کوئٹہ (مسائل نیوز) وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبد القدو س بزنجو، صوبائی وزرا سر دار عبد الرحمن کھیتران، نور محمد ڈمڑ، محمد خان لہڑی، میر سکندر علی عمرانی، مشیر وزیر علی ضیا اللہ لانگو، پارلیمانی سیکر ٹریز بشری رند، ماہ جبین شیران نے کراچی یونیورسٹی کے قریب چائینز لینگویج سینٹر کی گاڑی کو خود کش حملے کا نشانہ بنا نے کے افسوسناک واقعہ میں 3چینی اساتذہ اور ڈرائیور کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کی جانب سے خود کش حملے اس واقعہ کا سب سے افسوسناک پہلو تھا جبکہ بلوچ پشتون معاشرے میں خواتین کو عزت و احترم کا مقام حاصل ہے جو قبائلی جنگوں میں امن کے سفیر کی حیثیت سے اپنا کر دار ادا کر تی رہی ہے خواتین کو دہشت گر دی کے لئے استعمال کر نا انتہائی افسوس اور دکھ کا مقام ہے جس کی اجازت نہ تو دنیا کاکوئی مذہب اور نہ ہی معاشرہ دیتا ہے مہمانوں اور اساتذہ کو ہما رے معاشرے اور بلو چستان کی دیرینہ روایات میں بے پناہ اہمیت حاصل ہے کراچی واقعہ کا بظاہر مقصد پاکستان اور چین کی لازوال دوستی کو متاثر کر نا تھا پاکستان کی دشمن قوتیں طویل مدت سے سی پیک منصوبے اور پاک چین اقتصادی اور معا شی تعلقات کوخراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور یہ واقعہ بھی اس سلسلے کی کڑی ہے دہشت گرد ی کے واقعات بلو چستان کے عوام خاص کر بلوچ قوم کو پسماند ہ رکھنے اور دیوارسے لگا نے کی مزموم سازش ہے یہ ایوان کراچی دھماکے اور پاک چین دوستی کے خلاف ہر قسم کی منفی کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور دہشت گر دی کے اس واقعہ میں جان کی بازی ہا رنے والے چینی اساتذہ اور شہید ڈرائیور کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یک یکجہتی کا اظہار کر تے ہوئے یقین دلا تا ہے کہ بلو چستان کے عوام اور یہ منتخب ایوان دکھ کی اس گھڑی میں ان کے سا تھ ہیں یہ ایوان دہشت گردی کی جنگ کے شہدا اور اپنی سیکو رٹی فورسز کو سلام پیش کرتا ہے ہم ہر مر حلہ پر اپنی بہا در سیکورٹی فورسز کے سا تھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں نیزیہ ایوان تمام حل طلب امور کی بات چیت اور افہام وتفہیم کے ذریعہ حل کی ضروت پر بھی زور دیتا ہے۔
- Advertisement -