اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی محمد خان نے مسجدِ نبوی ﷺ واقعے کی شدید مذمت کردی ۔ تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ عوامی ردِ عمل تھا لیکن مسجدِ نبویﷺ کا احترام ہر صورت میں ہر حال میں مقدم ہے ، مسجدِ نبوی ﷺ یا اس کے احاطے میں کسی بھی صورت نعرے بازی مناسب نہیں۔
سابق وزیر مملکت نے کہا کہ مسجد نبوی ﷺ کے احاطے میں نعرے بازی آداب کے خلاف اور سخت منع ہے ، ہزار سیاسی اختلاف ہو لیکن اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے، نہ ہی سیاسی اختلاف دشمنی میں بدلے۔ خیال رہے کہ مسجد نبویﷺ میں وزیراعظم شہبازشریف اور حکومتی وفد کو دیکھ کر پی ٹی آئی کارکنان نے خوب نعرے بازی کی ، کارکنان کی بڑی تعداد نے حکومتی وفد کا پیچھا کیا، غدارغدار، چور چور کے نعرے لگائے، وزیراعظم اوروفد کے ارکان کوسکیورٹی گارڈ زنے گھیرے میں لیے رکھا۔
- Advertisement -
اے آروائی نیوز کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنان نے مسجد نبویﷺ کے تقدس اور احترام کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا، وزیراعظم شہبازشریف اور حکومتی وفد مسجد نبویﷺ پہنچا تو پی ٹی آئی کارکنان نے نعرے بازی کی ، پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد نے حکومتی وفد کا پیچھا کیااور غدارغدار، چور چور کے نعرے لگائے، وزیراعظم شہبازشریف کی گاڑی کو لوگوں نے گھیرے میں لیے رکھا، شاہ زین بگٹی اور مریم اورنگزیب بھی گارڈ کے گھیرے میں رہے۔
وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ معاشرے کی تباہی ہے، میں اس شخص کا نام اس پاک زمین پر نہیں لینا چاہتی، اس پاک زمین کو سیاست کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہتی، انہوں نے جو اس معاشرے میں تباہی کی وہ آج آپ کے سامنے ہے، بہت سا ایسا معاشرے کا حصہ اور طبقہ موجود ہے جو ان روایات کو برقرار رکھ رہا ہے، وقت لگے گا لیکن یہ رویے ہمارے مثبت رویوں سے تبدیل ہوں گے، ہمارے کارکن بھی یہاں ہیں لیکن انہیں ہدایت کی گئی کہ ایسا رویہ نہ اپنایا جائے۔