گورنر پنجاب کیخلاف سنجیدگی سے آرٹیکل 6 کی کارروائی شروع کرنے جا رہے ہیں ؛ عطا تارڑ
لاہور (مسائل نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء عطاء تاڑر نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب کیخلاف سنجیدگی سے آرٹیکل 6 کی کارروائی شروع کرنے جا رہے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کی تشریح کرنا عدالتوں کا کام ہے، اگر گورنرحکم نہیں مان رہے تو کسان ، مزدور بھی نہیں مانے گا ، گورنر پنجاب کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی ہونی چاہیئے اس لیے سنجیدگی سےآئین کےآرٹیکل 6 کی کارروائی شروع کرنے جا رہے ہیں ۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ملک کوتباہی سے بچانےکی ذمہ داری عدالتوں کی ہے، ہم اپنی تیسری درخواست لیکرہائیکورٹ میں موجودہیں ، 28روز ہوچکے پنجاب میں کوئی حکومت ہے نہ کوئی نظام ہے ، عمران خان پنجاب کے عوام سےانتقام لے رہےہیں، جب بھی عدالتوں سے رجوع کیا اپنی گزارشات عدالت کے سامنے رکھیں ، اب بھی وقت ہےہوش کے ناخن لیں، ہم اپنا آئینی و قانونی حق لینے آئے ہیں، عیدآرہی ہے،بڑےبڑےاجتماعات ہوں گے، صوبے میں اگرکچھ ہوا تو ذمہ دار گورنر پنجاب ہوں گے۔
- Advertisement -
ادھر وفاقی حکومت نے آئین شکنی پر عمران خان حکومت کی اہم شخصیات کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ، ریفرنس کے لیے عدالتی احکامات اور عدالتی نظائر بھی طلب کیے گئے ہیں ، جن کو شواہد کے طور پر ریفرنس کے ساتھ منسلک کیا جائے گا ، دنیا نیوز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صدر پاکستان عارف علوی، سابق وزیراعظم عمران خان ، سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری ، گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا ، اس حوالے سے وزرات قانون و انصاف اور وزرات داخلہ نے ریفرنس کی تیاری شروع کر دی ہے ، بیانات اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کا ریکارڈ حاصل کرنے کے عمل کا آغاز کردیا گیا۔
حکومت کا موقف ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے عمل میں واضح آئین شکنی کی گئی ، صدر عارف علوی، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے عمران خان کے ایماء پر آئین شکنی کی اور دستور کوسبوتاز کیا ، اسی طرح پنجاب اسمبلی میں بھی آئینی عمل کو سبوتاژ کیا گیا اور گورنر نے آئین شکنی کی ، صدر پاکستان عارف علوی نے پارٹی چئیرمن عمران خان کے حکم پر آئین قربان کر دیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قانون کے تحت آرٹیکل 6 کی کارروائی کرنے کی مجاز وفاقی حکومت ہے ، قانون کے تحت وفاقی حکومت ریفرنس تیار کر کے دائر کرتی ہے ، ریفرنس کے لیے عدالتی احکامات اور عدالتی نظائر بھی طلب کیے گئے ہیں ، جن کو شواہد کے طور پر ریفرنس کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔