کا بوجھ کس پر ڈالا جائے گا۔

اس حوالے سے پاور ڈویژن کے حکام نے وضاحت کی کہ ان اخراجات کو وفاقی حکومت برداشت کرے گی اور انہیں دیگر صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.