کوئٹہ میں شور کی آلودگی: لاوڈ اسپیکر بنام شہری سکون
تحریر: میروائس مشوانی
کوئٹہ شہر جو پہلے ہی بدامنی، ٹریفک جام اور بنیادی سہولیت کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے، اب ایک اور خاموش مگر خطرناک مسئلے کی لپیٹ میں آ چکا ہے—شور کی آلودگی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں فروٹ فروش اور سبزی فروش لاوڈ اسپیکرز کے بے دریغ استعمال کے ذریعے نہ صرف شہریوں کے سکون کو برباد کر رہے ہیں بلکہ مریضوں، ضیف العمر افراد اور بچوں کے لیے اذیت کا سبب بھی بن رہے ہیں۔
گلی محلوں، رہائشی علاقوں اور حتیٰ کہ ہسپتالوں کے اطراف بھی بلند آواز میں چلنے والے لاوڈ اسپیکرز اس بات کا ثبوت ہیں کہ نہ تو کوئی ضابطہ نافذ ہے اور نہ ہی قانون کا خوف باقی رہا ہے۔ دن کے اوقات میں تو یہ شور ناقابلِ برداشت ہوتا ہی ہے، مگر صبح سویرے اور شام کے اوقات میں یہ اذیت مزید بڑھ جاتی ہے، جب لوگ آرام یا عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق مسلسل شور ذہنی دباؤ، بلڈ پریشر، نیند کی کمی اور اعصابی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا فروٹ بیچنے کے لیے شہریوں کی صحت کو داؤ پر لگانا جائز ہے؟ کیا روزگار کے نام پر قانون شکنی کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
- Advertisement -
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ شور کی آلودگی کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اگر لاوڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر مذہبی یا سیاسی اجتماعات کے لیے پابندیاں ہو سکتی ہیں تو پھر تجارتی مقاصد کے لیے یہ کھلی چھوٹ کیوں؟
حکومتِ بلوچستان اور پولیس حکام سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں، رہائشی علاقوں میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور ضبطی جیسی سخت کارروائیاں عمل میں لائیں۔ ساتھ ہی شہریوں میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ کاروبار بھی چلے اور عوام کا سکون بھی برقرار رہے۔
اگر آج اس مسئلے کو نظرانداز کیا گیا تو کل کو شور کی یہ آلودگی ایک بڑے صحت کے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ کوئٹہ کے شہری سکون کے حقدار ہیں—اور سکون کوئی عیاشی نہیں، بلکہ بنیادی حق ہے۔